IMF Inflation Measure (Month-on-Month) – September

ایم آئی افراطِ زر کا پیمانہ (IMF Inflation Measure) عالمی معیشت میں مہنگائی کے دباؤ کو جانچنے کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ ماہ بہ ماہ بنیاد پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا قلیل مدت میں قیمتوں کی تبدیلی کی سمت واضح کرتا ہے۔ ستمبر کا ڈیٹا عالمی مالیاتی منڈیوں، مرکزی بینکوں اور پالیسی ساز اداروں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ مستقبل کی مانیٹری پالیسی کے اشارے فراہم کرتا ہے۔

ایم آئی افراطِ زر کا پیمانہ کیا ہے؟

آئی ایم ایف مختلف ممالک سے حاصل کردہ صارف قیمتوں کے ڈیٹا کو یکجا کر کے افراطِ زر کا ایک جامع پیمانہ تیار کرتا ہے۔ یہ اشاریہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے یا کمی کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہ بہ ماہ بنیاد پر اس میں معمولی تبدیلیاں بھی سرمایہ کاروں اور مرکزی بینکوں کے لیے معنی خیز ثابت ہوتی ہیں۔

ستمبر کے اعداد و شمار کا جائزہ

ستمبر میں ایم آئی افراطِ زر کا ماہ بہ ماہ ڈیٹا اس بات کا عندیہ دیتا ہے۔ کہ عالمی مہنگائی کا دباؤ آیا برقرار ہے یا اس میں کمی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر ماہانہ بنیاد پر افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے۔ کہ اشیائے خورونوش، توانائی اور خدمات کی قیمتیں اب بھی دباؤ میں ہیں۔ دوسری جانب کم یا منفی ریڈنگ مہنگائی میں نرمی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

عالمی منڈیوں پر اثرات

ایم آئی افراطِ زر کے اعداد و شمار کا براہ راست اثر فاریکس، بانڈ اور اسٹاک مارکیٹس پر پڑتا ہے۔

فاریکس مارکیٹ: بلند افراطِ زر امریکی ڈالر اور دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت دے سکتا ہے۔ کیونکہ شرح سود میں اضافے کی توقع بڑھ جاتی ہے۔

بانڈ مارکیٹ: مہنگائی میں اضافے سے بانڈ ییلڈز اوپر جا سکتی ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ: زیادہ افراطِ زر کمپنیوں کے منافع پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ جس سے حصص بازار میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے۔

مرکزی بینکوں کی پالیسی پر اثر

آئی ایم ایف کا یہ ڈیٹا فیڈرل ریزرو، یورپی مرکزی بینک اور دیگر اداروں کے لیے پالیسی فیصلوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اگر ستمبر میں افراطِ زر توقعات سے زیادہ ہو تو شرح سود میں سختی کا امکان بڑھ جاتا ہے، جبکہ کم ڈیٹا پالیسی میں نرمی کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

ستمبر کے ماہ بہ ماہ افراطِ زر کے اعداد و شمار آنے والے مہینوں کے رجحان کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر مہنگائی میں مسلسل کمی نظر آئے تو عالمی معیشت میں استحکام کی امید کی جا سکتی ہے، جبکہ بڑھتا ہوا دباؤ پالیسی سازوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کرے گا۔

نتیجہ

ایم آئی افراطِ زر کا پیمانہ (ماہ بہ ماہ) ستمبر عالمی مہنگائی کی سمت جانچنے کا ایک کلیدی اشارہ ہے۔ سرمایہ کار، تاجر اور پالیسی ساز اس ڈیٹا کو مستقبل کے فیصلوں کے لیے نہایت سنجیدگی سے دیکھتے ہیں، کیونکہ یہی اشاریہ عالمی مالیاتی حکمتِ عملی کی بنیاد بنتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button