ECB Schnabel Signals Caution on Rate Cuts

یورپی مرکزی بینک (ECB) کی ایگزیکٹو بورڈ ممبر ازابل شنابل (Isabel Schnabel) کو ای سی بی کے نسبتاً سخت گیر (hawkish) پالیسی سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے حالیہ خطاب میں مہنگائی، شرحِ سود اور مانیٹری پالیسی کے مستقبل پر خاص توجہ دی گئی۔

مہنگائی پر شنابل کا مؤقف

شنابل نے واضح کیا کہ:

یورو زون میں مہنگائی اگرچہ اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آئی ہے

لیکن بنیادی مہنگائی (Core Inflation) اب بھی ای سی بی کے 2٪ ہدف سے زیادہ ہے

ان کے مطابق:

مہنگائی کے دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، خاص طور پر خدمات کے شعبے میں قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ای سی بی مہنگائی کے خلاف جنگ کو ابھی ختم شدہ نہیں سمجھتا۔

شرحِ سود سے متعلق اشارے

شنابل نے شرحِ سود میں جلد نرمی کے امکانات کو کمزور قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:

قبل از وقت شرحِ سود میں کمی مہنگائی کو دوبارہ بڑھا سکتی ہے

پالیسی فیصلے ڈیٹا پر مبنی ہوں گے، نہ کہ مارکیٹ کی توقعات پر

یہ بیان مارکیٹ کے لیے ایک سخت پیغام تھا کہ ای سی بی جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔

یورو زون کی معاشی صورتحال

خطاب میں یورو زون کی کمزور معاشی نمو کا بھی اعتراف کیا گیا، تاہم شنابل کے مطابق:

کمزور نمو کے باوجود مہنگائی کنٹرول کرنا اولین ترجیح ہے

مالی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سخت پالیسی وقتی طور پر ضروری ہے

یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ ای سی بی اس وقت Growth سے زیادہ Inflation پر فوکس کیے ہوئے ہے۔

مالی منڈیوں پر اثرات

شنابل کے خطاب کے بعد:

یورو کو کچھ سہارا ملا

شرحِ سود میں جلد کمی کی توقعات کم ہوئیں

بانڈ ییلڈز میں استحکام دیکھا گیا

فاریکس مارکیٹ میں یہ خطاب خاص طور پر EURUSD کے لیے اہم سمجھا گیا۔

فاریکس ٹریڈرز کے لیے اشارے

شنابل کا سخت لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:

یورو پر دباؤ محدود ہو سکتا ہے

شرحِ سود میں کمی کا عمل توقع سے سست ہو سکتا ہے

قلیل مدت میں یورو کو بنیادی سپورٹ حاصل رہ سکتی ہے

نتیجہ

ای سی بی کی شنابل کے خطاب نے یہ واضح کر دیا کہ:

مہنگائی اب بھی ای سی بی کے لیے بڑا خطرہ ہے

شرحِ سود میں فوری کمی کا امکان کم ہے

یورپی مانیٹری پالیسی آنے والے مہینوں میں بھی محتاط اور سخت رہ سکتی ہے

یہ خطاب یورو زون کی پالیسی سمت اور مالی منڈیوں کے لیے ایک اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button