Bitcoin کی حالیہ گراوٹ اور 2025 کا اختتام: کیا یہ محض ایک تھکن ہے؟
Weak Q4 performance, cautious sentiment, and technical rebounds define Bitcoin’s uncertain close to 2025
Bitcoin کے لیے سال 2025 کا آخری حصہ (Q4) تاریخی طور پر غیر معمولی ثابت ہو رہا ہے۔ جہاں ماضی میں اکتوبر سے دسمبر کا عرصہ بڑی ریلیوں کے لیے جانا جاتا تھا. وہیں اس بار مارکیٹ 2018 کے بعد اپنے بدترین چوتھے کوارٹر (Fourth Quarter) کا سامنا کر رہی ہے۔ Bitcoin کی قیمت 90,000 ڈالر کے قریب پہنچنے کے باوجود ماہرین اسے مکمل ریکوری (Recovery) نہیں بلکہ مارکیٹ کی تھکن (Exhaustion) قرار دے رہے ہیں۔
سال 2025 کے آخری دنوں میں Bitcoin کی کہانی امید اور خوف کے بیچ معلق نظر آتی ہے۔ اگرچہ ماضی کی Q4 ریلیاں یاد دلکشی رکھتی ہیں. مگر موجودہ ماحول میں یہ ریلی اعتماد کی واپسی کے بجائے محض ایک وقفہ محسوس ہو رہی ہے. جہاں ہر نئی تیزی کے ساتھ واپسی کا خدشہ بھی جڑا ہوا ہے۔
اہم نکات (Key Points)
-
تاریخی گراوٹ: بٹ کوائن چوتھے کوارٹر میں 22% سے زائد گر چکا ہے. جو 2018 کے بعد سال کا بدترین اختتام ہے۔
-
نفسیاتی حد: کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی مالیت (Market Cap) 3 ٹریلین ڈالر سے اوپر ہے. لیکن خریداروں میں اعتماد کی کمی واضح ہے۔
-
قیمت کا دباؤ: بٹ کوائن اپنی 2025 کی بلند ترین سطح (Peak) سے اب بھی تقریباً 30% نیچے ٹریڈ ہو رہا ہے۔
-
ماہرین کی رائے: حالیہ معمولی بہتری کو تکنیکی (Technical) عوامل اور فروخت کے شدید دباؤ کے بعد ایک عارضی اچھال قرار دیا جا رہا ہے۔
Bitcoin کی قیمت میں حالیہ کمی کی کیا وجہ ہے؟
Bitcoin Price میں حالیہ کمی کی بڑی وجہ مارکیٹ تھکن (Market Fatigue) اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال ہے۔ اگرچہ بٹ کوائن 88,000 سے 90,000 ڈالر کے درمیان جدوجہد کر رہا ہے. لیکن امریکی ٹریڈنگ آورز (U.S. Trading Hours) کے دوران اچانک آنے والی فروخت (Sell-Off) یہ ظاہر کرتی ہے کہ بڑے سرمایہ کار ابھی تک پُراعتماد نہیں ہیں۔

کیا 3 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ کیپ ایک مضبوط اشارہ ہے؟
صرف مارکیٹ کیپ (Market Capitalization) کا بڑھنا ہمیشہ مضبوطی کی علامت نہیں ہوتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ کا 3 ٹریلین ڈالر کی نفسیاتی حد (Psychological Level) سے اوپر جانا خریداروں کی ہمت کے بجائے بیچنے والوں کی عارضی خاموشی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
یہاں میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ جب مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح سے 30% نیچے ہو. اور ایک بڑی نفسیاتی حد پر بار بار ٹکرائے. تو اسے ‘ڈسٹری بیوشن فیز’ (Distribution Phase) کہتے ہیں۔ میں نے 2018 اور 2022 میں دیکھا ہے. کہ ایسی صورتحال میں ریٹیل ٹریڈرز اکثر ‘فومو’ (FOMO) کا شکار ہو کر انٹری لیتے ہیں. جبکہ بڑے ادارے اپنی پوزیشنز ہلکی کر رہے ہوتے ہیں۔
تکنیکی ری باؤنڈ اور چھپی ہوئی کمزوری.
ماہرین کے مطابق حالیہ مضبوطی زیادہ تر تکنیکی عوامل کی مرہونِ منت ہے. کیونکہ کئی ہفتوں کی فروخت کے بعد مارکیٹ ایک کم بنیاد پر کھڑی تھی۔ ایشیائی اوقات میں قیمت 88 ہزار ڈالر کے قریب رہی. مگر انتباہ دیا جا رہا ہے. کہ یہ رفتار گمراہ کن ہو سکتی ہے، خاص طور پر US Trading Hours کے دوران، جہاں تیز پلٹاؤ کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
Bitcoin اور مارکیٹ کے دیگر ٹوکنز کی کارکردگی
نیچے دیے گئے ٹیبل میں حالیہ 24 گھنٹوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا گیا ہے:
| ٹوکن (Token) | حالیہ تبدیلی (Change) | صورتحال (Status) |
| Bitcoin (BTC) | +1.5% | $90,000 کی مزاحمت (Resistance) کا سامنا |
| Ethereum (ETH) | +2% | سست رفتاری سے ریکوری کی کوشش |
| Solana (SOL) | +2% | رینج باؤنڈ (Range-Bound) موومنٹ |
| Cardano (ADA) | +2% | استحکام (Consolidation) |
| Aave (AAVE) | -7% | گورننس کے مسائل کی وجہ سے بدترین کارکردگی |
فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس (Fear and Greed Index) کیا کہہ رہا ہے؟
موجودہ حالات میں مارکیٹ کا فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس 25 پر ہے. جو "شدید خوف” (Extreme Fear) سے تھوڑا بہتر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹریڈرز اب مایوسی سے تو نکل رہے ہیں. لیکن وہ ابھی بھی خطرہ مول لینے (Risk-Taking) کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ماہرین کی رائے: الیکس کپٹسیکیویچ کا تجزیہ
FxPro کے چیف مارکیٹ اینالسٹ (Analyst) الیکس کپٹسیکیویچ کے مطابق، حالیہ تیزی صرف ایک تکنیکی کوشش ہے. اسے مکمل ریکوری کہنا قبل از وقت ہوگا۔ وہ خبردار کرتے ہیں. کہ Bitcoin کا سال کے آغاز کی قیمتوں سے نیچے ہونا سرمایہ کاروں کے لیے مایوس کن ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی: ٹریڈرز کو کیا کرنا چاہیے؟
موجودہ مارکیٹ میں جلد بازی سے بچنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔
-
بریک آؤٹ کا انتظار کریں: جب تک Bitcoin واضح طور پر اپنی مزاحمتی سطح (Resistance Level) کو پار نہیں کرتا، نئی پوزیشنز سے گریز کریں۔
-
لیکویڈیٹی پر نظر رکھیں: امریکی مارکیٹ کے کھلنے کے اوقات میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھ جاتا ہے. اس دوران سٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں۔
-
تاریخی پیٹرن سمجھیں: 2025 کا Q4 غیر معمولی طور پر کمزور رہا ہے. جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ سائیکل (Market Cycle) بدل رہا ہے۔
حرف آخر.
بٹ کوائن 2025 کے اختتام پر ایک مشکل موڑ پر کھڑا ہے۔ اگرچہ 90,000 ڈالر کی سطح ایک نئی امید پیدا کرتی ہے. لیکن ڈیٹا بتاتا ہے کہ مارکیٹ ابھی تک مکمل طور پر ریچھوں (Bears) کے چنگل سے نہیں نکلی۔ 22% کی سہ ماہی گراوٹ ایک بڑا انتباہ ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بٹ کوائن 2026 کے آغاز تک 100,000 ڈالر کی سطح عبور کر سکے گا. یا ہم مزید گراوٹ دیکھیں گے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔ ایسے ہی مزید تحقیقاتی مضامین پڑھنے کیلئے ہماری ویب سائٹ https://urdumarkets.com/category/news/crypto/ وزٹ کریں.
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



