EUR/USD Forecast: یورو بمقابلہ ڈالر 1.1600 سپورٹ خطرے میں
یورو کمزور، ڈالر مضبوط — مشرق وسطیٰ کشیدگی سے EUR/USD دباؤ میں
بدھ کے روز EUR/USD دباؤ کا شکار رہا کیونکہ امریکی ڈالر نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان اپنی مضبوطی برقرار رکھی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی طرف مائل کیا۔ جس سے یورو مزید کمزور ہو گیا۔
جغرافیائی کشیدگی اور مارکیٹ پر اثرات
مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مارکیٹ کے جذبات کو منفی بنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں نے خطے میں جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
اس صورتحال میں سرمایہ کار رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اور محفوظ سرمایہ کاری جیسے امریکی ڈالر کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے یورو پر دباؤ بڑھ گیا۔
یوروزون ڈیٹا نظر انداز
اگرچہ یوروزون میں معاشی اعداد و شمار مثبت رہے۔ جن میں سروسز PMI اور پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) شامل ہیں۔ لیکن مارکیٹ نے ان کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ وقت میں جغرافیائی سیاست (Geopolitics) معاشی ڈیٹا پر بھاری پڑ رہی ہے۔
امریکی معیشت اور ڈالر کی مضبوطی
امریکہ میں مضبوط لیبر مارکیٹ ڈیٹا، خاص طور پر JOLTS جاب اوپننگز اور مینوفیکچرنگ ڈیٹا نے اس امکان کو بڑھایا ہے۔ کہ Federal Reserve سال کے آخر تک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہ۔
مزید برآں، آج کے اہم ڈیٹا جیسے ADP ایمپلائمنٹ اور ISM سروسز PMI مارکیٹ کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
EUR/USD ٹیکنیکل تجزیہ: اہم لیولز
Bearish Scenario
فی الحال EUR/USD تقریباً 1.1615 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اور 1.1600 کا لیول اہم سپورٹ کے طور پر سامنے ہے۔
اگر یہ لیول ٹوٹ جاتا ہے تو:
اگلا ہدف: 1.1570
مزید نیچے: 1.1505 – 1.1525
RSI اور MACD دونوں منفی رجحان کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو مزید کمی کا اشارہ دیتے ہیں۔
Bullish Scenario
اگر قیمت اوپر کی طرف جاتی ہے تو:

پہلی مزاحمت: 1.1660
اگلا ہدف: 1.1720
بڑی مزاحمت: 1.1790
نتیجہ
موجودہ صورتحال میں EUR/USD پر دباؤ برقرار ہے۔ جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے۔ جب تک عالمی حالات بہتر نہیں ہوتے، یورو کے لیے بحالی مشکل نظر آتی ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



