Bitcoin کی زبردست واپسی، ٹرمپ کے بیانات اور Interest Rates کے بارے میں بے یقینی.

Trump’s Trade Deficit Claim Sparks Interest Rate Fears and Dollar Strength Concerns in Crypto Market

گزشتہ چند گھنٹوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں (Financial Markets) میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیرف (Tariffs) پالیسیوں کی وجہ سے امریکی تجارتی خسارہ (Trade Deficit) 78 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔ اس بیان کے فوراً بعد بٹ کوائن (BTC) کی قیمت میں زبردست اتار چڑھاؤ (Volatility) دیکھا گیا۔ Bitcoin جو کہ 65,900 ڈالر تک گر گیا تھا. دوبارہ سنبھل کر 67,000 ڈالر کی سطح پر آ گیا۔

ایک تجربہ کار مارکیٹ اسٹریٹیجسٹ کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں کہ سرمایہ کار اب اعداد و شمار کی درستی سے زیادہ اس بات پر غور کر رہے ہیں. کہ اگر یہ ٹیرف پالیسیاں برقرار رہتی ہیں، تو افراط زر (Inflation) اور سود کی شرح (Interest Rates) پر اس کے کیا اثرات ہوں گے۔

اہم نکات (Key Points)

  • ٹرمپ کا دعویٰ: ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ٹیرف کی بدولت تجارتی خسارہ 78% کم ہوا ہے. جو کرپٹو مارکیٹ میں ہلچل کا باعث بنا۔

  • بٹ کوائن کی پوزیشن: Bitcoin فی الحال ایک "Macro Proxy” کے طور پر کام کر رہا ہے. یعنی اس کی قیمت عالمی معاشی خبروں پر زیادہ اثر لیتی ہے۔

  • سود کی شرح کا خطرہ: اگر ٹیرف کی وجہ سے درآمدی اشیاء مہنگی ہوتی ہیں، تو فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) سود کی شرح کو طویل عرصے تک بلند (Higher-For-Longer) رکھ سکتا ہے۔

  • ڈالر کی مضبوطی: سود کی شرح زیادہ ہونے سے ڈالر مضبوط ہوتا ہے. جو عموماً Bitcoin جیسی پرخطر اثاثوں (Risk Assets) کے لیے منفی ثابت ہوتا ہے۔

ٹرمپ کے بیانات اور تجارتی خسارہ: حقیقت کیا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ "امریکی تجارتی خسارہ ٹیرف کی وجہ سے 78 فیصد کم ہوا ہے. اور یہ جلد ہی مثبت (Positive) ہو جائے گا۔”

فنانشل مارکیٹس کے لیے اصل اہمیت اس ریاضی (Math) کی نہیں بلکہ اس کے پیچھے چھپے معاشی پیغام کی ہے۔ ٹیرف کا مطلب ہے درآمدی سامان پر ٹیکس، جو بالآخر قیمتوں میں اضافے اور افراط زر (Inflation) کا سبب بنتا ہے۔ جب افراط زر بڑھنے کا خدشہ ہو. تو مرکزی بینک سود کی شرح میں کمی نہیں کرتے. جس سے Bitcoin کی قیمت پر دباؤ آتا ہے۔

معاشی ڈیٹا اور مارکیٹ کا ردعمل

جنوری کے آغاز میں امریکی تجارتی خسارہ واقعی کم ہو کر 29.4 ارب ڈالر رہ گیا تھا. جو 2009 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی بڑی وجہ "Non-Monetary Gold” (غیر مانیٹری سونا) کی منتقلی تھی. نہ کہ صرف مستقل تجارتی بہتری۔

میں نے 2018-2019 کی چین امریکہ تجارتی جنگ کے دوران دیکھا تھا. کہ جب بھی ٹیرف کی خبر آتی، مارکیٹ میں فوری طور پر "Risk-Off” موڈ فعال ہو جاتا۔ اس وقت بھی Bitcoin  نے بالکل اسی طرح ری ایکٹ کیا تھا. جیسے آج کر رہا ہے. کیونکہ بڑے ٹریڈرز اسے لیکویڈیٹی (Liquidity) کے پیمانے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

Bitcoin Price as on 19th Feb. 2026
Bitcoin Price as on 19th Feb. 2026

ٹیرف Bitcoin کی قیمت کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟

جب ہم Bitcoin Market Reaction to US Trade Policy کا تجزیہ کرتے ہیں. تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹیرف براہ راست بٹ کوائن پر اثر انداز نہیں ہوتے. بلکہ یہ ایک زنجیر (Chain Reaction) کی طرح کام کرتے ہیں.

  1. ٹیرف کا نفاذ: درآمدی اشیاء پر ٹیکس لگتا ہے۔

  2. مہنگائی میں اضافہ: اشیاء مہنگی ہونے سے افراط زر بڑھتا ہے۔

  3. سخت مانیٹری پالیسی: فیڈرل ریزرو افراط زر روکنے کے لیے سود کی شرح (Interest Rates) زیادہ رکھتا ہے۔

  4. ڈالر کی مضبوطی: زیادہ سود کی وجہ سے سرمایہ کار ڈالر خریدتے ہیں۔

  5. بٹ کوائن پر دباؤ: جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے، تو Bitcoin اور اسٹاک مارکیٹ جیسی پرخطر جگہوں سے پیسہ نکل جاتا ہے۔

عنصر (Factor) اثر (Impact) وجہ (Reason)
ٹیرف (Tariffs) اضافہ درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے
ڈالر انڈیکس (DXY) مضبوطی سرمایہ کاروں کا ڈالر پر اعتماد بڑھتا ہے
بٹ کوائن (BTC) اتار چڑھاؤ لیکویڈیٹی کم ہونے کا خدشہ

Bitcoin بطور "Macro Proxy”: اس کا کیا مطلب ہے؟

آج کل Bitcoin صرف ایک کرپٹو کرنسی نہیں رہی. بلکہ یہ عالمی معیشت کا ایک آئینہ (Proxy) بن چکی ہے۔ اگر عالمی سطح پر نقد رقم (Liquidity) زیادہ ہو، تو بٹ کوائن اوپر جاتا ہے۔ اگر ٹرمپ کے بیانات سے مارکیٹ کو یہ سگنل ملے کہ "مالیاتی حالات سخت (Tight Financial Conditions)” ہونے والے ہیں. تو Bitcoin کے لیے اپنی حالیہ تیزی برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

کیا یہ صرف سیاسی شور (Political Noise) ہے؟

بہت سے ٹریڈرز کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات صرف سیاسی مہم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اگر مارکیٹ اسے "شور” سمجھ کر نظر انداز کر دے. تو بٹ کوائن دوبارہ اپنے تکنیکی لیولز (Technical Levels) اور ای ٹی ایف (ETF) کے بہاؤ (Flows) پر توجہ مرکوز کرے گا۔

اختتامیہ.

ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی خسارے سے متعلق بیانات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ Bitcoin اب عالمی سیاست اور معاشیات سے الگ نہیں رہا۔ Bitcoin Market Reaction to US Trade Policy یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹریڈرز اب صرف چارٹس نہیں. بلکہ وائٹ ہاؤس اور ٹرتھ سوشل (Truth Social) کی پوسٹس کو بھی باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔

اگر ٹیرف کا یہ سلسلہ معاشی سختی کی طرف لے گیا، تو ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر یہ صرف سیاسی بیان بازی ثابت ہوئی، تو بٹ کوائن جلد ہی اپنی پرانی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ٹرمپ کی پالیسیاں کرپٹو کے لیے لانگ ٹرم میں فائدہ مند ہوں گی یا نقصان دہ؟ نیچے کمنٹس میں بتائیں!

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button