تیل پر کنٹرول کی عالمی جنگ: Donald Trump کا Iranian Oil پر قبضے کا بیان.

Rising Middle East tensions and oil geopolitics trigger volatility in energy and financial markets

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی فنانشل مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا ہے. کہ امریکہ Iranian Crude Oil قبضہ کر سکتا ہے. اور خاص طور پر "خارگ آئی لینڈ” (Kharg Island) کو نشانہ بنانا بہت آسان ہے۔

اس صورتحال میں US-Iran Geopolitical Conflict and Global Oil Market Impact کو سمجھنا ہر اس ٹریڈر کے لیے ضروری ہے جو خام تیل (Crude Oil) یا گولڈ (Gold) میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

خلاصہ.

  • صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایرانی برآمدات کے مرکز "خارگ آئی لینڈ” پر آسانی سے قبضہ کر سکتا ہے. جس کا مقصد ایران کی معاشی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔

  • حوثی باغیوں کی اسرائیل پر حملوں میں شمولیت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں تجارتی راستوں کی بندش سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات (Indirect Talks) جاری ہیں. جو کسی بڑے معاہدے یا مکمل جنگ کے درمیان ایک باریک لکیر کا کام کر رہے ہیں۔

  • ایران میں ممکنہ "رجیم چینج” (Regime Change) اور ایٹمی تنصیبات پر حملوں کی خبروں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال (Uncertainty) پیدا کر دی ہے۔

کیا امریکہ واقعی Iranian Crude Oil اور خارگ آئی لینڈ پر قبضہ کر سکتا ہے؟

خارگ آئی لینڈ ایران کی خام تیل کی برآمدات کا سب سے بڑا ٹرمینل ہے. جہاں سے تقریباً 90 فیصد Iranian Crude Oil تیل عالمی مارکیٹس میں جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ وہاں کوئی دفاع (Defense) نہیں ہے. مارکیٹ کے لیے ایک "سپلائی شاک” (Supply Shock) کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس مقام پر فوجی کارروائی ہوتی ہے. تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں راتوں رات آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

ایک سینئر ٹریڈر کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں "سپلائی روٹس” پر حملے کی بات ہوتی ہے. تو مارکیٹ میں ‘Fear Index’ تیزی سے اوپر جاتا ہے۔ 2019 میں جب آرامکو پر حملہ ہوا تھا، تو قیمتوں میں جو گیپ (Gap) آیا تھا. موجودہ حالات اس سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں. کیونکہ یہاں براہِ راست قبضے کی بات ہو رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا پھیلاؤ اور عالمی تجارت

 یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کر کے جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ باب المندب (Bab el-Mandeb Strait) سے دنیا کی 12 فیصد تجارت گزرتی ہے۔ اگر حوثی اس راستے کو بلاک کرتے ہیں. تو صرف تیل ہی نہیں. بلکہ عام اشیاء کی قیمتوں میں بھی افراط زر (Inflation) کا طوفان آ سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا لبنان میں زمینی کارروائی کا پھیلاؤ اور تہران کے بجلی کے ڈھانچے (Infrastructure) پر حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تنازع اب صرف غزہ تک محدود نہیں رہا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال "سیف ہیون” (Safe Haven) اثاثوں جیسے سونے (Gold) کی طلب میں اضافہ کرے گی۔

پاکستان کا کردار اور سفارتی مذاکرات کی اہمیت

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیان کہ امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے. ایک مثبت مگر پیچیدہ پیش رفت ہے۔

  • پاکستان کے جھنڈے والے ٹینکرز: ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والے پاکستانی ٹینکرز کی تعداد 20 کر دی ہے. جو ایک تزویراتی (strategic) رعایت ہے۔

  • پسِ پردہ مذاکرات (Indirect Talks): ٹرمپ کا یہ کہنا کہ مذاکرات "بہت اچھے” جا رہے ہیں. مارکیٹ کو یہ اشارہ دیتا ہے. کہ شاید ایک بڑا فوجی ٹکراؤ ٹل جائے اور کوئی نیا "نیوکلیئر ڈیل” یا معاشی معاہدہ سامنے آئے۔

کیا ٹرمپ ایران میں ‘رجیم چینج’ (Regime Change) چاہتے ہیں؟

ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا کہ وہ جن لوگوں سے اب ڈیل کر رہے ہیں وہ پہلے والوں سے مختلف ہیں. اور وہ اسے "رجیم چینج” کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مالیاتی منڈیوں (Financial Markets) کے لیے "رجیم چینج” کا مطلب طویل مدتی پالیسی میں تبدیلی ہے۔ اگر ایران میں حکومت بدلتی ہے یا پالیسی نرم ہوتی ہے. تو ایرانی تیل پر لگی پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں. جس سے مارکیٹ میں تیل کی بھرمار ہو جائے گی اور قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں۔

لیکن دوسری طرف، وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کہ امریکہ ایران کا یورینیم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن پر غور کر رہا ہے. ایک انتہائی پر خطر (High-Risk) قدم ہے۔ ایسی کسی بھی مہم جوئی کا مطلب عالمی معیشت کا جمود (Recession) کی طرف جانا ہو سکتا ہے۔

حرف آخر.

صدر ٹرمپ کے بیانات اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم ایک انتہائی غیر مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ US-Iran Geopolitical Conflict and Global Oil Market Impact اب صرف ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ ایک معاشی حقیقت بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف فوجی کارروائی کے بادل منڈلا رہے ہیں، وہی دوسری طرف پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی امید بھی موجود ہے۔

بطور تجربہ کار تجزیہ کار، میرا مشورہ ہے کہ اس دوران "اسٹاپ لاس” (Stop-Loss) کا استعمال لازمی کریں، کیونکہ اس طرح کی خبروں پر مارکیٹ کسی بھی وقت 500 سے 1000 پپس کی موومنٹ دے سکتی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ٹرمپ واقعی Iranian Crude Oil پر قبضہ کر سکیں گے. یا یہ صرف مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button