کرپٹو مارکیٹ میں $1 بلین کا بڑا کریش اور AI کا جادو

Bitcoin and Ether tumble amid liquidation wave

کرپٹو کرنسی مارکیٹ (Crypto Market) اپنی غیر یقینی صورتحال اور تیز اتار چڑھاؤ کی وجہ سے جانی جاتی ہے. لیکن جب یہ اتار چڑھاؤ ایک ارب ڈالر کے نقصانات میں بدل جائے. تو ہائی-لیول انویسٹرز (Institutional Investors) اور عام ٹریڈرز دونوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں مارکیٹ نے ایک ایسا ہی منظر دیکھا جہاں بٹ کوائن (Bitcoin) اور ایتھر (Ether) سمیت بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں کو ایک زبردست مارکیٹ کریش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس گراوٹ کی وجہ سے فیوچرز پوزیشنز (Futures Positions) میں تقریباً $1 بلین کی لیکویڈیشن (Liquidation) یا زبردستی پوزیشنز کا بند ہونا ریکارڈ کیا گیا۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی؛ جہاں کرپٹو مارکیٹ اپنے بل بوتے پر سنبھلنے میں ناکام دکھ رہی تھی. وہاں روایتی اسٹاک مارکیٹ کی ارٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اسے ایک نئی لائف لائن فراہم کی۔ اس مضمون میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ یہ سب کیسے ہوا اور آنے والے دنوں میں آپ کو اپنی ٹریڈنگ اسٹریٹیجی کو کس طرح تبدیل کرنا چاہیے۔

مارکیٹ کا خلاصہ

  • بڑا کریش اور نقصان: بٹ کوائن اور ایتھر کی قیادت میں Crypto Market سے $1 بلین کی فیوچرز پوزیشنز منسوخ (Liquidate) ہو گئیں. جس سے مارکیٹ میں افراتفری پھیل گئی۔

  • کم ترین سطح: مارکیٹ کے دباؤ کی وجہ سے بٹ کوائن کی قیمت جون کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح یعنی $59,175 تک گر گئی۔

  • ارٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی مدد: مائیکرون ٹیکنالوجی (Micron Technology) کے شاندار مالیاتی نتائج اور ایس کے ہینکس (SK Hynix) کے یو ایس لسٹنگ پلانز نے مارکیٹ کو گرنے سے بچا لیا۔

  • میکرو اکنامک عوامل: امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کا سخت رویہ، چھ ہفتوں سے جاری ای ٹی ایف (ETF) آؤٹ فلوز، اور سہ ماہی کے اختتام پر آپشنز کی میعاد کا ختم ہونا اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات تھیں۔

  • مستقبل کا خطرہ: اگر بٹ کوائن $58,000 کی اہم سپورٹ لیول کو توڑتا ہے. تو بڑے پیمانے پر مزید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کرپٹو لیکویڈیشن اور اے آئی اسٹاک ٹریڈ تعلق ہے

جب کرپٹو مارکیٹ میں لیوریجڈ پوزیشنز (Leveraged Positions) حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں، تو معمولی گراوٹ بھی ایک بڑے کریش کا سبب بنتی ہے. جسے Crypto Liquidation And AI Stock Trade کے باہمی تعلق سے سمجھا جا سکتا ہے۔

اس بار کرپٹو اثاثے ارٹیفیشل انٹیلیجنس کے سیمی کنڈکٹر اور چپ بنانے والے اسٹاکس کے ساتھ گہرے تعلق (Correlation) میں ٹریڈ ہو رہے تھے۔ جیسے ہی ٹیک سیکٹر میں مائیکرون (Micron) کے بہترین منافع کی خبر آئی. اس نے نہ صرف روایتی مارکیٹ بلکہ کرپٹو مارکیٹ کے سینٹیمنٹ (Market Sentiment) کو بھی ایک دم مستحکم کر دیا. جس سے بٹ کوائن $59,000 کی خطرناک زون سے واپس اوپر آگیا۔

بڑے پیمانے پر لیکویڈیشن

کرپٹو فیوچرز مارکیٹ میں جب ٹریڈرز ادھار رقم یا لیوریج (Leverage) کا استعمال کرتے ہوئے یہ شرط لگاتے ہیں. کہ قیمتیں اوپر جائیں گی (جنہیں Long Positions کہا جاتا ہے). تو قیمتوں میں اچانک کمی ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

بٹ کوائن نے سوموار کو $65,500 کی ہائی سطح کو چھوا تھا. لیکن وہاں سے اس میں 10 فیصد کی تیزی سے کمی دیکھی گئی۔ اس گراوٹ نے ایک چین ری ایکشن (Chain Reaction) شروع کیا. جس کے نتیجے میں صرف بٹ کوائن پر لانگ پوزیشنز رکھنے والے ٹریڈرز کو $430 ملین کا نقصان اٹھانا پڑا. کیونکہ ان کے اکاؤنٹس خودکار نظام کے تحت بند کر دیے گئے۔

گراوٹ کے پس پردہ بنیادی عوامل (Fundamental Drivers)

کسی ایک مخصوص واقعے نے مارکیٹ کو نیچے نہیں دھکیلا. بلکہ متعدد منفی عوامل ایک ساتھ جمع ہو گئے تھے.

  1. ہاوش فیڈرل ریزرو (Hawkish Fed): امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں جلد کمی نہ کرنے کے اشاروں نے مارکیٹ سے اضافی رقم کے بہاؤ کو روک دیا ہے۔

  2. مسلسل ای ٹی ایف آؤٹ فلوز (ETF Outflows): سپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل چھ ہفتوں سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے. جو ظاہر کرتا ہے کہ بڑے بڑے انسٹی ٹیوشنز اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

  3. موسم گرما کی کم لیکویڈیٹی (Thin Summer Liquidity): جون اور جولائی کے مہینوں میں روایتی طور پر ٹریڈنگ والیم (Trading Volume) کم ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بڑی مچھلیاں یا ویلز (Whales) مارکیٹ کو آسانی سے اپنی مرضی کے مطابق ہلا سکتی ہیں۔

  4. کوارٹر اینڈ آپشنز ایکسپائری (Quarter-End Options Expiry): 30 جون کو سہ ماہی کے اختتام پر آپشنز کانٹریکٹس کی میعاد ختم ہو رہی ہے. جس کی وجہ سے بڑے ٹریڈرز اپنی پوزیشنز کو ایڈجسٹ کر رہے ہیں. اور مارکیٹ کو غیر مستحکم رکھ رہے ہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی.

موجودہ Crypto Market میں جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے تکنیکی اور بنیادی ڈیٹا پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ پے در پے آنے والے عالمی معاشی واقعات مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔

US PCE Inflation ڈیٹا پر نظر رکھیں

جمعرات کو جاری ہونے والا پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز (PCE) انفلیشن ڈیٹا اس وقت کا سب سے بڑا محرک ہے۔ چونکہ یہ فیڈرل ریزرو کا پسندیدہ افراط زر ناپنے کا پیمانہ ہے، اس لیے:

  • اگر افراط زر کے اعدادوشمار کم آتے ہیں، تو یہ شرح سود میں کٹوتی کی امیدوں کو زندہ کرے گا. جس سے Crypto Liquidation And AI Stock Trade دونوں کو مزید تقویت ملے گی۔

  • اگر افراط زر توقع سے زیادہ نکلتی ہے. تو Crypto Market میں دوبارہ گراوٹ کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

حرف آخر.

ارٹیفیشل انٹیلیجنس اور کرپٹو کا بڑھتا ہوا باہمی تعلق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے. کہ اب ہمیں روایتی میکرو اکانومی کو سمجھے بغیر کرپٹو ٹریڈنگ نہیں کرنی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں کم لیوریج کا استعمال کریں. اور اہم معاشی ڈیٹا کے سامنے آنے تک اپنی پوزیشنز کو محفوظ رکھیں۔

آپ کا موجودہ Crypto Market کی صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بٹ کوائن $58,000 کی سپورٹ کو برقرار رکھ پائے گا. یا ہمیں ایک اور بڑی لیکویڈیشن دیکھنے کو ملے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button