GBP/USD کا تجزیہ: ڈالر کی کمزوری سے پاؤنڈ کو سہارا، مگر BoE کی پالیسی خدشات برقرار

GBP/USD برطانوی پاؤنڈ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل پانچویں روز مثبت زون میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ اور جمعرات کے ابتدائی یورپی سیشن میں 1.3560 کے قریب مستحکم ہے۔ جوڑی کو اس وقت سہارا مل رہا ہے۔ کیونکہ امریکی ڈالر وائٹ ہاؤس کی معاشی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
امریکی صدر Donald Trump نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے ٹیرف پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے۔ کہا کہ یہ معاشی ترقی کے لیے فائدہ مند ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف پالیسی کے کچھ حصوں کو کالعدم قرار دینے پر تنقید بھی کی۔ اس بیان بازی نے مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا۔ جس کے باعث ڈالر پر دباؤ برقرار رہا۔
GBP/USD پاؤنڈ کے لیے ممکنہ رکاوٹیں: بینک آف انگلینڈ کی نرم پالیسی
اگرچہ ڈالر کمزور ہے، لیکن GBP/USD کی تیزی محدود رہ سکتی ہے۔ کیونکہ Bank of England (BoE) کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے مارکیٹ میں نرم (Dovish) توقعات پائی جاتی ہیں۔
مارکیٹ شرکاء کو توقع ہے کہ بینک آف انگلینڈ مارچ میں شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔ خاص طور پر برطانیہ کی لیبر مارکیٹ میں کمزوری اور مہنگائی میں کمی کے تناظر میں۔
BoE کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے رکن Alan Taylor نے حالیہ بیان میں آئندہ عرصے میں دو سے تین مرتبہ شرح سود میں کمی کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے شعبے میں منفی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اور قیمتوں کے دباؤ میں کمی آ رہی ہے، جس کے باعث نرم پالیسی اپنانا ضروری ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کی مہنگائی میں نمایاں کمی
برطانیہ کے حالیہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) ڈیٹا نے شرح سود میں کمی کی توقعات کو مزید تقویت دی ہے۔ جنوری میں مہنگائی کی شرح 3.0 فیصد رہی۔ جو دسمبر کے 3.4 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ یہ وسط 2025 کے بعد سب سے کم سطح ہے اور مارکیٹ توقعات سے بھی کم رہی۔
تاہم، BoE کے گورنر Andrew Bailey نے پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کو بتایا کہ مارچ میں شرح سود میں کمی “واقعی ایک کھلا سوال” ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سروسز انفلیشن جنوری میں 4.4 فیصد رہی، جو بینک کی 4.1 فیصد کی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔
اسی طرح BoE کے چیف اکانومسٹ Huw Pill نے خبردار کیا کہ ہیڈ لائن مہنگائی کے 2 فیصد ہدف کے قریب آنے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ بنیادی قیمتوں کا دباؤ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
GBP/USD تکنیکی اور بنیادی منظرنامہ
حمایتی سطح: 1.3500
مزاحمتی سطح: 1.3600 اور 1.3650
ڈالر کی مسلسل کمزوری قلیل مدتی طور پر جوڑی کو سپورٹ دے سکتی ہے۔
تاہم، اگر BoE کی جانب سے شرح سود میں کمی کے اشارے مضبوط ہوئے تو پاؤنڈ دباؤ میں آ سکتا ہے۔
خلاصہ
GBP/USD اس وقت امریکی ڈالر کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہا ہے، لیکن برطانیہ میں نرم مانیٹری پالیسی کی توقعات اس کی پیش رفت کو محدود کر سکتی ہیں۔ آئندہ دنوں میں سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی معاشی اعدادوشمار اور BoE کے پالیسی بیانات پر مرکوز رہے گی، جو جوڑی کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



