ISM Non-Manufacturing Employment Index

ISM آئی ایس ایم نان مینوفیکچرنگ روزگار انڈیکس امریکی معیشت کے سروس سیکٹر میں ملازمتوں کی صورتحال کو جانچنے کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ چونکہ امریکہ کی معیشت کا بڑا حصہ سروسز پر مشتمل ہے۔ اس لیے اس ڈیٹا کو سرمایہ کار، پالیسی ساز اور فاریکس ٹریڈرز خاص توجہ سے دیکھتے ہیں۔ ستمبر کا ڈیٹا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ کہ سروس سیکٹر میں روزگار کی صورتحال اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔

ISM آئی ایس ایم نان مینوفیکچرنگ روزگار انڈیکس کیا ہے؟

یہ انڈیکس انسٹی ٹیوٹ فار سپلائی مینجمنٹ (ISM) کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ اور سروس سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنیوں کے سروے پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر انڈیکس 50 سے اوپر ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے۔ کہ روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ 50 سے نیچے کی ریڈنگ روزگار میں کمی یا کمزور بھرتیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

ستمبر کے اعداد و شمار کا جائزہ

ستمبر میں آئی ایس ایم نان مینوفیکچرنگ روزگار انڈیکس 50 کی سطح سے نیچے رہا۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ سروس سیکٹر میں نئی بھرتیوں کی رفتار سست ہے۔ اگرچہ کچھ شعبوں میں استحکام دیکھا گیا، لیکن مجموعی طور پر کمپنیاں اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے۔ کہ کاروباری ادارے مستقبل کے معاشی حالات کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

کمزور روزگار کی بنیادی وجوہات

سروس سیکٹر میں روزگار کی کمزوری کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ بلند شرح سود نے کاروباری لاگت میں اضافہ کیا ہے، جبکہ مہنگائی کے اثرات نے صارفین کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی معاشی سست روی اور جغرافیائی سیاسی خدشات نے بھی کاروباری اعتماد کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث کمپنیاں نئی بھرتیوں میں احتیاط برت رہی ہیں۔

امریکی ڈالر اور فاریکس مارکیٹ پر اثرات

کمزور روزگار کے اعداد و شمار عموماً امریکی ڈالر کے لیے منفی سمجھے جاتے ہیں۔ جب سروس سیکٹر میں روزگار دباؤ میں ہو تو فیڈرل ریزرو پر شرح سود میں مزید اضافے سے رکنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں فاریکس مارکیٹ میں یورو، پاؤنڈ اور جاپانی ین جیسی کرنسیاں ڈالر کے مقابلے میں وقتی طور پر مضبوط ہو سکتی ہیں۔

نتیجہ

ستمبر کا آئی ایس ایم نان مینوفیکچرنگ روزگار ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی سروس سیکٹر میں ملازمتوں کی بحالی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ اگر آنے والے مہینوں میں بھی یہی رجحان برقرار رہا تو یہ امریکی معیشت اور مانیٹری پالیسی کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ڈیٹا کو دیگر معاشی اشاریوں کے ساتھ ملا کر دیکھیں تاکہ مارکیٹ کی درست سمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button