Bank of Japan Governor Ueda Speaks

بینک آف جاپان (BoJ) کے گورنر کازو اویڈا کا خطاب عالمی مالیاتی منڈیوں، خاص طور پر جاپانی ین (JPY)، بانڈ مارکیٹ اور ایشیائی اسٹاکس کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کار اس خطاب میں مانیٹری پالیسی، افراطِ زر، اجرتوں کے رجحانات اور مستقبل کی شرحِ سود سے متعلق اشاروں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

خطاب کے اہم نکات

گورنر اویڈا نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ جاپان میں افراطِ زر کا رجحان بتدریج ہدف کے قریب آ رہا ہے، تاہم پالیسی میں کسی بھی قسم کی جلد بازی مناسب نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی بینک ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرتا رہے گا۔

افراطِ زر اور اجرتوں پر مؤقف

اویڈا کے مطابق پائیدار افراطِ زر کے لیے اجرتوں میں مسلسل اضافہ نہایت ضروری ہے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، مگر بینک آف جاپان یہ جانچنا چاہتا ہے کہ آیا یہ اضافہ طویل مدت کے لیے مستحکم ہے یا نہیں۔

مانیٹری پالیسی کا مستقبل

خطاب میں یہ عندیہ دیا گیا کہ:

انتہائی نرم مانیٹری پالیسی (Ultra-loose policy) میں تبدیلی ممکن ہے

مگر شرحِ سود میں اضافے کا فیصلہ مکمل یقین کے بعد ہی کیا جائے گا

یہ محتاط لہجہ مارکیٹ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ فوری سختی (Policy Tightening) کا امکان محدود ہے۔

جاپانی ین پر اثرات

گورنر اویڈا کے محتاط بیانات کے بعد:

ین پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے

USD/JPY میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے

سرمایہ کار اسے ڈووِش (Dovish) اشارہ سمجھ سکتے ہیں، خاص طور پر جب دیگر مرکزی بینک سخت پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔

عالمی تناظر

اویڈا نے عالمی معاشی سست روی، جیو پولیٹیکل خطرات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی کا بھی حوالہ دیا۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپان کی پالیسی نہایت محتاط اور تدریجی رہے گی۔

مارکیٹ کے لیے خلاصہ

فوری شرحِ سود میں اضافہ متوقع نہیں

جاپانی بانڈ ییلڈز قابو میں رہ سکتی ہیں

ین میں کمزوری کا رجحان برقرار رہنے کا امکان

یہ خطاب طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button