ایران امریکہ کشیدگی اور عالمی معیشت: کیا Strait of Hormuz کی بندش عالمی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟

Rising Iran-US Tensions Could Trigger Energy Market Shockwaves

فروری 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹیکل صورتحال ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے. جہاں معمولی سی لغزش بھی عالمی معیشت کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے خلیج فارس میں اپنی عسکری موجودگی (Military Presence) میں حالیہ اضافے اور ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز Strait of Hormuz کو بند کرنے کی دھمکیوں نے عالمی مارکیٹ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

9 فروری 2026 کو امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ہدایت نامہ، جس میں تجارتی جہازوں کو ایرانی حدود سے دور رہنے کا کہا گیا ہے. اس بات کا واضح ثبوت ہے. کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی برف پگھلنے کے بجائے مزید سخت ہو رہی ہے۔

عالمی مارکیٹس کے ایک ٹریڈر کے طور پر، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ محض دو ممالک کا تنازع نہیں. بلکہ ایک ایسا معاشی طوفان ہے جو سپلائی چین (Supply Chain) کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • توانائی کا اہم راستہ: دنیا کے کل Crude Oil کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے. اس کی بندش سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

  • جغرافیائی اہمیت: یہ راستہ اپنے تنگ ترین مقام پر صرف 40 کلومیٹر چوڑا ہے. جس کی وجہ سے اسے بلاک کرنا عسکری طور پر ممکن ہے۔

  • ایشیا پر اثرات: چین، بھارت، پاکستان، جاپان اور جنوبی کوریا اس راستے پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں. لہٰذا بندش سے ایشیائی معیشتیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

  • متبادل راستوں کی کمی: اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس کچھ پائپ لائنز موجود ہیں. لیکن وہ آبنائے ہرمز کے مکمل متبادل کے طور پر ناکافی ہیں۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

 آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک تزویراتی (Strategic) راستہ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ علاوہ ازیں ایشیا اور یورپ کے درمیان عالمی تجارت کا پندرہ فیصد حصّہ بھی اسی راستے سے ٹریڈ کیا جاتا ہے.   یہ راستہ عالمی توانائی کی سلامتی (Energy Security) کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

جغرافیائی طور پر یہ مقام ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ اگرچہ اس کی مجموعی چوڑائی کچھ مقامات پر زیادہ ہے. لیکن بڑے آئل ٹینکرز کے گزرنے کے لیے صرف 10 کلومیٹر چوڑا جہاز رانی کا راستہ (Shipping Lane) دستیاب ہے۔ مالیاتی نقطہ نظر سے، یہاں سے سالانہ 600 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی توانائی کی تجارت ہوتی ہے۔

اپنے دس سالہ ٹریڈنگ کے سفر کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی Strait of Hormuz میں کشیدگی کی معمولی خبر بھی آتی ہے. تو خام تیل (WTI/Brent) کے فیوچرز میں فوری طور پر "Risk Premium” شامل ہو جاتا ہے. جس سے قیمتیں چند منٹوں میں 2 سے 3 فیصد تک بڑھ جاتی ہیں۔.

ایران آبنائے ہرمز کو کیسے بند کر سکتا ہے؟

کیا ایران کے پاس واقعی یہ صلاحیت ہے کہ وہ اس عالمی راستے کو بلاک کر دے؟

ماہرین کے مطابق ایران مکمل بندش کے بجائے "مرحلہ وار مداخلت” (Gradual Interruption) کی حکمت عملی اپنا سکتا ہے. جس میں بحری بارودی سرنگیں (Naval Mines)، ڈرونز، اور تیز رفتار کشتیوں کا استعمال شامل ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ایسی سینکڑوں چھوٹی کشتیاں موجود ہیں. جو اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہیں۔ ماضی میں "ٹینکر وار” (1980-1988) کے دوران ہم دیکھ چکے ہیں. کہ کس طرح بارودی سرنگوں نے امریکی بحریہ کے جہازوں تک کو نقصان پہنچایا تھا۔

  • معائنہ اور ضبطی: ایران تجارتی جہازوں کو معائنے کے بہانے روک سکتا ہے۔

  • بحری بارودی سرنگیں: یہ سب سے سستا اور مؤثر طریقہ ہے. جس سے انشورنس پریمیم (Insurance Premium) میں اتنا اضافہ ہو جاتا ہے. کہ جہاز رانی کمپنیاں خود ہی اس راستے کا استعمال ترک کر دیتی ہیں۔

  • میزائل حملے: ساحل پر نصب میزائل سسٹم کسی بھی بڑے ٹینکر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

عالمی معیشت پر اثرات: اگر Strait of Hormuz کا راستہ بند ہو گیا تو کیا ہوگا؟

اگر یہ راستہ صرف چند ہفتوں کے لیے بھی بند ہو جائے تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں. جو براہ راست عالمی کساد بازاری (Global Recession) کا سبب بنے گا۔

1. توانائی کا بحران (Energy Crisis)

دنیا کا 20 فیصد خام تیل اور قطر کی مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یورپ، جو پہلے ہی یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے مسائل کا شکار ہے، اس بندش سے بری طرح متاثر ہوگا۔

2. ایشیائی معیشتوں پر ضرب

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے 2024 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس راستے سے گزرنے والے تیل کا 84 فیصد ایشیائی ممالک (چین، پاکستان، بھارت، جاپان) کو جاتا ہے۔ چین، جو ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے. اس بندش سے سب سے زیادہ معاشی نقصان اٹھائے گا۔

3. شپنگ اور انشورنس لاگت میں اضافہ

جب کسی خطے کو "وار زون” قرار دیا جاتا ہے، تو جہازوں کی انشورنس کی قیمتیں کئی سو گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اس کا بوجھ براہ راست صارفین پر پڑتا ہے، جس سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

ملک / خطہ انحصار کی سطح ممکنہ اثر
چین بہت زیادہ (90% ایرانی تیل کا خریدار) صنعتی پیداوار میں کمی
بھارت زیادہ پیٹرولیم قیمتوں میں شدید اضافہ
امریکہ کم (صرف 7% درآمدات) عالمی قیمتوں کی وجہ سے بالواسطہ اثر
یورپ درمیانہ گیس کی قلت اور بجلی کے بحران کا خدشہ

کیا کوئی متبادل موجود ہے؟ (Bypassing the Strait)

اگرچہ خلیجی ممالک نے متبادل پائپ لائنز پر سرمایہ کاری کی ہے. لیکن وہ Strait of Hormuz سے گزرنے والے کل حجم کا محض ایک چھوٹا حصہ ہی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

  • سعودی عرب (East-West Pipeline): یہ پائپ لائن تیل کو بحیرہ احمر (Red Sea) تک لے جا سکتی ہے. لیکن اس کی گنجائش محدود ہے۔

  • متحدہ عرب امارات (Habshan–Fujairah Pipeline): یہ 1.5 ملین بیرل یومیہ منتقل کر سکتی ہے. جو کہ مجموعی ضرورت کا بہت کم حصہ ہے۔

  • ایران (Goreh-Jask Pipeline): دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے خود بھی ایک پائپ لائن بنائی ہے. تاکہ وہ آبنائے ہرمز سے باہر تیل برآمد کر سکے، لیکن یہ ابھی مکمل فعال نہیں ہے۔

مالیاتی تجزیہ کار کے طور پر میرا مشاہدہ ہے کہ مارکیٹ متبادل راستوں کو "بیک اپ پلان” تو مانتی ہے. لیکن "حل” نہیں۔ جب تک ٹینکرز ہرمز سے نہیں گزرتے، سپلائی ڈیفیسٹ (Supply Deficit) کا خوف مارکیٹ سے ختم نہیں ہوتا۔

تاریخی تناظر: ماضی کی کشیدگی سے سیکھے گئے اسباق

تاریخ گواہ ہے کہ Strait of Hormuz ہمیشہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان "شطرنج کی بساط” رہا ہے۔ 1988 میں امریکی بحریہ کی کارروائی ہو یا 2012 میں پابندیوں کے جواب میں ایرانی دھمکیاں. ہر بار مارکیٹ نے شدید ردعمل دیا ہے۔ تاہم، ہر بار سفارت کاری نے جنگ کو روکا ہے۔ لیکن 2026 کے حالات مختلف ہیں کیونکہ اب ٹیکنالوجی اور ڈرون وارفیئر نے خطرے کی نوعیت بدل دی ہے۔

مستقبل کی پیش گوئی (Strategic Conclusion)

Strait of Hormuz کی بندش ایک ایسا "ایٹمی معاشی آپشن” ہے. جسے ایران صرف اس صورت میں استعمال کرے گا جب اس کا اپنا وجود خطرے میں ہو۔ ایران جانتا ہے کہ اس راستے کو بند کرنے سے اس کے اپنے اتحادی (خصوصاً پاکستان روس اور چین) ناراض ہوں گے۔

ایک سرمایہ کار (Investor) کے طور پر، آپ کو جیو پولیٹیکل رسک (Geopolitical Risk) کو اپنے پورٹ فولیو میں شامل رکھنا چاہیے۔ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو سونے (Gold) اور توانائی کے اسٹاکس میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ ایشیائی کرنسیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا امریکہ اور ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئیں گے یا 2026 عالمی معیشت کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوگا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

 

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button