یورو دباؤ میں، EUR/USD مسلسل چوتھے دن تنزلی کا شکار

یورو (EUR/USD) جمعہ کے روز امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مسلسل چوتھے دن کمزور رہا۔ جہاں EUR/USD تقریباً 1.1520 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ جوڑی ہفتے کے آغاز میں 1.1640 کی سطح تک پہنچی تھی۔ مگر اس کے بعد سے مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے۔ کہ مارکیٹ میں یورو کے لیے جذبات کمزور ہو رہے ہیں۔ جبکہ ڈالر نسبتاً مضبوط پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تیل کی قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی یورو پر بھاری

یورو زون معیشت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس وقت توانائی کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ جو بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔ ایران سے متعلق جنگی خدشات اور عالمی سپلائی میں رکاوٹ کے امکانات نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملے کی ڈیڈ لائن اپریل تک بڑھا دی۔ جس سے وقتی طور پر مارکیٹ میں امید پیدا ہوئی کہ شاید سفارتی حل نکل آئے۔ تاہم، یہ مثبت تاثر زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔

The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق Pentagon ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے 10,000 اضافی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ اس خبر نے مارکیٹ میں خوف کو دوبارہ بڑھا دیا۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جنگ طویل ہو سکتی ہے۔

خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کا خطرہ عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے یورو زون کی معیشت پر اضافی دباؤ پڑے گا، کیونکہ یہ خطہ توانائی درآمد کرنے پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔

یورپ میں مہنگائی کا دباؤ اور ECB کی پالیسی

یورپ سے آنے والے حالیہ معاشی اعداد و شمار بھی مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اسپین کے ابتدائی کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق مارچ میں مہنگائی 3.3% تک پہنچ گئی، جو فروری کے 2.3% کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے اور تقریباً دو سال کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ ڈیٹا European Central Bank کے لیے ایک اہم سگنل ہے کہ مہنگائی دوبارہ بڑھ رہی ہے، جس کے باعث اپریل میں شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہو رہے ہیں۔ عام طور پر شرح سود میں اضافہ کسی بھی کرنسی کو سپورٹ فراہم کرتا ہے، مگر اس وقت صورتحال پیچیدہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ شرح سود میں اضافہ یورو کے لیے مثبت ہو سکتا ہے، مگر بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں اور معاشی سست روی کے خدشات سرمایہ کاروں کو محتاط بنا رہے ہیں۔ اس طرح، ECB کی سخت مانیٹری پالیسی بھی یورو کو مکمل سہارا دینے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

امریکی ڈالر کی مضبوطی بھی اہم عنصر

EUR/USD یورو کی کمزوری کے پیچھے ایک بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی بھی ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار اکثر ڈالر کو محفوظ پناہ گاہ (safe haven) کے طور پر ترجیح دیتے ہیں۔ ایران جنگ کے خدشات، عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ۔ یہ عوامل ڈالر کی طلب کو بڑھاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، فیڈرل ریزرو کی نسبتاً سخت پالیسی اور امریکی معیشت کی بہتر کارکردگی بھی ڈالر کو مضبوط بنا رہی ہے۔ جس کے باعث EUR/USD پر دباؤ برقرار ہے۔

EUR/USD تکنیکی تجزیہ: مزید کمی کے امکانات

تکنیکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو EUR/USD نے ایک اہم بُلش چینل کو توڑ دیا ہے۔ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ قلیل مدتی رجحان اب مندی کی طرف مائل ہو چکا ہے۔

قیمت اب 1.1540 کے چینل سپورٹ سے نیچے آ چکی ہے

1.1575 کی مزاحمتی سطح بھی برقرار نہیں رہ سکی

MACD انڈیکیٹر منفی زون میں داخل ہو چکا ہے

RSI تقریباً 40 کے قریب ہے، جو کمزور مومینٹم کو ظاہر کرتا ہے

اہم سپورٹ لیولز:

1.1484 (23 مارچ کی کم ترین سطح)

1.1440 (اہم سپورٹ زون)

اہم مزاحمتی لیولز:

1.1539

1.1575

1.1640

اگر قیمت 1.1480 سے نیچے جاتی ہے تو مزید تیزی سے فروخت (sell-off) دیکھنے کو مل سکتی ہے، جبکہ اوپر کی جانب کسی بھی بحالی کے لیے 1.1575 کو دوبارہ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

مارکیٹ آؤٹ لک: کیا یورو سنبھل پائے گا؟

موجودہ حالات میں یورو کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی ECB کو سخت پالیسی اپنانے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف توانائی کی قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہیں۔

اگر ایران تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے اور تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں، تو یورو پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، اگر سفارتی حل نکلتا ہے اور توانائی مارکیٹ مستحکم ہوتی ہے، تو EUR/USD میں کچھ بحالی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

مختصراً، قلیل مدتی رجحان مندی کا ہے، اور سرمایہ کاروں کو اہم سپورٹ اور مزاحمتی سطحوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ یہی آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گی۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button