ECB President Christine Lagarde’s Speech

یورپی مرکزی بینک (ECB) کی صدر کرسٹین لگارڈ کا خطاب عالمی مالیاتی منڈیوں، خاص طور پر فاریکس مارکیٹ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کار اور تجزیہ کار ان کے بیانات کو مستقبل کی مانیٹری پالیسی، شرحِ سود کے رجحان اور یورو زون کی معاشی سمت جانچنے کے لیے بغور سنتے ہیں۔

افراطِ زر پر لگارڈ کے خیالات

لگارڈ نے اپنے خطاب میں افراطِ زر کو ECB کی پالیسی کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگرچہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں کچھ کمی کے آثار نظر آئے ہیں۔ لیکن قیمتوں کا دباؤ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ECB کا ہدف افراطِ زر کو 2 فیصد کے قریب لانا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پالیسی فیصلے ڈیٹا پر مبنی ہوں گے۔

شرحِ سود سے متعلق اشارے

خطاب کے دوران صدر لگارڈ نے شرحِ سود کے حوالے سے محتاط لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی شرحِ سود میں کمی یا تبدیلی معاشی اعداد و شمار، اجرتوں کے رجحان اور افراطِ زر کی پائیداری پر منحصر ہوگی۔ اس بیان کو مارکیٹ میں ڈووِش (Dovish) انداز کے طور پر دیکھا گیا، جس سے یورو پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یورو زون کی معاشی صورتحال

لگارڈ نے یورو زون کی کمزور معاشی نمو کا بھی اعتراف کیا۔ ان کے مطابق صنعتی شعبہ دباؤ کا شکار ہے۔ جبکہ سروسز سیکٹر میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ، توانائی کی قیمتیں اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال یورپی معیشت کے لیے بڑے خطرات ہیں۔

مالیاتی منڈیوں پر اثرات

ECB صدر کے خطاب کے بعد مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر سرمایہ کار ان کے بیانات کو شرحِ سود میں ممکنہ نرمی کی علامت سمجھیں۔ تو یورو کمزور ہو سکتا ہے۔ جبکہ اسٹاک مارکیٹس کو سہارا مل سکتا ہے۔ فاریکس ٹریڈرز خاص طور پر EUR/USD اور EUR/GBP جیسے کرنسی پیئرز پر قریبی نظر رکھتے ہیں۔

نتیجہ

کرسٹین لگارڈ کا خطاب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ECB فی الحال محتاط مگر لچکدار پالیسی اپنانے کے موڈ میں ہے۔ افراطِ زر پر قابو پانا اولین ترجیح ہے، تاہم معاشی سست روی ECB کو مستقبل میں نرم فیصلوں کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔ آنے والے معاشی ڈیٹا ہی یہ طے کریں گے کہ یورو کی سمت کیا ہوگی۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button