امریکہ اور یورپی یونین کے Trade Deal سے Oil Market میں تیزی

Brent and WTI Crude Prices Rebound Amid Tariff Truce and Rising Global Demand

دنیا بھر کے معاشی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جب US اور European Union کے درمیان اہم US-EU Trade Deal طے پا گئی. اس معاہدے سے نہ صرف عالمی تجارتی خدشات کم ہوئے بلکہ Oil Market میں نئی جان ڈال دی گئی۔ عالمی سطح پر WTI Crude Oil اور Brent کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ چین کے ساتھ ممکنہ Tariff Pause نے سرمایہ کاروں کو مزید حوصلہ دیا۔

خلاصہ (Summary)

  • WTI Crude Oil کی قیمت 22 سینٹس کے اضافے کے بعد $65.38 فی بیرل پر پہنچ گئی۔

  • Brent فیوچرز کی قیمت 22 سینٹس بڑھ کر $68.66 فی بیرل ہو گئی۔

  • US-EU Trade Deal نے ایک بڑے تجارتی تصادم کو روکا اور عالمی مارکیٹ کو سہارا دیا۔

  • US-China مذاکرات اسٹاک ہوم میں متوقع، جس سے Tariff Pause میں توسیع کی امید۔

  • OPEC+ کی جانب سے اگست میں پیداوار میں اضافے کا فیصلہ متوقع۔

  • یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیلی بندرگاہوں سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی۔

  • JP Morgan کے مطابق، جولائی میں عالمی Oil Demand میں 600,000 بیرل یومیہ اضافہ۔

US-EU Trade Deal کے بعد عالمی تجارت میں نرمی اور Oil Market کی بحالی

بین الاقوامی سطح پر تجارتی ماحول میں نرمی کی ایک تازہ لہر اس وقت دیکھنے کو ملی جب United States اور European Union کے درمیان ایک اہم Trade Deal طے پائی. جس کے تحت یورپی مصنوعات پر 15% درآمدی ٹیکس نافذ کیا جائے گا۔ یہ شرح اس سے نصف ہے جو پہلے تجویز کی گئی تھی. یعنی 30% یا اس سے زیادہ۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایک ممکنہ Trade War کا خطرہ ٹال دیا. بلکہ عالمی معیشت میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔

یہ معاہدہ ایک نازک وقت پر سامنے آیا ہے، جب US-China Tariff Pause کی مدت 12 اگست کو ختم ہونے جا رہی ہے۔ اگر اس میں توسیع نہ کی جاتی، تو دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ایک نیا تجارتی تصادم جنم لے سکتا تھا. جو نہ صرف اسٹاک مارکیٹس بلکہ عالمی Oil Demand پر بھی منفی اثر ڈال سکتا تھا۔

اس پیش رفت کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اسٹاک ہوم میں متوقع US-China مذاکرات نے مارکیٹ میں امید کی کرن پیدا کی ہے کہ دونوں طاقتیں باہمی اقتصادی مفاد کو ترجیح دیں گی۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور Tariff Pause میں توسیع ہو جاتی ہے. تو نہ صرف عالمی تجارتی روانی بحال ہوگی بلکہ Oil Market میں بھی ایک مضبوط اور پائیدار بہتری آ سکتی ہے۔

WTI Crude Oil as on 28th July 2025, as Oil Market got direction after EU-US Trade Deal
WTI Crude Oil as on 28th July 2025, as Oil Market got direction after EU-US Trade Deal

عالمی سپلائی چین رکاوٹوں سے آزاد.

ایسی صورتِ حال میں صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات کی بحالی اور لاجسٹک لاگت میں کمی جیسے عوامل Oil Consumption کو سہارا دیں گے۔ جب عالمی سپلائی چین رکاوٹوں سے آزاد ہو گی، تو WTI Crude Oil اور Brent دونوں میں طلب بڑھے گی. جس کا براہِ راست اثر قیمتوں میں اضافے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی واپسی کی صورت میں نمودار ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار اس US-EU Trade Deal کو ایک "Game Changer” قرار دے رہے ہیں۔ اس ڈیل نے نہ صرف ایک ممکنہ تجارتی بحران کا رخ موڑا بلکہ عالمی معیشت میں استحکام کی بنیاد بھی فراہم کی۔ مستقبل میں اگر US-China کے تعلقات میں مزید بہتری آتی ہے تو Oil Market مزید تقویت پائے گی. اور سرمایہ کار طویل مدتی مواقع کی تلاش میں توانائی کے شعبے میں سرگرم ہو جائیں گے۔

Venezuela کی واپسی اور OPEC+ کا محتاط انداز

عالمی Oil Market پر ایک اور اہم اثر ڈالنے والی پیش رفت Venezuela میں ہو رہی ہے، جہاں سرکاری آئل کمپنی PDVSA نے اپنے معطل شدہ Joint Ventures کی دوبارہ بحالی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ کمپنی ذرائع کے مطابق، Biden Era Licenses کے طرز پر نئے اجازت نامے جاری ہونے کی صورت میں، PDVSA کی پارٹنر کمپنیاں دوبارہ کام کا آغاز کر سکیں گی اور Venezuela Oil کی برآمدات عالمی مارکیٹ میں بحال ہو جائیں گی۔

یہ پیش رفت اس وقت ہو رہی ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت — خاص طور پر سابق صدر Donald Trump کے زیر اثر دوبارہ Oil Swap Licenses کی منظوری پر غور کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو Venezuela Oil Supply میں کئی لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ ممکن ہے، جو عالمی Oil Market Supply میں اضافے کا سبب بنے گا اور قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

وینزویلا کی تیل کی پیداوار کے حوالے سے اہمیت.

Venezuela ایک وقت میں دنیا کا سرفہرست تیل پیدا کرنے والا ملک تھا، مگر پابندیوں، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کے باعث اس کی پیداوار میں شدید کمی آئی۔ اب اگر اسے عالمی مارکیٹ تک رسائی دوبارہ ملتی ہے، تو یہ نہ صرف رسد میں اضافہ کرے گا بلکہ OPEC+ کے اندرونی توازن پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، جہاں ہر ملک اپنی مارکیٹ شیئر کی حفاظت کے لیے سرگرم ہے۔

اسی تناظر میں OPEC+ کی حکمتِ عملی بھی کافی نپی تلی دکھائی دیتی ہے۔ گروپ کے آٹھ رکن ممالک اگست کے مہینے میں مجموعی طور پر 548,000 بیرل یومیہ اضافی پیداوار پر متفق ہو چکے ہیں۔ یہ فیصلہ اس امید پر کیا گیا ہے کہ موسم گرما میں Oil Demand میں قدرتی اضافہ ہو گا، جو اضافی رسد کو جذب کر سکے گا۔

تنظیم کی مانیٹرنگ کمیٹی کی پیر کے روز ہونے والی میٹنگ کو عالمی سطح پر بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے. مگر فی الحال کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا رہی۔ چار اہم OPEC+ Delegates کا کہنا ہے کہ موجودہ منصوبے میں کوئی رد و بدل متوقع نہیں. کیونکہ گروپ مارکیٹ شیئر کو بحال کرنے کی کوشش میں ہے. جبکہ قیمتوں میں استحکام بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔

کیا وینزویلا کے سپلائی چین میں شامل ہونے سے Oil Market پر دباؤ آ سکتا ہے؟

تاہم، اگر Venezuela اچانک بڑے پیمانے پر تیل کی برآمدات شروع کر دیتا ہے تو OPEC+ کے موجودہ فارمولے کو دوبارہ سے ترتیب دینے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف Oil Prices پر نیا دباؤ پڑے گا بلکہ رکن ممالک کے درمیان پیداوار کے کوٹے پر بھی اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔

یہ تمام عناصر مل کر ایک پیچیدہ اور حساس توازن تشکیل دے رہے ہیں. جہاں ایک طرف طلب میں اضافہ، اور دوسری طرف رسد میں ممکنہ توسیع، عالمی Oil Market کے لیے غیر یقینی صورتحال کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور Oil Market پر اثرات.

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی Oil Market کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ بیان میں یمن کے حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ ان تمام بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے. جو اسرائیلی بندرگاہوں سے کسی بھی قسم کا تجارتی تعلق رکھتے ہیں. چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ یہ اعلان Gaza Conflict کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے. جسے حوثی گروپ نے اپنی چوتھی عسکری کارروائی کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا رہی ہے. بلکہ عالمی Oil Supply Chains کے لیے بھی شدید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ کمپنیاں جو مشرق وسطیٰ کے راستے تیل کی ترسیل کرتی ہیں. اب بڑھتے ہوئے حملوں اور بحری راستوں کی غیر یقینی صورتحال کے باعث انشورنس کی لاگت میں اضافے اور شپنگ میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا کر سکتی ہیں۔

صورتحال سے مارکیٹ ڈیمانڈ پر پڑنے والے متوقع اثرات.؟

یہ خدشات سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں. کیونکہ مشرق وسطیٰ عالمی Oil Supply کا ایک نہایت اہم مرکز ہے۔ اگر خلیج عدن، باب المندب یا دیگر اسٹریٹجک سمندری راستے متاثر ہوتے ہیں. تو یہ عالمی سطح پر WTI Crude Oil اور Brent کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے جغرافیائی تناؤ نے اچانک قیمتوں میں اضافہ کیا تھا . اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ اس وقت حد درجہ محتاط اور حساس رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

عالمی مارکیٹس میں اس کشیدگی کے اثرات فوری طور پر دیکھے گئے. جہاں Oil Futures میں اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا. اور سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کیا۔ ان حالات میں اگر Gaza Conflict مزید شدت اختیار کرتا ہے. تو Oil Market Volatility میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے. جو نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

طلب و رسد کا عالمی منظرنامہ

JP Morgan کے مطابق جولائی میں عالمی Oil Demand میں 600,000 بیرل یومیہ اضافہ ہوا. جب کہ ذخائر میں بھی 1.6 ملین بیرل یومیہ کا اضافہ دیکھا گیا۔ موسم گرما کی تعطیلات، سفری سرگرمیوں میں اضافہ، اور صنعتی پیداوار میں تیزی نے اس رجحان کو سہارا دیا۔

US-EU Trade Deal اور US-China Tariff Pause کی پیش رفت نے عالمی Oil Market میں نئی جان ڈال دی ہے۔ اگرچہ کچھ خطرات جیسے Venezuela Supply اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی موجود ہیں. لیکن فی الحال مارکیٹ کا مزاج مثبت دکھائی دیتا ہے۔ آئندہ دنوں میں OPEC+ کے فیصلے اور US-China مذاکرات کی روشنی میں WTI Crude Oil اور Brent کی سمت کا تعین ہوگا۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button