Iran پر اب تک کے شدید ترین حملے، انکا جواب اور مارکیٹ کا ردعمل
Trump Predicts Quick End to War but Threat to Crude Oil Supply Keeps Oil Market Volatile
منگل کا دن مشرق وسطیٰ کی حالیہ تاریخ کا ایک ہولناک دن ثابت ہوا. جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندرونی حصوں پر اب تک کے سب سے شدید فضائی حملے (Airstrikes) کیے۔ پینٹاگون اور تہران کے مکینوں نے ان حملوں کو "جہنم” سے تشبیہ دی ہے. لیکن حیران کن طور پر عالمی مالیاتی منڈیوں (Global Financial Markets) کا ردعمل کچھ مختلف رہا۔
جہاں ایک طرف ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے خلیج فارس سے تیل کی سپلائی روکنے کی دھمکی دی ہے. وہیں دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے سرمایہ کاروں کو یہ امید دلا دی ہے. کہ یہ تنازعہ جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔ اس آرٹیکل میں ہم ان حملوں کے جغرافیائی و سیاسی (Geopolitical) اثرات اور مارکیٹ کی نفسیات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
اہم نکات (Key Highlights)
-
امریکہ اور اسرائیل نے Iran پر اپنی تاریخ کے شدید ترین حملے کیے. جس میں تہران اور دیگر اہم شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
-
ایران نے جوابی کارروائی میں قطر، عراق، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
-
صدر ٹرمپ کے "جنگ جلد ختم ہونے” کے دعوے کے بعد برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمتیں $120 سے گر کر $90 سے نیچے آ گئیں۔
-
پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بلاک کرنے کی دھمکی دی ہے. جو عالمی تیل کی تجارت کا اہم ترین راستہ ہے۔
-
مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کی دی گئی "ڈیڈ لائن” سے پہلے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کی شدت میں اضافہ.
حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے فوجی ڈھانچے اور قیادت کو کمزور کرنا ہے۔ 28 فروری سے جاری ان حملوں کا مقصد ایران کو اپنی قیادت کی تبدیلی پر مجبور کرنا ہے. جبکہ ایران نے نومنتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی سربراہی میں جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ مارکیٹ اس صورتحال کو "سپلائی شاک” (Supply Shock) کے طور پر دیکھ رہی تھی. لیکن سیاسی بیانات نے غیر یقینی صورتحال (Uncertainty) کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔
تہران میں "جہنم کا منظر” اور زمینی حقائق
منگل کی رات تہران کے شہریوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، بمباری اتنی شدید تھی کہ پورا شہر لرز اٹھا۔ رہائشی عمارتوں اور تجارتی مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے. اور اب تک 1300 سے زائد ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) نے واضح کیا. کہ یہ حملے اب تک کے سب سے زیادہ منظم اور شدید تھے۔ ان حملوں میں جدید ترین انٹیلیجنس اور بمبار طیاروں کا استعمال کیا گیا. تاکہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا سکے۔
بطور ایک ٹریڈر، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں "شدید ترین حملوں” کی خبریں آتی ہیں. عام طور پر گولڈ (Gold) اور آئل (Oil) میں ایک دم تیزی (Spike) آتی ہے۔ لیکن 2024 اور 2026 کے ان ادوار میں ہم نے دیکھا. کہ مارکیٹ اب صرف خبر پر نہیں بلکہ "ایگزٹ اسٹریٹیجی” (Exit Strategy) پر نظر رکھتی ہے۔ جب ٹرمپ نے "مکمل تباہی” کا ذکر کیا، تو مارکیٹس نے اسے جنگ کے خاتمے کی تمہید سمجھا نہ کہ طوالت کی۔
آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت پر اثرات
Iran کے پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر حملے نہ رکے تو وہ خلیج سے تیل کی ترسیل روک دیں گے۔ عالمی معیشت کے لیے یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے. کیونکہ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ (Volatility in Oil Prices)
پیر کے روز تیل کی قیمتیں $120 فی بیرل تک جا پہنچی تھیں. لیکن منگل کو ٹرمپ کے بیانات کے بعد ان میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
| اثاثہ (Asset) | پیر کی قیمت | منگل کی قیمت | تبدیلی |
| برینٹ کروڈ (Brent Crude) | $120 | $89 | -25% |
| وال اسٹریٹ (Wall Street) | مندی | بحالی | مثبت |
| سونا (Gold) | ریکارڈ بلندی | مستحکم | معمولی کمی |
کیا ڈونلڈ ٹرمپ واقعی جنگ ختم کر سکتے ہیں؟
سرمایہ کاروں کا ایک بڑا طبقہ صدر ٹرمپ کے بیانات پر بھروسہ کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے 10 مائن بچھانے والے بحری جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں. اور جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ White House کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی فوجی اہداف حاصل ہو جائیں گے. پٹرول اور گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔
تاہم، اسرائیل کے وزیر خارجہ گائیڈن سار (Gideon Saar) کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے. کہ اسرائیل اس وقت تک نہیں رکے گا. جب تک وہ اپنے اسٹریٹجک اہداف (Strategic Goals) حاصل نہیں کر لیتا۔ اسرائیل اس "ونڈو” کا فائدہ اٹھا رہا ہے. جو اسے ٹرمپ کی ممکنہ مداخلت سے پہلے میسر ہے۔
Iran کا جوابی وار اور علاقائی پھیلاؤ
Iran نے صرف دفاع پر اکتفا نہیں کیا بلکہ قطر، بحرین، عراق اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات پر میزائل داغے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اس جنگ کو علاقائی سطح پر پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جوابی حملوں کی تفصیل:
-
قطر: العدید بیس (Al Udeid Base) پر میزائل حملے۔
-
عراق: الحریر بیس (Al Harir Base) کو نشانہ بنایا گیا۔
-
بحرین: امریکی بحری اڈے (Juffair Naval Base) پر ڈرون حملے۔
-
اسرائیل: وسطی اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھاڑ، جسے دفاعی نظام نے ناکام بنانے کی کوشش کی۔ تاہم صیہونی ریاست کے بن گوریاں ایئر پورٹ پر اب سے تھوڑی دائر قبل ہونیوالے حملے میں آگ بھڑک اٹھی ہے.
- متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں بشمول فجیرہ اور دبئی پر 9 میزائل حملے کئے گئے ہیں.
ٹریڈرز کے لیے حکمتِ عملی (Trading Strategy & Insights)
ایسے حالات میں جہاں ایک طرف جنگ کی شدت بڑھ رہی ہو اور دوسری طرف مارکیٹ مثبت اشارے دے رہی ہو. ٹریڈرز کو "سینٹیمنٹ انالیسس” (Sentiment Analysis) پر توجہ دینی چاہیے۔
-
تیل (Oil): قیمتوں میں کمی عارضی ہو سکتی ہے اگر آبنائے ہرمز میں کوئی بڑا حادثہ پیش آ گیا۔ اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں۔
-
اسٹاک مارکیٹ: عالمی اسٹاک مارکیٹس (Stock Markets) میں بحالی اس امید پر ہے کہ جنگ طویل نہیں ہوگی۔ لیکن کسی بھی بڑے ایرانی جوابی حملے کی صورت میں دوبارہ مندی آ سکتی ہے۔
-
محفوظ پناہ گاہیں (Safe Havens): امریکی ڈالر اور سونا اب بھی طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہیں۔
میری دس سالہ ٹریڈنگ ہسٹری میں، میں نے دیکھا ہے کہ "مارکیٹ افواہ پر خریدتی ہے. اور خبر پر بیچتی ہے” (Buy the rumor, sell the news)۔ یہاں "خبر” جنگ کا خاتمہ ہے. جس کی قیمت مارکیٹ پہلے ہی لگانا شروع کر چکی ہے۔ لیکن ہوشیار رہیں. کیونکہ جغرافیائی سیاست میں ایک غلط میزائل پوری مارکیٹ کا رخ بدل سکتا ہے۔
مستقبل کی پیش گوئی: کیا جنگ بندی قریب ہے؟
اگرچہ ٹرمپ پرامید ہیں، لیکن Iran کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے. کہ وہ جنگ بندی کے بجائے "جارح کے منہ پر زوردار طمانچہ” مارنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایران اپنی قیادت کی تبدیلی کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
دوسری جانب، امریکی کانگریس سے مزید $50 بلین کے فنڈز کی درخواست یہ ظاہر کرتی ہے. کہ امریکہ طویل تنازعے کے لیے بھی تیار ہے۔ پہلے دو دنوں میں ہی $5.6 بلین کا اسلحہ استعمال ہونا اس جنگ کی سنگینی کو بیان کرتا ہے۔
اختتامیہ.
مشرق وسطیٰ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ جہاں ایک طرف تباہی کے بادل گہرے ہیں. وہیں مارکیٹ کی نظریں صدر ٹرمپ کی "ڈیل سازی” (Deal-making) کی صلاحیت پر لگی ہوئی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ صرف جذباتی سرخیاں نہ دیکھیں. بلکہ مارکیٹ کے بنیادی اعداد و شمار (Fundamentals) اور سپلائی چین کے خطرات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کریں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ٹرمپ چار ہفتوں کے اندر اس جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے. یا Iran کی مزاحمت عالمی معیشت کو ایک نئے بحران میں دھکیل دے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



