کرپٹو کرنسی کا تاریک پہلو: ICIJ کی Coin Laundry رپورٹ اور مجرمانہ مالیاتی نظام کا انکشاف

How global exchanges, criminal networks, and anonymous transactions formed a hidden financial empire

بین الاقوامی تحقیقاتی صحافیوں کے کنسورشیم (ICIJ) نے، جو پانامہ پیپرز (Panama Papers) جیسے بڑے مالیاتی انکشافات کے لیے جانا جاتا ہے، اب کرپٹو کرنسی (Cryptocurrency) کی دنیا کا رخ کیا ہے. اور ایک خوفناک حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کی تحقیقاتی سیریز، جسے ‘کوین لانڈری’ (Coin Laundry) کا نام دیا گیا ہے.

اس بات کا پردہ چاک کرتی ہے. کہ کرپٹو کے تیز رفتار اور عالمی دائرہ کار کو کس طرح منظم مجرمانہ گروہ اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ICIJ ‘Coin Laundry’ Investigation کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں. کہ بلاک چین ٹیکنالوجی (Blockchain Technology) کا عروج، کرپٹو ٹرانزیکشنز (transactions) کی رفتار، اور ان کی گمنامی، ایک ایسے ‘شیڈو فنانشل سسٹم’ کو جنم دے چکی ہے. جو ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے بہت دور ہے۔

ان فنڈز کو شمالی کوریا کے ہیکرز، چینی اور روسی منظم گروہوں، اور میکسیکو کے سینالوا (Sinaloa) منشیات کارٹیل (Drug Cartel) سمیت مختلف مجرمانہ اداروں سے جوڑا گیا ہے۔ یہ ایک سیدھا جواب ہے. ان تمام صارفین کے لیے جو یہ جاننا چاہتے ہیں. کہ کرپٹو کرنسی میں جرم کس طرح فروغ پا رہا ہے. یہ ایک ایسا نیا، ڈیجیٹل طریقہ ہے. جو ‘پرانے زمانے’ کے نقدی چھپانے کے طریقوں سے کہیں زیادہ موثر ہے۔

کرپٹو ایکسچینجز اور ناجائز رقوم کی منتقلی

ICIJ Crypto Crime Investigation میں یہ دکھایا گیا ہے. کہ مجرمانہ رقوم کو Binance، OKX، Coinbase، Kraken، Bybit، اور Kucoin جیسے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینجز کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے۔

یہ حقیقت کرپٹو کمیونٹی (Community) اور ریگولیٹری باڈیز (Regulatory Bodies) میں گہری تشویش پیدا کرتی ہے۔ سوال یہ ہے. کہ کیا ان بڑے مالیاتی پلیٹ فارمز کو اپنی ‘منی لانڈرنگ کی روک تھام’ (AML – Anti-Money Laundering) کے کنٹرولز کو مضبوط بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟

OKX کے ایک ترجمان نے ان الزامات کی سنگینی کو تسلیم کیا ہے. اور بتایا ہے کہ ایکسچینج قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے. اور اپنے اندرونی مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم کو استعمال کر رہا ہے. تاکہ مشکوک سرگرمیوں کی شناخت کی جا سکے۔

میرے دس سالہ مالیاتی مارکیٹ کے تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد بینکوں پر ‘جان بوجھ کر غفلت’ کے الزامات لگے تھے۔ جب بڑے مالیاتی ادارے (financial institutions) کمزور کنٹرولز کے ساتھ کام کرتے ہیں. تو جرائم پیشہ افراد ہمیشہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کرپٹو مارکیٹ میں بھی یہی نمونہ نظر آ رہا ہے۔

اصل چیلنج یہ ہے. کہ بلاک چین (Blockchain) کی گمنامی اور حدوں سے آزاد فطرت کو روایتی ‘اپنے کسٹمر کو جانیں’ (KYC – Know Your Customer) کے اصولوں کے ساتھ کس طرح مؤثر طریقے سے ہم آہنگ کیا جائے۔ میرا ماننا ہے کہ صرف جدید بلاک چین اینالیٹکس (Analytics) کا استعمال ہی اس مسئلے کا ایک پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔

مجرمانہ سرگرمیاں: یہ رقم کس طرح منتقل ہوتی ہے؟

جرائم پیشہ افراد اب ‘پرانے زمانے’ کی نقدی پر انحصار کرنے کے بجائے تیزی سے کرپٹو کرنسی، خاص طور پر ڈالر سے منسلک Coin Laundry کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ انہیں آسانی سے عالمی سرحدوں کے پار منتقل کر سکتے ہیں. اور پھر ‘کرپٹو-کیش اسٹورفرنٹ’ (Crypto-Cash Storefront) آپریشنز کے ذریعے، جو یوکرین اور دبئی جیسی جگہوں پر بظاہر کھلے عام چل رہے ہیں. دوبارہ نقدی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

جرائم کا دائرہ کار:

  • منشیات کی اسمگلنگ: میکسیکو کے سینالوا کارٹیل جیسے بڑے گروہ فینٹینیل (Fentanyl) جیسی منشیات کی فروخت کی ادائیگیوں کو کرپٹو کے ذریعے منتقل کر رہے ہیں۔

  • انسانی اسمگلنگ: چینی اور روسی جرائم پیشہ گروہ اس رقم کو سرحدوں کے پار تیزی سے منتقل کرنے کے لیے کرپٹو کا استعمال کر رہے ہیں۔

  • ہیکنگ اور سائبر کرائم: شمالی کوریا کے ہیکرز کرپٹو ایکسچینجز اور اداروں کو نشانہ بناتے ہیں. اور چوری شدہ کرپٹو کو ‘لانڈر’ (launder) کرتے ہیں۔

ایک تجربہ کار اینالسٹ کے طور پر، میں یہ دیکھتا ہوں. کہ کرپٹو کی یہ خصوصیات سپیڈ (Speed)، کم لاگت، اور عالمی رسائی جو اسے ایک اختراعی مالیاتی ٹول بناتی ہیں. وہی خصوصیات مجرموں کے لیے اسے ایک ناقابل شکست Coin Laundry کا ذریعہ بھی بناتی ہیں۔

ممکنہ نتائج:

  1. بڑھی ہوئی ریگولیشن: عالمی سطح پر حکومتیں اور مالیاتی ریگولیٹرز کرپٹو ایکسچینجز پر KYC اور AML کے سخت قوانین نافذ کر سکتے ہیں۔

  2. بلاک چین اینالیٹکس کا عروج: چھوٹے، آزاد بلاک چین تفتیش کاروں کا کام، جسے ICIJ نے استعمال کیا، ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے مجرمانہ فنڈز کو ٹریس (trace) کرنا ممکن ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔

  3. مارکیٹ کا ردعمل: مختصر مدت میں، ریگولیٹری سختی کی خبریں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (volatility) کا سبب بن سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں، صاف ستھری مارکیٹ (cleaner market) صارفین اور بڑے اداروں کے اعتماد کو بحال کرے گی جو کرپٹو کو اپنانا چاہتے ہیں۔

ریگولیشن اور مارکیٹ کا مستقبل

ICIJ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جیرارڈ رائل نے ایک بیان میں کہا. کہ "ہماری تفتیش فوری سوالات اٹھاتی ہے. کیا بڑے کرپٹو ایکسچینجز مجرمانہ سرگرمیوں کو فعال کرنے میں کس حد تک شریک ہیں.؟ اور ریگولیٹرز اس مالیاتی نظام کے ساتھ کیوں قدم سے قدم ملا کر چلنے میں جدوجہد کر رہے ہیں. جو گمنامی (Opacity) اور رفتار پر پروان چڑھتا ہے؟”

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو انڈسٹری (industry) کو اب ایک دوراہے پر کھڑا ہونا پڑ گیا ہے۔ یہ وقت انڈسٹری کے لیے ایک ‘ویک اپ کال’ (Wake-up call) ہے. کہ وہ رضاکارانہ طور پر یا ریگولیٹری دباؤ کے تحت، اپنے AML کنٹرولز کو تاریخی طور پر مضبوط کرے۔

آخری بصیرت اور طویل مدتی نقطہ نظر

Coin Laundry بارے یہ انکشافات کرپٹو کے ‘انقلاب’ کی کہانی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مارکیٹ کو دیکھنے کے بعد، میں جانتا ہوں. کہ ہر نئی مالیاتی ٹیکنالوجی (Financial Technology) کو اس کے ابتدائی مرحلے میں مجرمانہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ آف شور بینکنگ (Offshore Banking) سے لے کر انٹرنیٹ کی ادائیگیوں تک، یہ ایک ناگزیر حصہ ہے۔

کرپٹو کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے. کہ یہ انڈسٹری اس چیلنج کا جواب کس طرح دیتی ہے۔ اگر ایکسچینجز اور ریگولیٹرز تعاون کرتے ہیں. اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک متوازن حل نکالتے ہیں جو اختراع (Innovation) کو نہیں مارتا. لیکن منی لانڈرنگ کو روکتا ہے. تو کرپٹو عالمی مالیاتی نظام کا ایک قابلِ اعتماد حصہ بن سکتا ہے۔

بصورت دیگر، سخت گیر ریگولیشن کا خطرہ ہمیشہ مارکیٹ کے سر پر منڈلاتا رہے گا. اور مارکیٹ کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی ‘کرپٹو کے خاتمے’ کی کہانی نہیں ہے. بلکہ ‘کرپٹو کی بالغ ہونے’ کی کہانی ہے. اور یہ ایک مشکل اور تکلیف دہ عمل ہے۔

ICIJ کی ‘کوین لانڈری’ رپورٹ نے کرپٹو کی دنیا کو ایک لازمی آئینہ دکھایا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے. کہ انڈسٹری اور ریگولیٹرز مل کر ایک ایسے مالیاتی ماحول کی تشکیل کریں. جو بدعت (Innovation) کو فروغ دے، لیکن جرائم کو جگہ نہ دے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بڑے ایکسچینجز اپنی AML ذمہ داریوں کو پورا کر رہے ہیں. یا ان کو مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟ نیچے کمنٹس (comments) میں اپنے خیالات کا اظہار کریں. اور مارکیٹ کے اس اہم موڑ پر ہونے والی بحث میں شامل ہوں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button