Pakistan Economic Monitor Index

ستمبر 2025 میں پاکستان کی معیشت مختلف اشاریوں کے ذریعے ایک محتاط مگر مستحکم سمت میں آگے بڑھتی نظر آئی۔ معیشت کے نگرانوں کا انڈیکس دراصل مختلف معاشی اعداد و شمار جیسے افراطِ زر، اسٹاک مارکیٹ، تجارتی توازن، شرح سود اور صارفین کے اعتماد کو مدنظر رکھ کر مجموعی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس مہینے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ معاشی استحکام کی کوششیں کسی حد تک کامیاب رہی ہیں۔ تاہم بعض شعبوں میں دباؤ بھی برقرار ہے۔
افراطِپ زر کی صورتحال
ستمبر میں افراطِ زر کی شرح گزشتہ سال کی نسبت کم سطح پر برقرار رہی۔ صارف قیمت اشاریہ (CPI) میں اضافہ قابو میں رہا۔ جس سے عام آدمی کو وقتی ریلیف ملا۔ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ تاہم درآمدی اشیاء کی قیمتوں نے مہنگائی پر کچھ دباؤ برقرار رکھا۔ مجموعی طور پر مہنگائی کی رفتار معتدل رہی۔ جو معاشی استحکام کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کا رجحان
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس ستمبر کے دوران مضبوط سطح پر رہا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی بڑی وجہ مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی ادائیگیوں میں بہتری ہے۔ مارکیٹ میں تیزی کا رجحان اس بات کا اشارہ دیتا ہے۔ کہ کاروباری طبقہ مستقبل کے بارے میں نسبتاً پُرامید ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں محدود مگر مثبت سرگرمی بھی دیکھی گئی جس نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔
شرح سود اور مالیاتی پالیسی
اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو محتاط سطح پر برقرار رکھا گیا تاکہ مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا جا سکے اور معاشی سرگرمی بھی متاثر نہ ہو۔ مالیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد قیمتوں میں استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا ہے۔ ستمبر میں پالیسی ریٹ میں استحکام نے کاروباری حلقوں کو پیشگی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کی۔
تجارتی توازن اور بیرونی شعبہ
تجارتی خسارہ بدستور ایک اہم چیلنج رہا۔ اگرچہ برآمدات میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم درآمدات کے بڑھنے سے خسارہ مکمل طور پر کم نہ ہو سکا۔ بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے حکومت برآمدات میں تنوع اور درآمدی متبادل پالیسیوں پر توجہ دے رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال خطرات کو برقرار رکھتی ہے۔
صارفین اور کاروباری اعتماد
صارفین کے اعتماد کے اشاریے میں ہلکا سا اضافہ دیکھنے میں آیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کی پالیسیوں کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ کاروباری اعتماد بھی نسبتاً بہتر رہا، خاص طور پر بینکاری، ٹیکسٹائل اور خدمات کے شعبوں میں۔
مجموعی تجزیہ
ستمبر 2025 کا معاشی نگران انڈیکس یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے۔ مہنگائی میں کمی، اسٹاک مارکیٹ کی مضبوطی اور مالیاتی نظم و ضبط مثبت عوامل ہیں، جبکہ تجارتی خسارہ اور عالمی معاشی دباؤ اہم چیلنجز ہیں۔ اگر موجودہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو آئندہ مہینوں میں مزید بہتری کی توقع کی جا سک
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



