Bitcoin کی واپسی، Ether اور بڑے Tokens میں ریلیف ریلی سے Crypto Market میں نئی امید

Massive Liquidations, Federal Reserve Outlook and Regulatory Uncertainty Reshape Crypto Sentiment

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں. لیکن گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والی "خونریزی” (Bloodbath) نے نئے اور پرانے تمام سرمایہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران  Bitcoin اور Ethereum سمیت مارکیٹ نے ایک بھرپور ریلیف ریلی (Relief Rally) کا مظاہرہ کیا ہے. جس میں بٹ کوائن (Bitcoin) دوبارہ $79,000 کی سطح کی طرف گامزن ہے۔

مالی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال Bitcoin کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے. جہاں مارکیٹ یا تو نئی تیزی کا آغاز کرے گی. یا مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کار اس وقت انتہائی حساس مرحلے پر موجود ہیں. جہاں عالمی معاشی پالیسی، ریگولیٹری فیصلے اور سرمایہ کاری کے رجحانات Crypto Market کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔

ماہرین کے مطابق Bitcoin کی حالیہ گراوٹ صرف مارکیٹ کی اندرونی کمزوریوں کا نتیجہ نہیں. بلکہ امریکی ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ امریکہ میں Crypto Market کے حوالے سے قانون سازی میں تاخیر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے یہ مضمون اس بات کا تفصیلی جائزہ لے گا. کہ مارکیٹ میں اس اچانک گراوٹ کی وجوہات کیا تھیں. اور اب مستقبل کا رخ کیا ہو سکتا ہے۔

اہم نکات

  • بٹ کوائن $74,000 کے اہم ترین سپورٹ لیول کو چھونے کے بعد دوبارہ $79,000 کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  • مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ کی بڑی وجہ ڈیریویٹوز مارکیٹ میں ہونے والی اربوں ڈالرز کی لیکویڈیشنز (liquidations) اور Federal Reserve کی سخت پالیسیوں کا خوف تھا۔

  • تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ ایک انفلیکشن پوائنٹ (inflection point) پر ہے. جہاں سے قیمتوں کا اگلا رخ طویل مدتی رجحان کا تعین کرے گا۔

  • ایتھریم (Ether) اور دیگر بڑے ٹوکنز جیسے سولانا (Solana) اور بی این بی (BNB) میں بھی 3% سے 6% تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کرپٹو مارکیٹ میں حالیہ ریکوری کی کیا وجہ ہے؟

Bitcoin اور دیگر ٹوکنز میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر "اوور سولڈ” (Oversold) پوزیشنز اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری کی وجہ سے آیا ہے۔ جب مارکیٹ میں حد سے زیادہ شارٹ پوزیشنز بن جائیں. یا جب پوزیشنز زبردستی بند (Liquidate) کر دی جائیں، تو قیمتیں اکثر ایک مصنوعی گراوٹ کے بعد تیزی سے اچھلتی ہیں۔ اسے ٹیکنیکل زبان میں "مین ریورژن” (Mean Reversion) کہا جاتا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں Bitcoin کی قیمت $74,000 سے بڑھ کر $79,000 تک پہنچنا اس بات کی علامت ہے. کہ خریدار (bulls) اس سطح پر مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ایشیائی مارکیٹس، خاص طور پر جنوبی کوریا کے اسٹاکس میں 5% اضافے نے عالمی سطح پر "رسک آن” (Risk-on) سینٹیمنٹ کو دوبارہ بحال کیا ہے۔

Bitcoin Price as on 3rd Feb. 2026
Bitcoin Price as on 3rd Feb. 2026

لیکویڈیشنز اور مارکیٹ کا نفسیاتی دباؤ

ویک اینڈ کے دوران ہونے والی گراوٹ کوئی عام کمی نہیں تھی. بلکہ یہ ایک ڈی لیوریجنگ ایونٹ (Deleveraging event) تھا۔ جب تاجر ادھار رقم (Leverage) پر زیادہ پوزیشنز لیتے ہیں. اور قیمت تھوڑی سی بھی نیچے جاتی ہے. تو ایکسچینجز خود بخود ان کی پوزیشنز بند کر دیتے ہیں۔

Ethereum Price as on 3rd Feb. 2026
Ethereum Price as on 3rd Feb. 2026

اپنی 10 سالہ ٹریڈنگ جرنی میں میں نے دیکھا ہے. کہ ویک اینڈ پر جب لیکویڈیٹی (Liquidity) کم ہوتی ہے، تو بڑے ادارے یا "ویلز” (whales) جان بوجھ کر قیمت کو نیچے دھکیلتے ہیں. تاکہ ریٹیل ٹریڈرز کے اسٹاپ لاسز (Stop Losses) ہٹ ہوں. اور وہ سستی قیمت پر Bitcoin خرید سکیں۔ یہ وہی کلاسک مارکیٹ مینیپولیشن ہے جو ہم نے 2021 اور 2024 کے کریشز میں بھی دیکھی تھی۔

سی ایف بینچ مارکس (CF Benchmarks) کا تجزیہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ دراصل اس بیئرش تسلسل (Bearish Sequence) کا حصہ ہے. جو اکتوبر 2025 میں شروع ہوا تھا۔ اپریل 2025 کے نچلے ترین پوائنٹس، جنہیں مارکیٹ کی زبان میں "لبریشن ڈے” (Liberation Day) کی کم ترین سطح کہا جاتا ہے. کو دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ اب جبکہ $74,000 کی سطح کا کامیاب ٹیسٹ ہو چکا ہے، مارکیٹ کے پاس اوپر جانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد موجود ہے۔

فیڈرل ریزرو کی پالیسی اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال

کرپٹو مارکیٹ کی اس حالیہ ہلچل میں امریکی سینٹرل بینک (Federal Reserve) کا بڑا ہاتھ ہے۔ مارکیٹ میں یہ تاثر عام ہے کہ فیڈرل ریزرو اپنی شرح سود کی پالیسی میں مزید سختی (Hawkish Outlook) لا سکتا ہے۔ جب ڈالر مضبوط ہونے کی توقع ہو. تو Bitcoin جیسی پرخطر اثاثہ جات (Risk Assets) سے سرمایہ نکالا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، امریکہ میں کرپٹو مارکیٹ اسٹرکچر سے متعلق قانون سازی میں تاخیر نے بھی سرمایہ کاروں کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے۔ قانون سازی میں غیر یقینی صورتحال بڑے اداروں (Institutional Investors) کو بڑے پیمانے پر خریداری سے روکتی ہے۔

بڑے ٹوکنز کی کارکردگی: ایتھریم، سولانا اور بی این بی

صرف Bitcoin ہی نہیں، بلکہ پوری مارکیٹ اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے۔

ٹوکن موجودہ صورتحال (24 گھنٹے) ہفتہ وار تبدیلی
بٹ کوائن (BTC) +5.5% (تقریباً $79,000) -12%
ایتھریم (ETH) +4.2% (تقریباً $2,340) -18%
سولانا (SOL) +6.1% -15%
ایکس آر پی (XRP) +3.5% -10%

اگرچہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکوری خوش آئند ہے. لیکن یہ یاد رہے کہ زیادہ تر ٹوکنز اب بھی اپنے ہفتہ وار ہائی سے 15% سے 20% تک نیچے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے. کہ مارکیٹ ابھی مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں نکلی۔

کیا یہ "ڈیڈ کیٹ باؤنس” ہے یا اصل ریکوری؟

ٹریڈنگ کی دنیا میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے. جسے ڈیڈ کیٹ باؤنس (dead cat bounce) کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک بڑی گراوٹ کے بعد قیمت تھوڑی دیر کے لیے اوپر آتی ہے. تاکہ دوبارہ نیچے گر سکے۔

موجودہ صورتحال میں، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا. کہ کیا بٹ کوائن $80,000 کی نفسیاتی سطح (Psychological Level) کے اوپر اپنی جگہ برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔ اگر مارکیٹ اس سطح سے اوپر بند ہوتی ہے. تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ریلیف ریلی ایک نئے اپ ٹرینڈ (Uptrend) میں بدل رہی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ

اگر آپ ایک طویل مدتی سرمایہ کار ہیں، تو ایسی گراوٹیں اکثر "بائی دی ڈپ” (buy the dip) کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، شارٹ ٹرم ٹریڈرز کو احتیاط کرنی چاہیے. کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (volatility) ابھی بھی بہت زیادہ ہے۔

  1. رسک مینجمنٹ (Risk Management): کبھی بھی اپنی کل جمع پونجی ایک ساتھ نہ لگائیں۔ ڈالر کاسٹ ایوریجنگ (DCA) کا طریقہ اپنائیں۔

  2. نیوز پر نظر رکھیں: امریکی افراط زر (Inflation) کے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے بیانات مارکیٹ کے اگلے رخ کا فیصلہ کریں گے۔

  3. ٹیکنیکل انڈیکیٹرز: آر ایس آئی (RSI) اور موونگ ایوریجز (Moving Averages) پر نظر رکھیں. تاکہ مارکیٹ کے مومینٹم کو سمجھا جا سکے۔

اختتامیہ. 

Bitcoin اور میجر ٹوکنز کی حالیہ ریکوری نے مارکیٹ کو ایک نئی زندگی دی ہے، لیکن یہ ایک "انفلیکشن پوائنٹ” ہے۔ $74,000 کی سطح نے ایک مضبوط سپورٹ کے طور پر کام کیا ہے. جو کہ ایک مثبت علامت ہے۔ تاہم، عالمی معاشی حالات اور ریگولیٹری رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔

میرا 10 سالہ تجربہ یہ کہتا ہے کہ مارکیٹ جب اس طرح کے واش آؤٹ (washout) سے گزرتی ہے. تو کمزور ہاتھ (Weak Hands) باہر نکل جاتے ہیں اور سمارٹ منی (Smart Money) پوزیشنز سنبھال لیتی ہے۔ انے والے چند ہفتے کرپٹو مارکیٹ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بٹ کوائن اس ماہ $85,000 کی سطح کو عبور کر پائے گا. یا ہمیں مزید گراوٹ دیکھنے کو ملے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button