ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا موقع‘ اور عالمی مارکیٹس پر اس کے اثرات

Conflicting US-Iran Signals Shake Investor Confidence and Energy Prices

جب بھی مشرقِ وسطیٰ (Middle East) میں تناؤ بڑھتا ہے، عالمی مارکیٹس (Global Financial Markets) اور بالخصوص خام تیل (Crude Oil) اور سونے کی قیمتیں سب سے پہلے ردعمل دیتی ہیں۔ War on Iran شروع ہونے کے بعد گزشتہ روز امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایران کو "امن کا ایک اور موقع” دینے کے بیان اور اس کے بعد تہران کی جانب سے مذاکرات کی تردید نے جیو پولیٹیکل منظرنامے (Geopolitical Landscape) میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔

ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے "کامیاب آپریشنز” اور پسِ پردہ مذاکرات کے دعوے ہیں. تو دوسری جانب ایران ان خبروں کو محض پروپیگنڈا قرار دے رہا ہے۔

ایک سینئر فنانشل مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ تضادات محض سیاسی بیانات نہیں ہیں. بلکہ ان کے پیچھے معاشی مفادات اور مارکیٹ کی نفسیات (Market Psychology) کارفرما ہے۔ اس بلاگ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے کہ ان واقعات کا عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور ٹریڈرز (Traders) پر کیا اثر پڑے گا۔

اہم نکات.

  • سیاسی تضاد: صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ "تعمیری بات چیت” کا دعویٰ کیا ہے. جبکہ ایران نے کسی بھی قسم کے رابطے کی سختی سے تردید کی ہے۔

  • اقتصادی اہداف پر حملے: جنگ کا دائرہ کار فوجی اڈوں سے نکل کر اب توانائی کے مراکز اور گیس فیلڈز (Gas Fields) تک پھیل رہا ہے. جو سپلائی چین کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ: تہران کے مطابق، مذاکرات کی "جعلی خبریں” جان بوجھ کر تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔

  • اسرائیل کا سخت موقف: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے. کہ وہ فوجی اور جوہری اہداف پر حملے جاری رکھیں گے تاکہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔

Donald Trump اور ایران کے درمیان مذاکرات کی حقیقت کیا ہے؟

امریکی صدر Donald Trump کا دعویٰ ہے کہ جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف جیسے ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ پسِ پردہ مثبت بات چیت ہوئی ہے. اور انہوں نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے (Energy Infrastructure) پر حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، تہران نے ان مذاکرات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے مارکیٹ میں ہیرا پھیری (Market Manipulation) کی کوشش قرار دیا ہے۔

امریکہ سے آنے والی رپورٹس کے مطابق اتوار کی رات خفیہ مذاکرات ہوئے. جس میں ٹرمپ کے قریبی ساتھی شامل تھے۔ مزید برآں، یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ Egypt، Turkey اور Pakistan جیسے ممالک اس سفارتی عمل میں بطور ثالث (Facilitators) کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا. کہ یہ "فیک نیوز” محض Oil Markets میں مصنوعی استحکام پیدا کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہیں۔

یہاں میں اپنے ٹریڈنگ کے تجربے سے ایک بات بتاؤں۔ جب بھی مارکیٹ میں سپلائی کے بڑے خطرات پیدا ہوتے ہیں. تو بڑے کھلاڑی اور حکومتیں اکثر زبانی مداخلت (Verbal Intervention) کرتی ہیں تاکہ قیمتوں میں یکدم آنے والے اچھال کو روکا جا سکے۔ 2008 اور 2019 کے بحرانوں کے دوران بھی ہم نے دیکھا کہ جب اصل سپلائی متاثر ہو رہی تھی. تو سفارتی بیانات کے ذریعے مارکیٹ کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی گئی۔

کیا War on Iran کے نئے اہداف عالمی معیشت کو ہلا رہے ہیں؟

روایتی فوجی اہداف کے برعکس، اب جنگ کا رخ اقتصادی اور توانائی کے مراکز کی طرف موڑ دیا گیا ہے. جیسے کہ جنوبی پارس گیس فیلڈز پر حملے۔ یہ حکمتِ عملی براہِ راست عالمی سپلائی چین (Supply Chain) کو متاثر کر رہی ہے. جس سے افراطِ زر (Inflation) بڑھنے اور توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عرب اور مسلم ممالک نے حال ہی میں ریاض میں ہونے والے اجلاس میں ایران کے جارحانہ اقدامات کی مذمت تو کی. لیکن ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے ایران کی گیس اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

جب جنگ محض فوجی بیرکوں تک محدود ہو، تو مارکیٹ اسے برداشت کر لیتی ہے۔ لیکن جب بات تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں (refineries) اور گیس پلانٹس تک پہنچتی ہے. تو عالمی افراطِ زر کا جن بوتل سے باہر آ جاتا ہے۔ ٹریڈرز کو اس وقت بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے. کیونکہ کموڈٹی مارکیٹ (Commodity Market) میں کسی بھی وقت سپلائی کا جھٹکا لگ سکتا ہے۔

اقتصادی اہداف اور ان کے مارکیٹ پر ممکنہ اثرات

ٹارگٹ یا واقعہ مارکیٹ کا ممکنہ ردعمل ٹریڈرز کے لیے حکمتِ عملی (Trading Strategy)
توانائی کی تنصیبات پر حملے تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ سٹاپ لاس (stop loss) کے ساتھ محفوظ بائی پوزیشنز
مذاکرات کی افواہیں یا خبریں قیمتوں میں عارضی کمی یا مندی (correction) جذباتی ٹریڈنگ سے گریز، بریک آؤٹ کا انتظار
جوہری تنصیبات کو خطرہ سونے (Gold) کی قیمتوں میں اضافہ (Safe-haven asset) پورٹ فولیو میں سونے کا تناسب بڑھانا

تہران پر نئے فضائی حملے اور دفاعی الرٹ: عالمی مارکیٹس کیسے چلتی ہیں؟

بی بی سی فارسی اور دیگر ذرائع کے مطابق، تہران میں ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں. اور فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) فعال کر دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حملے عین اس وقت کی رپورٹس کے بعد ہو رہے ہیں. جب Donald Trump نے کہا تھا کہ مذاکرات کی وجہ سے وہ حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔

فنانشل مارکیٹس کی تاریخ بتاتی ہے کہ مارکیٹس غیر یقینی صورتحال (Uncertainty) سے سب سے زیادہ نفرت کرتی ہیں۔ اگر امریکہ امن کی بات کر رہا ہے اور دوسری طرف دارالحکومت پر حملے ہو رہے ہیں. تو سرمایہ کار غیر یقینی کا شکار ہو کر پرخطر اثاثوں (Risky assets) جیسے کہ اسٹاک مارکیٹ (Stock Market) سے پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں (Safe Havens) جیسے کہ امریکی ڈالر اور سونے میں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا سخت گیر موقف اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ ان کی Donald Trump سے بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے فوجی آپریشنز War on Iran نے ایران کو کمزور کیا ہے. اور اب اس پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر ایسا معاہدہ کیا جا سکتا ہے جو اسرائیل کے سکیورٹی مفادات کو پورا کرے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام (Nuclear Program) کو تباہ کرنے اور حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچانے کے اپنے ہدف پر قائم ہیں۔ حال ہی میں دو مزید جوہری سائنسدانوں کی ہلاکت کا دعویٰ اس بات کا ثبوت ہے. کہ کشیدگی جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔

طویل مدتی سرمایہ کاروں (Long-Term Investors) کے لیے یہ صورتحال ایک اہم سبق ہے۔ جب جیو پولیٹیکل رسک پریمیم (Risk Premium) مارکیٹ کی قیمتوں میں شامل ہو جاتا ہے، تو اتار چڑھاؤ (Volatility) روز کا معمول بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر وہ ٹریڈرز کامیاب رہتے ہیں. جو ہیجنگ (Hedging) کی تکنیک استعمال کرتے ہیں اور تمام سرمایہ ایک ہی جگہ نہیں لگاتے۔

جیو پولیٹیکل تناؤ کے دوران ٹریڈنگ کے سنہری اصول (Actionable Trading Insights)

اگر آپ عالمی مارکیٹس میں کام کرتے ہیں، تو ایسی پیچیدہ صورتحال میں درج ذیل حکمتِ عملی اپنا سکتے ہیں.

  • خبروں کے ذرائع کی تصدیق کریں: جس طرح ایرانی سپیکر نے کہا کہ خبریں مارکیٹ کو مینیپولیٹ کرنے کے لیے ہیں. ہمیشہ دوطرفہ تصدیق کے بعد ہی پوزیشن لیں۔

  • مارکیٹ سینٹیمنٹ (Market Sentiment) کو سمجھیں: صرف چارٹس پر بھروسہ نہ کریں۔ جب جنگ کی خبریں ہوں، تو فنڈامنٹل انالیسس (Fundamental Analysis) زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔

  • ہیجنگ (Hedging) کا استعمال کریں: اگر آپ کا پورٹ فولیو تیل کی وجہ سے خطرے میں ہے. تو اس کے خطرے کو سونے یا امریکی ڈالر خرید کر کم کریں۔

  • زیادہ لیوریج (High Leverage) سے بچیں: اس طرح کی مارکیٹ میں اچانک بڑے گیپس (Gaps) آ سکتے ہیں. اس لیے کم سے کم لیوریج استعمال کریں۔

مستقبل کا منظرنامہ.

امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی صرف دو ممالک کا سیاسی مسئلہ نہیں ہے. بلکہ یہ عالمی توانائی کی مارکیٹس  (Global Energy Markets) کے استحکام کا محور ہے۔ اگر پسِ پردہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں بڑا ریلیف دیکھنے کو مل سکتا ہے،

لیکن اگر اسرائیل کے حملے جاری رہے اور ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) جیسی اہم تجارتی گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کی، تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔

ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر میرا مشورہ یہ ہے کہ ٹریڈرز جذبات کے بجائے اعداد و شمار، تصدیق شدہ خبروں اور سخت رسک مینجمنٹ (Risk Management) پر توجہ دیں۔ مارکیٹیں ہمیشہ غیر یقینی میں منافع کمانے کا موقع دیتی ہیں. بشرطیکہ آپ کے پاس درست منصوبہ بندی ہو۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا Donald Trump واقعی ایران کے ساتھ کوئی نیا ڈیل یا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. یا War on Iran تیل اور Gold کی قیمتوں کو ایک نئے ریکارڈ تک لے جائے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں.

Source: Reuters | Breaking International News & Views

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button