ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ اور بٹ کوائن کی کارکردگی

Crypto Strength Challenges Equities as Oil Surge and Safe-Haven Demand Redefine Investor Strategy

حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور اس کے بعد ہونے والے حملوں نے عالمی مارکیٹس میں کھلبلی مچا دی ہے۔ جہاں روایتی اسٹاک مارکیٹیں (Equities) دباؤ کا شکار نظر آئیں، Bitcoin نے ایک حیران کن لچک (Resilience) کا مظاہرہ کیا۔

ہفتے کے اختتام پر جب $63,000 کی نچلی سطح کو چھونے کے بعد مارکیٹ میں $300 ملین کی لیکویڈیشنز (Liquidations) ہوئیں، تو ماہرین کو خدشہ تھا. کہ کرپٹو مارکیٹ کریش کر جائے گی۔ تاہم، Bitcoin نے تیزی سے ریکوری کی اور دوبارہ $66,500 کی سطح پر آ گیا۔ یہ آرٹیکل اس بات کا احاطہ کرے گا. کہ کس طرح بٹ کوائن "رسک آف” (Risk-Off) سیشن میں روایتی اثاثوں کے مقابلے میں بہتر ثابت ہوا۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • Bitcoin کی لچک: ایران تنازع کے باوجود بٹ کوائن $63,000 سے بحال ہو کر دوبارہ $66,500 کی رینج میں داخل ہو گیا۔

  • اسٹاک مارکیٹ بمقابلہ کرپٹو: S&P 500 اور Nasdaq کے فیوچرز میں گراوٹ دیکھی گئی. جبکہ کرپٹو مارکیٹ نے ہفتے کے دوران ہی اپنا زیادہ تر نقصان پورا کر لیا۔

  • سیف ہیون ڈیمانڈ: سونے، چاندی اور خام تیل (Oil) کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے. کہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

  • ڈیفائی (DeFi) کی کارکردگی: MORPHO، JUP، اور AAVE جیسے ٹوکنز نے مارکیٹ کے منفی رجحان کے باوجود مثبت واپسی کی۔

  • لیکویڈیشنز کا اثر: $300 ملین سے زائد کے لانگ پوزیشنز (Long Positions) ختم ہونے کے باوجود مارکیٹ میں پینک (Panic) نہیں دیکھا گیا۔

کیا Bitcoin ایک محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) بن رہا ہے؟

جب بھی عالمی سطح پر جنگی حالات پیدا ہوتے ہیں، سرمایہ کار اپنا پیسہ اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے (Gold) یا نقدی میں منتقل کرتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران ہم نے دیکھا. کہ خام تیل $82 فی بیرل تک جا پہنچا. اور سونے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

حالیہ ڈیٹا کے مطابق بٹ کوائن نے روایتی اسٹاکس (S&P 500 اور Nasdaq) کے مقابلے میں کم گراوٹ دکھائی ہے۔ جب امریکی مارکیٹیں پیر کو کھلیں تو وہ دباؤ میں تھیں. جبکہ Bitcoin پہلے ہی اپنی ریکوری شروع کر چکا تھا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کرپٹو اب عالمی جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) تنازعات کے دوران ایک متبادل اثاثے کے طور پر ابھر رہا ہے۔

میں نے 2020 کے آغاز میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی. جب عالمی حالات خراب ہوئے تھے۔ اس وقت مارکیٹ میں فوری کریش آیا تھا. لیکن تجربہ کار ٹریڈرز جانتے ہیں کہ جب "بلڈ آن دی اسٹریٹس” (blood on the streets) ہو. یعنی ہر طرف خوف ہو، تو وہی وقت بہترین خریداری کا ہوتا ہے۔ Bitcoin کا $63,000 سے اچھال لینا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ بڑے سرمایہ کار (Whales) اس قیمت پر خریدنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔

مارکیٹ میں $300 ملین کی لیکویڈیشنز کا کیا مطلب ہے؟

جیسے ہی ایران پر حملوں کی خبر آئی، کرپٹو مارکیٹ میں $300 ملین مالیت کے "لانگ” سودے (Bullish Bets) منسوخ یا لیکویڈیٹ ہو گئے۔

لیکویڈیشنز کی تفصیلات:

ان لیکویڈیشنز کے باوجود، مارکیٹ میں "پینک سیلنگ” (Panic Selling) نہیں ہوئی۔ ڈیر بٹ (Deribit) کے ڈیٹا کے مطابق، بٹ کوائن کی اتار چڑھاؤ کی شرح (Volatility Index – BVIV) 58.8% پر مستحکم رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ کے بڑے کھلاڑی اس اتار چڑھاؤ کے لیے پہلے سے تیار تھے۔
Bitcoin Price as on 2nd March 2026
Bitcoin Price as on 2nd March 2026

ڈیفائی (DeFi) ٹوکنز کی حیران کن کارکردگی

حالیہ کشیدگی کے دوران جہاں کچھ ٹوکنز گرے، وہیں ڈیفائی سیکٹر کے چند ٹوکنز نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔

MORPHO اور JUP کی بحالی

MORPHO ٹوکن نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5% کا اضافہ کیا، جبکہ JUP اور AAVE بھی سبز رنگ (Green) میں نظر آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مرکزی ایکسچینجز پر خوف ہوتا ہے. تو سرمایہ کار اکثر ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) پروٹوکولز کا رخ کرتے ہیں۔

WLFI کی تنزلی

اس کے برعکس، ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے وابستہ ٹوکن WLFI میں 2.5% کی مزید کمی دیکھی گئی۔ یہ ٹوکن جنوری سے اب تک اپنی قدر کا 44% کھو چکا ہے. جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف "نام” یا "مشہوری” کی بنیاد پر بننے والے ٹوکنز مشکل وقت میں کام نہیں آتے۔

فیوچر مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کا رویہ (Derivatives Insight)

فیوچر مارکیٹ میں فنڈنگ ریٹس (Funding rates) یا تو برابر ہیں یا معمولی منفی (Negative) ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں فی الحال تھوڑا سا بیئرش (bearish) رجحان ہے، لیکن کوئی بڑا خطرہ نہیں دکھ رہا۔ $60,000 کی سطح پر "پٹ آپشنز” (put options) کی مانگ زیادہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ ٹریڈرز نے اس سطح کو ایک مضبوط سپورٹ (support) کے طور پر نشان زد کر رکھا ہے۔

فنانشل مارکیٹس میں اکثر "نیوز ڈرون” (News-Driven) اتار چڑھاؤ عارضی ہوتا ہے.۔ جب میں نے ماضی میں ایسے بڑے جیو پولیٹیکل ایونٹس کو مانیٹر کیا ہے، تو اکثر پہلی لہر (First Wave) جذباتی ہوتی ہے. اور دوسری لہر (Second wave) عقلی (Rational) ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں، Bitcoin کی $66,000 کے اوپر واپسی یہ بتاتی ہے کہ اسمارٹ منی (Smart Money) نے مارکیٹ کو سنبھال لیا ہے۔

حرف آخر.

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ Bitcoin اب محض ایک قیاس آرائی پر مبنی اثاثہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک پختہ مالیاتی آلے (Financial Instrument) کے طور پر ابھر رہا ہے۔ جہاں اسٹاک مارکیٹیں عالمی خبروں پر منفی ردعمل دے رہی ہیں، وہاں Bitcoin کی ریکوری اس کے "ڈیجیٹل گولڈ” ہونے کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔

تاہم، سرمایہ کاروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مارکیٹ اب بھی ایک محدود رینج ($62,500 سے $70,000) کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ جب تک بٹ کوائن $70,000 کی سطح کو واضح طور پر عبور نہیں کرتا، تب تک محتاط رہنا ضروری ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Bitcoin موجودہ عالمی کشیدگی کے دوران $75,000 کی نئی سطح کو چھو سکے گا یا مارکیٹ دوبارہ $60,000 کی طرف جائے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ ایسے ہی مزید تحقیقاتی مضامین پڑھنے کیلئے ہماری ویب سائٹ  Forex News in Urdu, Crypto, Stocks, Commodity Market Analysis وزٹ کریں. 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button