ایران پر ممکنہ US Strike: زیرِ زمین جوہری تنصیبات اور Donald Trump کی آخری مہلت
Underground Uranium Enrichment and Global Risks Amid Trump’s Iran Ultimatum
مشرق وسطیٰ میں تنازع کی شدت اب ایک نیا موڑ لینے جا رہی ہے۔ US President Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ ایران کو جوہری پروگرام روکنے کے لیے آخری دو ہفتوں کی مہلت دی جا رہی ہے. اس دوران US Strike on Iran کا امکان بھی برقرار ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری Caroline Leavitt کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں میں فیصلہ کریں گے کہ امریکہ ایران اور اسرائیل کے بڑھتے تنازع میں شامل ہوگا یا نہیں۔
خلاصہ (Summary):
-
US President Donald Trump کی ایران کو آخری دو ہفتے کی ڈیڈ لائن۔
-
زیرِ زمین جوہری مراکز پر Israeli Strikes سے شدید نقصان۔
-
IAEA نے ایران کے نطنز مرکز میں ریڈیو ایکٹویٹی کی تصدیق کی۔
-
ایران کی فوردو تنصیب تک پہنچنے کے لیے Bunker Buster Bomb درکار۔
-
افزودہ یورینیم کا ذخیرہ 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
-
پروفیسرز کے مطابق افزودہ یورینیم سے محدود ماحولیاتی خطرات۔
-
Geneva Talks سے کشیدگی کم ہونے کی امید برقرار۔
زیر زمین جوہری مراکز اور US Strike کا خطرہ:
اسرائیلی حملوں نے ایران کے نطنز اور فوردو جیسے حساس جوہری مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ فوردو چونکہ پہاڑوں کے نیچے چھپا ہوا ہے. اس لیے اس پر حملے کے لیے امریکہ کی خصوصی Bunker Buster Bomb درکار ہوگی۔ IAEA کے مطابق ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا ہے. لیکن تابکاری کے اخراج کا عالمی سطح پر کوئی بڑا اثر نہیں ہوگا۔
افزودگی کا عمل اور ماہرین کی تشویش:
یورینیم افزودگی کا عمل دراصل یورینیم 235 کی مقدار کو بڑھا کر نیوکلیئر توانائی یا ہتھیار کے قابل بنانا ہے۔ IAEA کے مطابق ایران اب تک 60 فیصد تک افزودگی حاصل کر چکا ہے. جبکہ جوہری ہتھیار کے لیے کم از کم 90 فیصد افزودگی درکار ہے۔ پروفیسرز کی رائے میں افزودہ یورینیم کے ذخائر پر حملے سے فوکوشیما یا چرنوبل جیسے حادثات کی امید کم ہے. لیکن مقامی سطح پر صحت کو خطرات ہو سکتے ہیں۔
تابکاری خطرات
برطانوی ماہرین جیسے پروفیسر Paddy Regan, Jim Smith اور Claire Corkhill اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ یورینیم کا حملے کی صورت میں محدود اثر ہوگا۔ اگرچہ اس کی ریڈی ایشن دور تک نہیں جاتی. لیکن نزدیکی علاقوں میں رہنے والوں کی صحت کو نقصان ہو سکتا ہے۔ اصل خطرہ فیژن پروڈکٹس سے ہوتا ہے، جو ابھی ایران کے مراکز پر موجود نہیں۔
**بین الاقوامی سفارتی کوششیں اور Geneva Talks:
ان حالات میں یورپی وزرائے خارجہ نے Geneva Talks کا سلسلہ تیز کیا ہے تاکہ ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر راضی کیا جا سکے۔ David Lammy اور دیگر یورپی رہنما US President Donald Trump کی دو ہفتے کی ڈیڈ لائن سے پہلے مثبت نتیجہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو US Strike on Iran مشرق وسطیٰ میں ایک نیا بحران پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے اور عالمی تشویش:
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر US Strike on Iran ہوئیں. تو نہ صرف جوہری تنصیبات بلکہ خطے میں موجود توانائی کی سپلائی چین بھی متاثر ہو گی۔ نتیجتاً عالمی مارکیٹس میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور سیاسی عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اگلے دو ہفتے ایران، امریکہ اور یورپ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
[faq-schema id=”32691″]
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



