پاکستان کا ترکیہ کے لیے Rice Exports بڑھانے کا بڑا منصوبہ: عالمی مقابلے میں نئی حکمتِ عملی
: Pricing Support Mechanism aims to counter India and Vietnam while boosting agricultural trade volumes
پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں چاول کی برآمدات Rice Exports کے حوالے سے ایک جارحانہ اور دور اندیشانہ حکمتِ عملی تیار کی ہے، جس کا بنیادی مقصد ترکیہ (Turkiye) کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانا ہے۔
حالیہ دنوں میں وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان ہونے والی ملاقات اس سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ Pakistan Rice Exports to Turkiye کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے نہ صرف قیمتوں میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے. بلکہ "گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ” (G2G) ماڈل کے ذریعے تجارتی حجم کو بڑھانے کی تجویز بھی دی ہے۔
اہم نکات (Key Points)
-
قیمتوں کا سپورٹ میکانزم: پاکستان نے بھارت اور ویتنام کے مقابلے میں اپنی قیمتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی (Competitive) رکھنے کے لیے ایک نیا سپورٹ سسٹم تیار کیا ہے۔
-
حجم پر توجہ: حکومت کا مقصد زیادہ منافع کے بجائے زیادہ حجم (Volume Enhancement) برآمد کرنا ہے. تاکہ کسانوں کی آمدنی کو تحفظ مل سکے۔
-
ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA): ترکیہ کے ساتھ موجودہ 18,000 میٹرک ٹن کے کوٹے کو فعال بنانے اور ٹیرف میں کمی پر بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔
-
G2G چینلز: نجی شعبے کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے ذریعے بڑے پیمانے پر خریداری (Bulk Procurement) کی تجویز دی گئی ہے۔
پاکستان کی Rice Exports Market میں موجودہ چیلنجز کیا ہیں؟
پاکستان میں اس سال چاول کی بمپر فصل (Excellent Harvest) ہوئی ہے. جس کے نتیجے میں ملک کے پاس برآمدات کے لیے وافر مقدار میں اضافی ذخیرہ موجود ہے۔ تاہم، عالمی مارکیٹ میں پاکستان کو بھارت اور ویتنام جیسے بڑے کھلاڑیوں کی جانب سے سخت قیمتوں کے مقابلے (Aggressive pricing) کا سامنا ہے۔
بھارت نے حال ہی میں اپنی برآمدی پالیسیوں میں نرمی کی ہے. جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں چاول کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایک ماہرِ معاشیات کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ جب سپلائی زیادہ ہو. اور بڑے برآمد کنندگان قیمتیں کم کریں. تو مارکیٹ شیئر برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان نے اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی ہے۔
میں نے اپنے 10 سالہ تجربے میں دیکھا ہے کہ کموڈیٹی مارکیٹ (Commodity Market) میں صرف معیار کافی نہیں ہوتا۔ 2010 کی دہائی کے وسط میں جب اسی طرح کی قیمتوں کی جنگ چھڑی تھی، تو جن ممالک نے فوری طور پر اپنے پرائسنگ ماڈل بدلے، وہی اپنا مارکیٹ شیئر بچا پائے تھے۔ پاکستان کا حالیہ فیصلہ اسی تاریخی سبق کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومت کا پرائس سپورٹ میکانزم (Price Support Mechanism) کیسے کام کرے گا؟
وفاقی وزیرِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ایسا نظام وضع کیا ہے. جس کے تحت ترکیہ کو فراہم کیے جانے والے Rice Exports قیمتیں عالمی سطح پر موجود کم ترین قیمتوں کے برابر رکھی جائیں گی۔
پاکستان ترکیہ کو کیا پیشکش کر رہا ہے؟
پاکستان نے ترکیہ کو درج ذیل یقین دہانیاں کرائی ہیں:
-
باسمتی اور نان باسمتی اقسام: دونوں طرح کے چاول کی عالمی معیار کے مطابق فراہمی۔
-
قیمتوں میں برابری: اگر بھارت یا ویتنام قیمتیں کم کرتے ہیں، تو پاکستان کا سپورٹ میکانزم ان قیمتوں سے مطابقت پیدا کرے گا تاکہ خریدار کو نقصان نہ ہو۔
-
ٹیرف کوٹہ کا استعمال: 18,000 میٹرک ٹن کے کوٹے کو ضابطے کی کارروائیوں سے نکال کر فوری طور پر استعمال میں لایا جائے گا۔
ترکیہ کے ساتھ جی ٹو جی (G2G) تجارت کی اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سیاسی تعلقات مثالی ہیں، لیکن تجارتی حجم اب بھی 5 ارب ڈالر کے ہدف سے بہت پیچھے ہے۔ اس فرق کو مٹانے کے لیے حکومت نے سرکاری اداروں (State trading entities) کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
G2G چینلز کے فوائد:
-
بڑے آرڈرز (Bulk Orders): سرکاری سطح پر خریداری سے نجی شعبے کے چھوٹے خریداروں کے مقابلے میں بہت بڑے آرڈرز مل سکتے ہیں۔
-
ادائیگیوں کا تحفظ: حکومتوں کے درمیان لین دین میں ادائیگیوں (Payments) کا رسک کم ہوتا ہے۔
-
لاجسٹک آسانی: سرکاری سطح پر ٹرانسپورٹیشن اور کلیئرنس کے معاملات تیزی سے حل ہوتے ہیں۔
پاکستان Rice Exports کو درپیش رکاوٹیں اور ان کا حل
ترکیہ کی مارکیٹ تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ امپورٹ لائسنسنگ اور ٹیرف ریٹ کوٹہ (TRQ) رہے ہیں۔ پاکستان نے ترکیہ سے مطالبہ کیا ہے. کہ باسمتی چاول پر ڈیوٹی یا تو ختم کی جائے یا اس میں نمایاں کمی کی جائے۔
| چیلنج (Challenge) | حکومتی حل (Government Solution) |
| بھارت اور ویتنام کی سستی قیمتیں | پرائس میچنگ سپورٹ میکانزم |
| ٹیرف کی بلند شرح | ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کی توسیع |
| پیچیدہ لائسنسنگ نظام | ٹیکنیکل ڈیلی گیشنز کی ملاقاتیں |
| کم آگاہی | تجارتی نمائشیں اور B2B میٹنگز |
مستقبل کا منظرنامہ: کیا پاکستان اپنا ہدف حاصل کر پائے گا؟
پاکستان کی اس نئی پالیسی کا محور "والیوم انہانسمنٹ” (Volume Enhancement) ہے۔ یعنی ہم تھوڑا منافع قربان کر کے مارکیٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک کلاسک مارکیٹ پینیٹریشن (Market Penetration) حکمتِ عملی ہے جو طویل مدت میں کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
آنے والے ہفتوں میں دونوں ممالک کے ٹیکنیکل وفود کی ملاقات متوقع ہے. جس میں پاربوائلڈ رائس (Parboiled rice) اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر بات ہوگی۔ اگر پاکستان ان مذاکرات میں کامیاب رہتا ہے. تو یہ نہ صرف چاول کی صنعت بلکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے بھی ایک بڑی جیت ہوگی۔
اختتامیہ.
پاکستان کا ترکیہ کے ساتھ چاول کی تجارت کو فروغ دینے کا اقدام ایک بروقت فیصلہ ہے۔ عالمی مارکیٹ میں Pakistan Rice Exports to Turkiye کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم کتنی تیزی سے اپنے پرائس سپورٹ میکانزم کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔
10 سالہ مالیاتی تجربے کی بنیاد پر، میرا ماننا ہے کہ اگر جی ٹو جی (G2G) ماڈل کامیاب ہو گیا. تو پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان قیمتوں کے اس مقابلے میں بھارت اور ویتنام کو پیچھے چھوڑ پائے گا؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
Source: Reuters | Breaking International News & Views
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



