GBP/USD میں اتار چڑھاؤ: برطانیہ کی مہنگائی میں کمی، BoE اور FOMC پر مارکیٹ کی نظریں

بدھ کے یورپی سیشن کے دوران پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP/USD) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں 1.3560 کے قریب شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ جس کی بڑی وجہ برطانیہ کی جانب سے جنوری کے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے اعداد و شمار کا اجرا تھا۔ جنہوں نے ظاہر کیا کہ مہنگائی کے دباؤ میں متوقع کمی آ رہی ہے۔
برطانیہ کے Office for National Statistics کے مطابق ہیڈ لائن مہنگائی سالانہ بنیاد پر 3% تک گر گئی۔ جو دسمبر میں 3.4% تھی اور مارکیٹ توقعات کے مطابق رہی۔ کور CPI، جس میں خوراک، توانائی، الکحل اور تمباکو شامل نہیں ہوتے۔ 3.2% سے کم ہو کر 3.1% رہی۔ ماہانہ بنیاد پر ہیڈ لائن مہنگائی 0.5% کم ہوئی۔ جبکہ دسمبر میں اس میں 0.4% اضافہ دیکھا گیا تھا۔
نرم مہنگائی سے BoE کی پالیسی توقعات میں تبدیلی
اس مہنگائی کے نرم اعداد و شمار نے Bank of England کی حالیہ پالیسی رہنمائی کی تصدیق کی ہے۔ جس میں کہا گیا تھا کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مہنگائی تقریباً 3% اور دوسری سہ ماہی میں 2% کے قریب آ سکتی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کار مارچ کی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں مرکزی بینک کے نسبتاً نرم (dovish) مؤقف کی توقع کر رہے ہیں۔ جو پاؤنڈ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کے اہم ڈیٹا پر توجہ
سرمایہ کار اب جمعہ کو جاری ہونے والے جنوری کے ریٹیل سیلز اور فروری کے ابتدائی PMI ڈیٹا پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ جو S&P Global جاری کرے گا۔ یہ اعداد و شمار برطانیہ کی معاشی سرگرمی اور صارفین کی طلب کے بارے میں اہم اشارے فراہم کریں گے۔
FOMC منٹس سے پہلے ڈالر مضبوط
دوسری جانب امریکی ڈالر معمولی مضبوطی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ کیونکہ مارکیٹ Federal Open Market Committee (FOMC) کے اجلاس کے منٹس کے اجرا کا انتظار کر رہی ہے۔
US Dollar Index (DXY)، جو ڈالر کی قدر کو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ماپتا ہے۔ تقریباً 0.12% اضافے کے ساتھ 97.22 کے قریب پہنچ گیا۔
امریکی GDP بھی مارکیٹ کا مرکز
اس ہفتے سرمایہ کار امریکہ کے چوتھی سہ ماہی کے ابتدائی جی ڈی پی ڈیٹا پر بھی توجہ دیں گے، جو جمعہ کو جاری ہوگا۔ یہ ڈیٹا فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی سمت اور GBP/USD کی حرکت کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



