Donald Trump کے Reciprocal Tariffs کا اعلان: عالمی Trade War میں نیا موڑ!

Global Markets on Edge as US Policy shook Trade Dynamics

امریکی صدر Donald Trump نے عالمی تجارتی میدان میں ایک نیا قدم اٹھایا ہے جس سے عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ 2 اپریل 2025 کو، صدر ٹرمپ نے نئے Reciprocal Tariffs کا اعلان کیا، جس سے دنیا کے مختلف ممالک پر بڑی اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔ یوں Global Trade War ایک نئے اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے.

ان کے مطابق، اس اقدام کا مقصد امریکہ کی Manufacturing کو فروغ دینا اور ان ممالک کو سزا دینا ہے. جو غیر منصفانہ تجارتی طریقوں میں ملوث رہے ہیں۔ تاہم، ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے امریکہ کی معیشت کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے. اور یہ قدیم اتحادیوں کے درمیان اقتصادی تعلقات میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔

Reciprocal Tariffs کا اعلان: عالمی تجارتی پالیسی میں نیا موڑ

Reciprocal Tariffs کے اعلان کے ساتھ ہی، عالمی Trade Policy میں ایک نیا موڑ آیا ہے. جس کے تحت امریکہ نے عالمی Auto Imports پر 25 فیصد Tariffs نافذ کیے ہیں۔ White House کے تجارتی مشیر Peter Navarro کا دعویٰ ہے کہ ان نئے Tariffs سے امریکہ کی معیشت میں 600 بلین ڈالر کا اضافہ ہوگا. جو کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے سب سے بڑا Tax اضافہ ہوگا۔ اس کے باوجود، کئی ماہرین کا کہنا ہے. کہ یہ اقدامات عالمی تجارتی نظام کو مزید غیر یقینی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

Stock Markets پر اثرات: سرمایہ کاروں کی تشویش

Donald Trump کے اس فیصلے کے بعد، دنیا بھر میں Stock Markets میں مندی دیکھنے کو ملی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے اپنے اسٹاک کو فروخت کرنے کی ایک بڑی لہر شروع ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں فروری کے وسط سے اب تک تقریباً پانچ ٹریلین ڈالر کا صفایا ہو چکا ہے۔ Financial Markets میں غیر یقینی صورتحال اور امریکہ کی معیشت کی ممکنہ مشکلات نے کاروباری اداروں اور صارفین کا اعتماد کم کیا ہے۔

Trade Partners کا ردعمل: جوابی کاروائی کا امکان

دوسری جانب، Trade Partners جیسے Canada، Mexico، اور یورپی یونین نے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اگر Reciprocal Tariffs پر عملدرآمد جاری رہا تو وہ اپنی Trade Strategies کو تبدیل کریں گے اور جوابی Tariffs نافذ کریں گے۔ European Union کی صدر Ursula von der Leyen نے اس بات کا عندیہ دیا کہ یورپ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی کاروائی کرے گا۔

امریکی Tariffs کا عالمی اثر: ایشیائی مارکیٹس پر اثرات

اس اقتصادی جنگ کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔ China، Japan، South Korea، اور دیگر Asian Markets میں بھی US Tariffs کے اثرات نظر آئیں گے۔ خاص طور پر Vietnam، Taiwan، اور Thailand جیسے ممالک جو عالمی Supply Chain کا حصہ ہیں، انہیں امریکی محصولات کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان ممالک کی Exports میں کمی اور GDP Growth پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Bilateral Trade Deals اور Regional Agreements: امریکہ کے لیے چیلنج

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی Manufacturing کو فروغ دینا ہو سکتا ہے. لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ Bilateral Trade Deals اور Regional Trade Agreements کے ذریعے دیگر ممالک United States سے خود کو بچانے کی کوشش کریں گے۔ China, Russia, اور India جیسے ممالک اپنے تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے نئے معاہدے کر سکتے ہیں. جس سے امریکہ کی Export Market مزید محدود ہو سکتی ہے۔

امریکی معیشت پر اثرات

ان تمام تبدیلیوں کے باوجود، Donald Trump کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے امریکہ کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا. اور عالمی Trade Chain میں امریکہ کا کردار مضبوط ہوگا۔ لیکن اس کے اثرات عالمی سطح پر دیکھے جائیں گے. اور آنے والے مہینوں میں Global Investment اور Forex Market میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ Trump Tariffs کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گا. بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ Trade Policies میں تبدیلیاں آئیں گی. اور عالمی تجارتی تعلقات میں نیا توازن پیدا ہوگا۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button