Bitcoin اور Japanese Yen میں ریکارڈ ہم آہنگی: کیا Digital Gold اب اپنی پہچان کھو رہا ہے؟
How JPY Movements Are Redefining Bitcoin’s Role as a Financial Asset
آج کے بدلتے ہوئے مالیاتی منظر نامے میں، کرپٹو کرنسی اور روایتی فاریکس مارکیٹ کے درمیان تعلقات ایک نئی اور حیران کن شکل اختیار کر رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، بٹ کوائن (Bitcoin – BTC) اور جاپانی ین (Japanese Yen – JPY) کے درمیان 90 دنوں کی کو-ریلیشن (Correlation) یا باہمی تعلق اب تک کی بلند ترین سطح 0.85 سے تجاوز کر گیا ہے۔
یہ غیر معمولی تبدیلی نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے ایک انتباہ ہے. بلکہ یہ بٹ کوائن کے "پورٹ فولیو ڈائیورسیفائر” (Portfolio Diversifier) ہونے کے تصور پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے۔
Bitcoin اور Japanese Yen کے تعلق کا خلاصہ.
-
ریکارڈ توڑ تعلق: Bitcoin اور Japanese Yen کے درمیان 90 دنوں کا باہمی تعلق 0.86 تک پہنچ گیا ہے. جس کا مطلب ہے کہ بٹ کوائن کی 73% قیمت کی نقل و حرکت اب ین (Yen) کے تابع ہے۔
-
ڈائیورسیفیکیشن کا خاتمہ: Bitcoin اب ایک آزاد اثاثہ کے بجائے جاپانی کرنسی کے سائے میں چل رہا ہے. جس سے اس کی بطور "محفوظ پناہ گاہ” (Safe Haven) اہمیت کم ہو رہی ہے۔
-
جاپان کا معاشی بحران: جاپان کا قرض اس کے جی ڈی پی (GDP) کے 240% تک پہنچ چکا ہے. جس نے بینک آف جاپان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
-
ٹریڈرز کے لیے مشورہ: اب Bitcoin کے ٹریڈرز کو صرف ڈالر انڈیکس ہی نہیں. بلکہ Japanese Yen کے چارٹس پر بھی گہری نظر رکھنی ہوگی۔
Bitcoin اور Japanese Yen کے درمیان کو-ریلیشن (Correlation) کیا ہے؟
بٹ کوائن اور جاپانی ین کے درمیان کو-ریلیشن کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں اثاثے اب ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ان کے درمیان تعلق کا عددی تناسب 0.86 ہے. تو شماریاتی لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ Bitcoin کی قیمت میں ہونے والی تبدیلیوں کا 73% حصہ براہ راست جاپانی ین کی نقل و حرکت سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ یہ تعلق ماضی میں کبھی اتنا مضبوط نہیں رہا. جو مارکیٹ کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔

کیا Bitcoin اب بھی ایک آزاد اثاثہ ہے؟
کئی سالوں تک Bitcoin کو "Digital Gold” کہا جاتا رہا. جس کا مقصد روایتی کرنسیوں کے گرنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا تھا۔ لیکن 2025 کے آخری مہینوں اور 2026 کے آغاز میں ہم نے دیکھا.. کہ جب جاپانی ین گرا، تو Bitcoin نے بھی اسی راستے پر چلنا شروع کر دیا۔ اس وقت بٹ کوائن ایک خود مختار اثاثہ کے بجائے عالمی میکرو اکنامک (Macroeconomic) حالات، خاص طور پر جاپانی مالیاتی پالیسی کا قیدی نظر آتا ہے۔
میں نے اپنے دس سالہ تجربے میں دیکھا ہے. کہ جب بھی کوئی نیا اثاثہ مارکیٹ میں آتا ہے. وہ شروع میں آزادانہ برتاؤ کرتا ہے. لیکن جیسے ہی اس میں بڑے اداروں (Institutional Investors) کا پیسہ شامل ہوتا ہے. وہ عالمی لیکویڈیٹی (Liquidity) کے اشاروں پر ناچنے لگتا ہے۔ Bitcoin کا ین کے ساتھ جڑنا دراصل بڑے ٹریڈرز کی "کیرینگ ٹریڈ” (Carry Trade) کی حکمت عملیوں کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
Japanese Yen کا انڈیکس (JPYX) اور Bitcoin پر اس کے اثرات
پیپر اسٹون (Pepperstone) کا JPY انڈیکس ایک ایسا پیمانہ ہے جو جاپانی ین کی طاقت کو دنیا کی چار بڑی کرنسیوں (ڈالر، یورو، آسٹریلوی ڈالر، اور نیوزی لینڈ ڈالر) کے مقابلے میں ناپتا ہے۔
بٹ کوائن ٹریڈرز کے لیے JPYX کیوں اہم ہے؟
اگر آپ Bitcoin Trader ہیں، تو JPYX کا گرنا اب آپ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جب جاپان کی معاشی حالت ابتر ہوتی ہے اور ین گرتا ہے. تو بٹ کوائن میں بھی سیل آف (Sell-off) کا رجحان دیکھا جاتا ہے۔ دسمبر کے وسط تک دونوں اثاثوں میں شدید گراوٹ دیکھی گئی. جس کے بعد دونوں کی قیمتیں ایک خاص سطح پر آکر تھم گئیں۔
| اثاثہ (Asset) | حالیہ رجحان (Trend) | باہمی تعلق (Correlation) |
| بٹ کوائن (BTC) | مندی کے بعد استحکام | 0.86 (High) |
| جاپانی ین (JPY) | قرض کے بوجھ تلے دباؤ | 0.86 (High) |
جاپان کا مالیاتی بحران: ایک بڑا خطرہ
جاپان اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ مقروض ممالک میں سے ایک ہے. جس کا قرض اس کی معیشت (GDP) سے 240 گنا زیادہ ہے۔ یہ صورتحال جاپانی مرکزی بینک (Bank of Japan) کے لیے ایک "ڈیڈ لاک” (Deadlock) پیدا کر رہی ہے۔
-
سود کی شرح میں اضافہ (Raising Rates): اگر بینک سود کی شرح بڑھاتا ہے. تاکہ ین کو سہارا دیا جا سکے. تو حکومت کے لیے اپنے قرضوں پر سود ادا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
-
سود کی شرح میں کمی (Lowering Rates): اگر شرح سود کم رکھی جاتی ہے، تو ین کی قدر مزید گرے گی. جس سے افراط زر (Inflation) بڑھے گی۔
چونکہ Bitcoin اور Yen کا تعلق اب بہت گہرا ہے، اس لیے جاپان میں مالیاتی عدم استحکام عالمی مارکیٹ میں "رسک آف” (Risk-off) ماحول پیدا کرتا ہے، جس سے سرمایہ کار بٹ کوائن جیسے پرخطر اثاثوں سے پیسہ نکال لیتے ہیں۔
کیا یہ تعلق مستقل ہے؟ (Is this correlation permanent?)
مالیاتی منڈیوں کے ایک ماہر کے طور پر، میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں. کہ کرپٹو اور روایتی مارکیٹ کے درمیان تعلقات اکثر عارضی (Transient) ہوتے ہیں۔
-
ماضی کے مشاہدات: ہم نے ماضی میں بٹ کوائن کو امریکی اسٹاک مارکیٹ (S&P 500) کے ساتھ بھی چلتے دیکھا ہے. لیکن وہ تعلق وقت کے ساتھ کمزور پڑ گیا۔
-
مستقبل کی پیش گوئی: اگر امریکہ میں کساد بازاری (Recession) آتی ہے. تو ہو سکتا ہے. کہ ین کو کچھ سانس لینے کا موقع ملے. اور یہ تعلق ٹوٹ جائے۔ لیکن جب تک جاپان کا قرض کا مسئلہ حل نہیں ہوتا. یہ جوڑی ساتھ ساتھ چلتی رہے گی۔
ٹریڈرز کے لیے عملی حکمت عملی (Actionable Strategy)
اگر آپ Bitcoin میں ٹریڈنگ کر رہے ہیں. تو اب آپ کو اپنی حکمت عملی میں درج ذیل تبدیلیاں لانی ہوں گی:
-
ین انڈیکس پر نظر: صرف ڈالر انڈیکس (DXY) نہ دیکھیں، بلکہ JPYX کو اپنے واچ لسٹ میں شامل کریں۔
-
پورٹ فولیو ری بیلنسنگ: اگر آپ کے پاس ین اور بٹ کوائن دونوں ہیں. تو یاد رکھیں کہ آپ کا خطرہ دگنا ہو چکا ہے. کیونکہ دونوں ایک ہی سمت میں حرکت کر رہے ہیں۔
-
جاپانی بانڈ ییلڈز (JGB Yields): جاپانی سرکاری بانڈز کی شرح منافع پر نظر رکھیں. کیونکہ یہ ین کی قدر میں تبدیلی کا پہلا اشارہ ہوتے ہیں۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ریٹیل ٹریڈرز صرف چارٹ پر کینڈلز دیکھتے ہیں. لیکن بڑے مگرمچھ (Whales) ہمیشہ میکرو اکنامک ڈیٹا دیکھ کر پوزیشن بناتے ہیں۔ Bitcoin کا Japanese Yen کے ساتھ جڑنا ایک واضح اشارہ ہے کہ اب کرپٹو مارکیٹ عالمی مالیاتی نظام کا ایک باقاعدہ حصہ بن چکی ہے. اور اسے تنہا دیکھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔
اختتامیہ.
Bitcoin اور Japanese Yen کے درمیان حالیہ ریکارڈ تعلق نے یہ ثابت کر دیا ہے. کہ کرپٹو مارکیٹ اب کسی خلا میں کام نہیں کر رہی۔ بٹ کوائن کا 0.85 کا کو-ریلیشن اس بات کی علامت ہے. کہ اس نے فی الحال اپنی "منفرد شناخت” کھو دی ہے. اور وہ جاپانی معیشت کے اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اب یہ ضروری ہے. کہ وہ روایتی مالیاتی خبروں کو اتنی ہی اہمیت دیں. جتنی وہ بلاک چین کی خبروں کو دیتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Bitcoin دوبارہ اپنی آزادی حاصل کر پائے گا. یا یہ ہمیشہ کے لیے روایتی کرنسیوں کے بوجھ تلے دب جائے گا؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



