کرپٹو مارکیٹ میں تحفظ: فرانس، آسٹریا اور اٹلی کا سخت EU Regulations کا مطالبہ

Learn why they're seeking direct ESMA oversight and stricter rules for offshore platforms to protect investors

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحانات نے ریگولیٹرز کو مزید چوکس کر دیا ہے۔ حال ہی میں فرانس، آسٹریا اور اٹلی جیسے اہم یورپی ممالک کے مالیاتی نگران اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں یورپی یونین سے Crypto Regulations کی نگرانی کو سخت کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ اگرچہ MiCA جیسے قوانین موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ میں فرق کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

یہ صورتحال بالکل ایسی ہے جیسے ایک ہی عمارت میں ہر کمرے کا حفاظتی معیار مختلف ہو۔ اگر کسی ایک کمرے میں کمزوری ہو گی. تو پوری عمارت خطرے میں آ سکتی ہے۔ اسی طرح، اگر EU کے مختلف ممالک MiCA کو الگ الگ انداز میں نافذ کرتے ہیں. تو یہ کمپنیوں کو کمزور قوانین والے ممالک کا انتخاب کرنے کا موقع دے گا. جس سے سرمایہ کاروں کا تحفظ کم ہو جائے گا۔

خلاصہ.

  • فرانس، آسٹریا اور اٹلی کے ریگولیٹری ادارے کرپٹو مارکیٹوں پر یورپی یونین (EU) کے Crypto Regulations کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • وہ چاہتے ہیں کہ سب سے بڑی کرپٹو سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی براہ راست نگرانی یورپی سیکورٹیز اینڈ مارکیٹس اتھارٹی (ESMA) کرے تاکہ پورے EU میں یکساں قواعد لاگو ہوں۔

  • ریگولیٹرز آف شور (غیر ملکی) پلیٹ فارمز کے خلاف بھی سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں. جو EU صارفین کو نشانہ بناتے ہیں، کیونکہ یہ پلیٹ فارم MiCA (Markets in Crypto-Assets) قانون کے تحت نہیں آتے۔

  • یہ تجاویز سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بڑھانے اور سائبر سکیورٹی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں. تاکہ کرپٹو مارکیٹ میں اعتماد بڑھایا جا سکے۔

ریگولیٹرز کے کلیدی مطالبات کیا ہیں؟

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تینوں ممالک کے ریگولیٹرز (AMF، FMA، اور Consob) نے چار اہم تجاویز پیش کی ہیں جو کرپٹو مارکیٹ کے مستقبل کو نئی شکل دے سکتی ہیں۔

1. سب سے بڑی کرپٹو کمپنیوں کی براہ راست نگرانی (Direct Supervision of Large Crypto Firms)

ریگولیٹرز کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ بڑی Crypto Regulations کی براہ راست نگرانی کا اختیار ESMA کو دے دیا جائے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا. کہ پورے EU میں یکساں قوانین اور معیارات لاگو ہوں۔ آج کل، ہر ملک کا اپنا ریگولیٹری ادارہ نگرانی کرتا ہے، جس سے نفاذ میں فرق پیدا ہوتا ہے۔

آپ کی ذاتی تجارتی سفر میں اس بات کا مشاہدہ شاید اس طرح ہوا ہو کہ آپ نے دیکھا ہو کہ مختلف ممالک میں ایک ہی قسم کی سروسز (جیسے سی ایف ڈی بروکرز) کے لیے لائسنسنگ اور قواعد و ضوابط کتنے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کچھ ممالک میں انضباطی ماحول بہت سخت ہوتا ہے جبکہ دیگر میں کم۔ جب میں نے بین الاقوامی مارکیٹس میں ٹریڈنگ شروع کی تو مجھے ان مختلف ریگولیٹری فریم ورکس کو سمجھنے میں وقت لگا۔

میں نے خود دیکھا ہے کہ ایک کمزور ریگولیٹری ماحول بعض اوقات غیر معیاری کمپنیوں کو پنپنے کا موقع دیتا ہے. جو آخر کار سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیے، ایک مضبوط مرکزی نگرانی، جیسا کہ ESMA کی، شفافیت اور اعتماد کے لیے انتہائی اہم ہے۔

2. غیر ملکی (Offshore) پلیٹ فارمز پر پابندی (Stricter Rules for Offshore Platforms)

ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ EU میں موجود بروکرز اور انٹرمیڈیری (Intermediaries) صارفین کے آرڈرز کو ایسے غیر ملکی پلیٹ فارمز پر منتقل کر دیتے ہیں جو MiCA کے قوانین کے دائرے میں نہیں آتے۔ اس سے سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ اور ریگولیٹری تحفظات حاصل نہیں ہو پاتے جو انہیں EU کے قوانین کے تحت ملتے ہیں۔

یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ کسی محفوظ اور لائسنس یافتہ دکان سے خریداری کریں. لیکن وہ آپ کو کسی غیر معروف اور غیر محفوظ سڑک پر جا کر ادائیگی کرنے کا کہے۔ یہ عمل آپ کو فراڈ اور دھوکہ دہی کا شکار بنا سکتا ہے۔ اسی طرح، ریگولیٹرز چاہتے ہیں کہ یہ "لوپ ہول (Loophole)” ختم کیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

3. لازمی سائبر سکیورٹی آڈٹس (Mandatory Cybersecurity Audits)

کرپٹو سیکٹر Cyber Attacks اور ہیکس کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔ ان خطرات کے پیشِ نظر، ریگولیٹرز نے تجویز دی ہے. کہ کسی بھی کمپنی کو MiCA لائسنس دینے سے پہلے یا اس کی تجدید کرتے وقت ایک لازمی اور آزاد سائبر سکیورٹی آڈٹ (audit) کروانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو نہ صرف سرمایہ کاروں کے فنڈز کو محفوظ بنائے گا. بلکہ پوری مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرنے میں بھی مدد دے گا۔

4. وائٹ پیپرز کا مرکزی فائلنگ سسٹم (Centralized Filing System for Whitepapers)

آخری تجویز یہ ہے کہ ٹوکنز کے وائٹ پیپرز (Whitepapers) کے لیے ایک مرکزی فائلنگ سسٹم بنایا جائے۔ اس سے مختلف ممالک میں کراس بارڈر آفرنگز اور Crypto Regulations کو آسان بنایا جا سکے گا. اور قانونی وضاحت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ یہ اقدام نہ صرف شفافیت بڑھائے گا بلکہ نئے پراجیکٹس کے لیے پورے EU میں کام کرنا بھی آسان بنا دے گا۔

اس مطالبے کا وسیع تر مارکیٹ پر کیا اثر ہو گا؟

یہ تجاویز صرف EU کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر کرپٹو ریگولیشن پر بحث کو تقویت دیں گی۔ جب دنیا کے بڑے ممالک اور بلاکس جیسے EU سخت اور یکساں قوانین متعارف کرواتے ہیں. تو یہ دوسرے ممالک کے لیے ایک ماڈل بن سکتا ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا تحفظ بہتر ہو گا بلکہ ایک مضبوط Crypto Regulations کی موجودگی سے بڑے ادارے (Institutional investors) بھی کرپٹو مارکیٹ میں زیادہ اعتماد کے ساتھ داخل ہو سکیں گے۔ یہ طویل مدتی میں کرپٹو مارکیٹ کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

میں نے فنانشل مارکیٹس میں یہ پیٹرن کئی بار دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی ریگولیٹری فریم ورک واضح ہوتا ہے. تو بڑے اور معتبر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ اس سیکٹر میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر، جب آپ روایتی اسٹاکس اور بانڈز کو دیکھتے ہیں، تو ان کی ترقی کی ایک بڑی وجہ مضبوط ریگولیٹری ڈھانچہ ہے۔ اسی طرح، کرپٹو مارکیٹ میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ جب میں نے ابتدائی دور میں کرپٹو میں سرمایہ کاری کی. تو ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال ایک بڑا خطرہ تھی۔ یہ نئی Crypto Regulations طویل المدتی بنیادوں پر مارکیٹ کی میچورٹی (Maturity) اور استحکام کے لیے بہت ضروری ہیں، اور یہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے بھی دروازے کھولیں گی۔

اختتامیہ

فرانس، آسٹریا اور اٹلی کا یہ مشترکہ مطالبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا بھر کے ریگولیٹرز کرپٹو مارکیٹ میں پختگی اور ذمہ داری لانا چاہتے ہیں۔ ان Crypto Regulations کا مقصد صرف قوانین کو سخت کرنا نہیں. بلکہ سرمایہ کاروں کو غیر محفوظ مارکیٹ کے خطرات سے بچانا اور ایک محفوظ، شفاف اور قابل اعتماد مالیاتی نظام کی بنیاد رکھنا ہے۔

جیسے جیسے کرپٹو دنیا بھر میں مالیاتی نظام کا حصہ بن رہی ہے، ایسے Crypto Regulations نہ صرف ضروری ہیں. بلکہ اس کی پائیدار ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ اقدامات واقعی سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے؟

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button