پاکستان میں Cryptocurrencies کا نیا دور: کیا Pakistan Crypto Ban ختم ہونے والا ہے؟
How PVARA’s first meeting may reshape Pakistan’s digital economy and unlock new financial opportunities
پاکستان کی معیشت میں ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ PVARA کی پہلی میٹنگ نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے. جو ملک کی مالیاتی سمت کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے 2018 کے متنازع سرکولر پر نظرثانی کا مطلب ہے کہ پاکستان Cryptocurrencies کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک سگنل ہے. کہ پاکستان اب ڈیجیٹل فنانس کے میدان میں پیچھے نہیں رہے گا۔
خلاصہ: اہم نکات
-
پہلی میٹنگ: Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority (PVARA) نے اپنی پہلی میٹنگ منعقد کی، جو ملک میں باقاعدہ کرپٹو ریگولیشن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
-
پابندی کی منسوخی پر غور: بورڈ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 2018 کے سرکولر (BPRD Circular No. 03 of 2018) کو منسوخ کرنے پر غور کیا. جس کے بعد پاکستان میں کرپٹو کے لین دین پر عائد پابندی اٹھائی جا سکتی ہے۔
-
شکایات کا پورٹل: کرپٹو صارفین کے تحفظ کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے تعاون سے ایک شکایتی پورٹل بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔
-
مستقبل کا روڈ میپ: اتھارٹی نے ریگولیٹری فریم ورک (Regulatory Framework) ، ٹیکس پالیسیوں (Taxation Policies) ، اور بین الاقوامی معیارات (International Standards) کو اپنانے کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
Cryptocurrencies پر پابندی کی کہانی: SBP کا سرکولر کیا تھا؟
اسٹیٹ بینک نے کرپٹو پر پابندی کیوں لگائی تھی؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپریل 2018 میں ایک سرکولر (Circular No. 03 of 2018) جاری کیا تھا. جس میں تمام مالیاتی اداروں کو ورچوئل کرنسیز (Virtual Currencies) اور ٹوکنز (Tokens) کے لین دین سے روک دیا گیا تھا۔
اس پابندی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کرپٹو کو منی لانڈرنگ (Money Laundering) ، دہشت گردی کی فنانسنگ (Terrorism Financing) اور مالیاتی فراڈ (Financial Fraud) کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اس وقت Cryptocurrencies کی دنیا میں ریگولیشن کا کوئی واضح فریم ورک موجود نہیں تھا. اور عالمی سطح پر بھی اس حوالے سے بے یقینی کی فضا تھی۔ یہ ایک محتاط قدم تھا. جو کسی بھی ممکنہ مالیاتی خطرے سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا۔
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کیا ہے؟
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) ایک نیا ادارہ ہے. جسے ملک میں ورچوئل اثاثوں (Virtual Assets) اور بلاک چین (Blockchain) ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے اور فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
اس کا مقصد مالیاتی نظام کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے اس شعبے میں جدت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس اتھارٹی کی تشکیل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے معیارات کو پورا کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق، اس کا مقصد ایک ایسا ماحول بنانا ہے. جہاں ورچوئل اثاثے شفاف اور محفوظ طریقے سے کام کر سکیں، جس سے صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کا اس اتھارٹی کے قیام میں اہم کردار رہا ہے. جس نے اسٹیک ہولڈرز (Stakeholders) سے وسیع مشاورت کے بعد یہ فریم ورک تیار کیا۔
کیا SBP کی پابندی اٹھنے کے بعد پاکستان میں Cryptocurrencies لیگل ہو جائیں گے؟
پابندی ہٹانے کے بعد کیا ہو گا؟
اگر اسٹیٹ بینک کا 2018 کا سرکولر منسوخ ہو جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ Cryptocurrencies فوراً لیگل ٹینڈر (Legal Tender) بن جائے گی۔ اس کا اصل مطلب یہ ہو گا کہ مالیاتی اداروں کو کرپٹو ایکسچینجز (Crypto Exchanges) اور ورچوئل اثاثوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
صارفین کے لیے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا. کہ وہ بینکوں کے ذریعے براہ راست Cryptocurrencies خرید اور فروخت کر سکیں گے۔ اس سے غیر رسمی (Informal) لین دین میں کمی آئے گی. اور سرمایہ کاروں کو ایک قانونی اور محفوظ پلیٹ فارم ملے گا۔ یہ قدم مالیاتی اداروں کو کرپٹو کی دنیا میں نئے مواقع تلاش کرنے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
مستقبل کا روڈ میپ اور اس کے ممکنہ اثرات
PVARA کے اگلے اقدامات کیا ہوں گے؟
PVARA نے مستقبل کے لیے ایک واضح روڈ میپ (Roadmap) تیار کیا ہے۔ اس کے اہم نکات میں شامل ہیں:
-
لائسنسنگ فریم ورک: ورچوئل اثاثہ جات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ایک لائسنسنگ فریم ورک (Licensing Framework) تیار کیا جا رہا ہے. تاکہ صرف قابل اعتماد کمپنیاں ہی کام کر سکیں۔
-
ٹیکس پالیسی: کرپٹو کے منافع پر ٹیکس کے نظام کو واضح کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی کمیٹی کام کرے گی۔
-
سینیڈ باکس پروگرام: ایک ریگولیٹری سینیڈ باکس (Regulatory Sandbox) قائم کیا جائے گا، جہاں نئی ٹیکنالوجیز اور کاروباری ماڈلز کو ایک کنٹرولڈ ماحول میں تجربہ کیا جا سکے گا۔ یہ تجربہ نئی کمپنیوں کو بغیر کسی بڑے خطرے کے مارکیٹ میں آنے میں مدد دے گا۔
-
بین الاقوامی تعلقات: عالمی سطح پر دیگر ریگولیٹری اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے گا. تاکہ بین الاقوامی معیار (AML/CFT Standards) کی پاسداری ہو سکے۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کرپٹو کے شعبے کو محض ایک غیر قانونی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھ رہا. بلکہ اسے باقاعدہ مالیاتی نظام میں ضم کرنے کا خواہاں ہے۔
حرف آخر.
PVARA کی پہلی میٹنگ پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ State Bank of Pakistan کی پابندی اٹھانے پر غور اور ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری اس بات کا ثبوت ہے. کہ پاکستان عالمی مالیاتی منظر نامے میں ایک فعال اور مستقبل کے لیے تیار کھلاڑی بننا چاہتا ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف سرمایہ کاروں اور Cryptocurrencies کے ٹریڈرز (Crypto Traders) کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی. بلکہ ملک میں بلاک چین پر مبنی صنعتوں کو بھی فروغ دے گی۔
اس فیصلے کا حقیقی اثر وقت کے ساتھ سامنے آئے گا. لیکن ایک چیز یقینی ہے: پاکستان اب Cryptocurrencies کی دنیا سے منہ موڑنے کے بجائے اسے گلے لگانے کے لیے تیار ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ فیصلہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہو گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



