FOMC Member John Williams Speech

فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے بااثر رکن اور نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز کا حالیہ خطاب عالمی مالیاتی منڈیوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ ان کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی معیشت افراطِ زر، شرحِ سود۔ اور معاشی نمو کے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سرمایہ کار فیڈ کی آئندہ پالیسی سمت جاننے کے لیے ولیمز کے بیانات کو نہایت اہم سمجھتے ہیں۔
افراطِ زر پر ولیمز کا مؤقف
جان ولیمز نے واضح کیا کہ اگرچہ افراطِ زر میں گزشتہ مہینوں کے دوران کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم یہ اب بھی فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے۔ ان کے مطابق افراطِ زر پر مکمل قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی کو کچھ عرصہ مزید برقرار رکھنا ضروری ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قبل از وقت نرمی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
شرحِ سود سے متعلق اشارے
ولیگز کے خطاب میں شرحِ سود کے حوالے سے محتاط لہجہ نمایاں رہا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ فیصلے مکمل طور پر آنے والے معاشی ڈیٹا پر منحصر ہوں گے۔ اگر مہنگائی میں کمی کی رفتار سست رہی تو شرحِ سود کو موجودہ بلند سطح پر زیادہ عرصے تک رکھا جا سکتا ہے۔ اس بیان نے امریکی بانڈ مارکیٹ اور ڈالر میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا۔
لیبر مارکیٹ اور معاشی صورتحال
جان ولیمز کے مطابق امریکی لیبر مارکیٹ اب بھی مضبوط ہے، مگر اس میں توازن کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ملازمتوں کی طلب میں بتدریج کمی اور اجرتوں میں اعتدال افراطِ زر کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سست روی کے باوجود فیڈ کا ہدف ایک Soft Landing حاصل کرنا ہے۔ یعنی افراطِ زر کو کنٹرول کرتے ہوئے معیشت کو کساد بازاری سے بچانا۔
مالیاتی منڈیوں پر اثرات
ولیگز کے خطاب کے بعد فاریکس مارکیٹ میں امریکی ڈالر کو وقتی سہارا ملا۔ جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں محتاط رجحان دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں نے ان کے بیانات کو اس بات کی علامت کے طور پر لیا کہ فیڈ فوری طور پر شرحِ سود میں کمی کے موڈ میں نہیں ہے۔
نتیجہ
ایف او ایم سی ممبر جان ولیمز کا خطاب فیڈ کی سخت مگر محتاط پالیسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے۔ کہ افراطِ زر پر قابو پانا فیڈ کی اولین ترجیح رہے گی۔ چاہے اس کے لیے شرحِ سود کو مزید عرصے تک بلند رکھنا پڑے۔ آئندہ معاشی ڈیٹا فیڈ کے اگلے اقدامات کا تعین کرے گا، جس پر عالمی منڈیوں کی نظریں جمی رہیں گی۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



