US Attack on Iran، عالمی مارکیٹس اور علاقائی سیکیورٹی پر سنگین اثرات کا خدشہ.
Escalating Middle East conflict shakes global investors as Oil Market risks rise and Energy Prices react to Iran’s retaliation
آج مشرقِ وسطیٰ (Middle East) کی صورتحال نے ایک نہائت خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ US Attack on Iran شروع ہونے اور امریکہ و اسرائیل کی طرف سے اسلامی جمہوریہ کے اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانے کے بعد، ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متحدہ عرب امرارات، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں (US Military Bases) پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جوابی دھمکیوں نے عالمی سیاست اور خاص طور پر فنانشل مارکیٹس (Financial Markets) میں ایک ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار کے طور پر، ہم دیکھ رہے ہیں. کہ یہ محض ایک فوجی تنازع نہیں. بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے. جو عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Saudi Arabia کے دارالحکومت Riyadh میں دھماکوں کی اطلاعات نے خلیجی اسٹاک مارکیٹس میں فوری دباؤ پیدا کیا۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے. اس لیے کسی بھی خطرے کی خبر Energy Prices پر فوری اثر ڈالتی ہے۔
بین الاقوامی سرمایہ کار اب خلیج میں سرمایہ کاری کے رسک کو نئے سرے سے جانچ رہے ہیں. جس کے نتیجے میں Regional Markets میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
براہ راست تصادم: US Attack on Iran کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے اہم فوجی اور سیاسی مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جس کے جواب میں ایران نے قطر، بحرین اور یو اے ای میں امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔
-
اقتصادی اثرات: خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے تیل کی قیمتوں (Oil Prices) میں اچانک اضافے اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال کا خدشہ ہے۔
-
فوجی پیمانہ: امریکی صدر نے ایران کی بحریہ اور میزائل انڈسٹری کو تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے. جبکہ ایران نے طویل المدتی مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔
-
علاقائی خطرات: دبئی، ابوظہبی، بحرین میں پانچویں بحری بیڑے اور قطر میں العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے. کہ اب کوئی بھی علاقہ اس جنگ سے محفوظ نہیں رہا۔
کیا US Attack on Iran کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور White House کے حالیہ بیانات نے ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کر دیا ہے. کہ آیا یہ ایک محدود کارروائی ہے یا نہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، امریکہ نے ایران میں "بڑے پیمانے پر اہم جنگی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں۔ ان حملوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کو روکنا اور اس کے میزائل پروگرام کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔
تہران، اصفہان اور تبریز جیسے بڑے شہروں میں ہونے والے دھماکے ظاہر کرتے ہیں کہ US Attack on Iran کا ہدف صرف فوجی تنصیبات نہیں بلکہ سیاسی مراکز بھی ہیں۔ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا دفتر اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کے قریب حملے نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
US Attack on Iran صرف فوجی تنازع نہیں بلکہ معاشی شطرنج کا خطرناک مرحلہ بن چکی ہے۔ توانائی کی سپلائی، عالمی تجارت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد ایک دھاگے سے لٹک رہا ہے۔ اگر مذاکرات ناکام رہے تو آنے والے ہفتوں میں Oil Market نئی تاریخی بلندیوں کو چھو سکتا ہے جبکہ عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ایران کا جوابی حملہ: امریکی اڈوں پر میزائلوں کی برسات
ایران نے روایتی دفاع کے بجائے "جارحانہ دفاع” کی حکمت عملی اپناتے ہوئے خطے میں موجود امریکی سٹریٹجک اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے درج ذیل مقامات پر حملے کیے ہیں:
-
بحرین (Bahrain): امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (US 5th Fleet) کا ہیڈ کوارٹر۔ یہ مرکز پورے بحیرہ عرب اور خلیج کی نگرانی کرتا ہے۔
-
قطر (Qatar): العدید ایئر بیس (Al Udeid Air Base) ، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔
-
متحدہ عرب امارات (UAE): ابوظہبی کے قریب الظفرہ ایئر بیس، جہاں امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم نے کئی حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم دبئی اور ابو ظہبی کے ائرپورٹس کے قریب بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں.
مارکیٹس کے نقطہ نظر سے، قطر اور یو اے ای جیسے مستحکم تجارتی مراکز پر حملے سرمایہ کاروں کے اعتماد (Investor Confidence) کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ جب بھی "Safe Havens” سمجھے جانے والے علاقوں میں سائرن بجتے ہیں. سرمایہ کار اپنا پیسہ اسٹاکس سے نکال کر سونے (Gold) اور ڈالر میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
US Attack on Iran کے جغرافیائی اور سیاسی اثرات
اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کی جانب سے ایرانی شہریوں کو فوجی تنصیبات سے دور رہنے کی وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے. کہ آنے والے گھنٹوں میں فضائی حملوں میں شدت آ سکتی ہے۔ ایران کے جنوبی علاقے کنارک میں بحری تنصیبات کو نشانہ بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر ایرانی گرفت کمزور کرنا چاہتا ہے۔
بطور ایک ٹریڈر، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی آبنائے ہرمز کے قریب فوجی نقل و حرکت بڑھتی ہے. برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمتوں میں ‘وائلنٹ وولٹیلیٹی’ (Violent Volatility) دیکھنے کو ملتی ہے۔ 2019 کے ٹینکر حملوں کے دوران، مارکیٹ نے چند ہی گھنٹوں میں 5% کا جمپ لیا تھا۔ موجودہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے. کیونکہ یہ براہ راست ریاستوں کے درمیان جنگ ہے۔
کیا ایران جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے؟
صدر ٹرمپ کا بنیادی موقف یہی ہے کہ "ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا”۔ امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ایران نے دوبارہ یورینیم کی افزودگی (Uranium Enrichment) شروع کرنے کی کوشش کی تھی. جو اس اچانک حملے کی بڑی وجہ بنی۔ امریکہ اب سفارت کاری کے بجائے مکمل فوجی طاقت (Full Military Might) کے استعمال پر اتر آیا ہے۔
عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات: ایک تجزیہ
ایران اور امریکہ کا یہ تصادم صرف نقشے تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات آپ کی جیب اور عالمی مارکیٹس پر بھی پڑیں گے:
1. تیل اور گیس کی قیمتیں (Energy Prices)
ایران کے پاس دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر ہیں. اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ اس راستے کو کنٹرول کر سکتا ہے. جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
2. محفوظ پناہ گاہیں (Safe Haven Assets)
ایسے غیر یقینی حالات میں، سونا (Gold) ہمیشہ پہلی ترجیح ہوتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں $50 سے $100 تک کا فوری اضافہ متوقع ہے. کیونکہ سرمایہ کار ‘رسک آف’ (Risk-off) موڈ میں چلے جاتے ہیں۔
3. سپلائی چین میں تعطل (Supply Chain Disruptions)
ابوظہبی اور قطر جیسے تجارتی مراکز پر حملوں سے فضائی اور بحری ٹریفک متاثر ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ الیکٹرانکس سے لے کر خوراک تک ہر چیز کی ترسیل میں تاخیر اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
US Attack on Iran کے بعد دفاعی نظام کی کارکردگی: پیٹریاٹ بمقابلہ ایرانی میزائل
متحدہ عرب امارات اور قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دفاعی نظام (Air Defense Systems) نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ قطر میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ بیٹری (Patriot Battery) کا استعمال اس ٹیکنالوجی کی برتری کو ثابت کرنے کی کوشش ہے. لیکن ابوظہبی میں ملبے کے گرنے سے ہونے والی ہلاکت یہ ظاہر کرتی ہے. کہ کوئی بھی دفاعی نظام 100 فیصد فول پروف نہیں ہوتا۔
تہران میں صورتحال: افراتفری اور خوف
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا جیسے گنجان آباد علاقوں میں میزائل گرے ہیں۔ دھوئیں کے بادل اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ ظاہر کرتا ہے. کہ ایران کے اندرونی حالات کشیدہ ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا یہ کہنا کہ "حملے جاری رہیں گے” اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران ابھی ہتھیار ڈالنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ: اس بحران میں کیا کریں؟
ایک مالیاتی حکمت عملی ساز (Financial Strategist) کے طور پر، میں ان حالات میں درج ذیل مشورے دوں گا.
-
جلد بازی میں فیصلے نہ کریں: مارکیٹ میں ہیڈ لائنز دیکھ کر پینک سیلنگ (Panic Selling) سے بچیں۔
-
اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنائیں (Diversification): اپنے اثاثوں کا کچھ حصہ سونے یا مضبوط کرنسیوں میں رکھیں۔
-
انرجی سیکٹر پر نظر رکھیں: تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص (Stocks) میں قلیل مدتی منافع کے مواقع مل سکتے ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ براہ راست ٹکراؤ اور US Attack on Iran دہائیوں کی کشیدگی کا نقطہ عروج ہے۔ صدر ٹرمپ کا "مکمل استثنیٰ یا یقینی موت” کا الٹی میٹم یہ بتاتا ہے کہ امریکہ اب حکومت کی تبدیلی (Regime Change) یا مکمل فوجی تسلط چاہتا ہے۔ دوسری طرف، ایران کی جانب سے قطر اور بحرین جیسے اہم امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنانا پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
آنے والے چند دن عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست کے لیے نہائت اہم ہیں۔ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو ہم ایک نئے عالمی معاشی بحران (Global Economic Crisis) کے دہانے پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا US Attack on Iran عالمی سطح پر تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



