OPEC Crude Oil Production — Iraq

عراق OPEC اوپیک کے بڑے اور مستقل تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کی معیشت کا بڑا حصہ خام تیل کی برآمدات پر منحصر ہے، اور اس کی یومیہ پیداوار عالمی توانائی مارکیٹ میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اوپیک رپورٹس کے مطابق عراق ہمیشہ سعودی عرب کے بعد دوسرا سب سے بڑا پروڈیوسر رہتا ہے، اس لیے اس کی پیداوار میں معمولی تبدیلی بھی عالمی قیمتوں پر واضح اثر ڈالتی ہے۔

عراق کی OPECاوپیک خام تیل پیداوار خلاصہ

عراق کی حالیہ اوسط پیداوار عام طور پر 4.0 ملین بیرل یومیہ کے قریب رہتی ہے۔

بعض مہینوں میں یہ سطح 3.94 ملین سے 4.06 ملین بیرل فی دن کے درمیان رپورٹ ہوئی ہے۔

عراق اکثر اپنے اوپیک کوٹے کے قریب رہتے ہوئے پیداوار کو ایڈجسٹ کرتا ہے، خاص طور پر جب اوپیک+ معاہدوں میں کمی یا اضافے کی ضرورت ہو۔

OPEC پیداوار پر اثر انداز ہونے والے عوامل

1. اوپیک+ پالیسی

عراق کو اکثر اوپیک کوٹے کے مطابق اپنی پیداوار میں کمی یا اعتدال لانا پڑتا ہے، جس سے مہینوں کے درمیان اعداد میں فرق نظر آتا ہے۔

2. سیاسی اور سیکورٹی صورتحال

اندرونی حالات، سیکیورٹی مسائل اور انفراسٹرکچر کی صورتحال پیداوار میں تعطل یا کمی لا سکتی ہے۔

3. عالمی تیل کی طلب

طلب بڑھنے پر عراق اپنی پیداوار مستحکم رکھنے یا بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ درآمدی آمدنی میں اضافہ ہو۔

4. بیرونی سرمایہ کاری اور فیلڈ ڈیولپمنٹ

نئے تیل فیلڈز، تکنیکی بہتری، اور بین الاقوامی آئل کمپنیوں کے ساتھ معاہدے پیداواری صلاحیت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

عالمی مارکیٹ پر اثر

عراق کی پیداوار میں بڑھوتری عالمی رسد میں اضافہ کرتی ہے، جس سے برینٹ اور WTI قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

پیداوار میں کمی سے مارکیٹ سپورٹ حاصل کرتی ہے جس سے قیمتوں میں بہتری آسکتی ہے۔

سعودی عرب کے بعد عراق کا مقام اسے عالمی مارکیٹ میں اسٹریٹیجک پوزیشن دیتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

عراق آگے چل کر اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی سمت پیش قدمی کر رہا ہے اور طویل مدتی منصوبوں کے مطابق آئندہ چند سالوں میں یہ 5.5 ملین بیرل یومیہ سے زائد کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ اگر عالمی حالات سازگار رہے تو یہ ہدف عراق کی تیل مارکیٹ میں اہم پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گا۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button