Neel Kashkari کا کرپٹو پر سخت وار: کیا Cryptocurrencies واقعی "بے کار” ہیں؟
criticism of digital assets sparks debate as Washington pushes Bitcoin strategy to defend dollar dominance
فروری 2026 میں مالیاتی دنیا اس وقت حیران رہ گئی. جب فیڈرل ریزرو بینک آف منیا پولس کے صدر نیل کاشکاری (Neel Kashkari) نے Cryptocurrencies اور سٹیبل کوائنز (Stablecoins) پر اب تک کا سب سے شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کرپٹو کو "مکمل طور پر بے کار” (Utterly Useless) قرار دیتے ہوئے اسے مصنوعی ذہانت (AI) کے مقابلے میں ایک ناکام تجربہ قرار دیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے. جب ٹرمپ انتظامیہ امریکہ کو "کرپٹو کیپٹل” بنانے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے. جس سے امریکی مالیاتی پالیسی میں ایک بڑا ٹکراؤ واضح ہو گیا ہے۔
مارکیٹ کے لیے اصل پیغام واضح ہے۔ مرکزی بینک محتاط ہیں، سیاستدان پرجوش ہیں اور ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے آنے والا وقت پالیسی فیصلوں، ریگولیشن اور عالمی ادائیگی نظام کی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کا ہے کیونکہ یہی عوامل اگلے مالیاتی بُل رن یا بڑی اصلاح کا تعین کریں گے۔
اہم نکات.
-
Neel Kashkari کا موقف: کاشکاری کے مطابق Cryptocurrencies کو آئے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ ہو چکا ہے. مگر یہ اب بھی روزمرہ زندگی میں کوئی حقیقی فائدہ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
-
سٹیبل کوائنز بمقابلہ وینمو (Venmo): انہوں نے سٹیبل کوائنز کو محض ایک "الفاظ کا گورکھ دھندا” (Buzzword Salad) قرار دیا. اور کہا کہ یہ موجودہ ایپس جیسے وینمو یا پے پال سے بہتر نہیں۔
-
پالیسی کا تصادم: فیڈرل ریزرو کے عہدیدار کی یہ سخت تنقید ٹرمپ انتظامیہ کے "اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو” (Strategic Bitcoin Reserve) کے منصوبے کے بالکل برعکس ہے۔
-
مصنوعی ذہانت کی برتری: کاشکاری نے کرپٹو کے برعکس اے آئی (AI) کو امریکی معیشت کے لیے ایک حقیقی اور طویل مدتی گیم چینجر قرار دیا۔
Neel Kashkari نے Cryptocurrencies کو "بے کار” کیوں قرار دیا؟
Neel Kashkari نے 2026 کے مڈویسٹ اکنامک آؤٹ لک سمٹ میں کہا. کہ کرپٹو کرنسی ایک دہائی گزرنے کے باوجود کوئی عملی افادیت ثابت نہیں کر سکی ہے۔ انہوں نے سامعین سے پوچھا. کہ کتنے لوگوں نے بٹ کوائن (Bitcoin) سے کچھ خریدا ہے. جبکہ اس کے مقابلے میں اے آئی (AI) ٹولز جیسے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) یا جیمنائی (Gemini) کا استعمال ہر شخص کر رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کرپٹو صرف قیاس آرائی (Speculation) کا ذریعہ ہے. معاشی ترقی کا نہیں۔
کاشکاری کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی وہی کامیاب ہوتی ہے. جو انسانوں کے مسائل حل کرے۔ انہوں نے دلیل دی. کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ اسے ایک اچھا "اثاثہ” تو بنا سکتا ہے. لیکن یہ ایک اچھی "کرنسی” یا "ادائیگی کا نظام” (Payment System) ثابت نہیں ہو سکا۔
یہاں میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جب بھی مارکیٹ میں ریگولیٹرز اور مرکزی بینکرز اس طرح کے سخت بیانات دیتے ہیں. تو یہ اکثر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (institutional investors) کے لیے ایک انتباہ ہوتا ہے۔
میں نے 2017 اور 2021 کی تیزی کے دوران بھی دیکھا کہ جب فنڈامینٹل افادیت پر سوال اٹھتے ہیں. تو مارکیٹ میں عارضی مندی (Correction) آتی ہے. کیونکہ ریٹیل ٹریڈر خوفزدہ ہو جاتا ہے۔
سٹیبل کوائنز: "Buzzword Salad” یا مالیاتی انقلاب؟
Neel Kashkari کے مطابق سٹیبل کوائنز میں ایسی کوئی خاص بات نہیں. جو پہلے سے موجود ایپس (جیسے Venmo) میں نہ ہو۔ انہوں نے اسے "بز ورڈ سلاڈ” (Buzzword Salad) کا نام دیا. جس کا مطلب ہے کہ یہ صرف سننے میں اچھے لگنے والے الفاظ ہیں جن کا حقیقت میں کوئی بڑا فائدہ نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کراس بارڈر پیمنٹس (Cross-Border Payments) میں بھی جب ڈیجیٹل ٹوکن کو مقامی کرنسی میں تبدیل کیا جاتا ہے. تو اس پر آنے والی لاگت اور وقت اسے روایتی طریقوں جتنا ہی مہنگا بنا دیتا ہے۔
سٹیبل کوائنز بمقابلہ روایتی ایپس (Comparison Table)
| خصوصیت (Feature) | سٹیبل کوائنز (Stablecoins) | روایتی ایپس (Venmo/PayPal) |
| تبدیلی کی لاگت | زیادہ (ایکسچینج فیس شامل ہے) | کم یا نہ ہونے کے برابر |
| عام استعمال | محدود (صرف کرپٹو پلیٹ فارمز پر) | وسیع (ہر جگہ قبول) |
| ریگولیشن | اب بھی واضح ہو رہی ہے | مکمل ریگولیٹڈ اور محفوظ |
| رفتار | فوری (لیکن کیش آؤٹ میں وقت لگتا ہے) | فوری اور براہ راست بینک میں |
ٹرمپ انتظامیہ اور فیڈرل ریزرو کے درمیان پالیسی کا ٹکراؤ
Neel Kashkari کی یہ تنقید صرف ایک بیان نہیں. بلکہ یہ واشنگٹن میں جاری ایک بڑی جنگ کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ اور ٹریژری سیکرٹری سکاٹ بیسنٹ (Scott Bessent) ہیں جو ڈالر کی عالمی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے سٹیبل کوائنز کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا موقف:
-
اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو: امریکہ کے پاس موجود بٹ کوائن کو فروخت کرنے کے بجائے اسے قومی خزانے کا حصہ بنانا۔
-
جینئس ایکٹ (GENIUS Act): سٹیبل کوائنز کے لیے واضح قانون سازی تاکہ امریکہ ڈیجیٹل فنانس میں دنیا کی قیادت کر سکے۔
-
ڈالر کی بالادستی: ڈیجیٹل ڈالر (بصورت سٹیبل کوائن) کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں تک امریکی کرنسی کی رسائی آسان بنانا۔
اس کے برعکس، Federal Reserve کے حکام جیسے کاشکاری یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات مالیاتی نظام میں غیر ضروری خطرات (Systemic Risks) پیدا کر سکتے ہیں۔
کیا Cryptocurrencies واقعی "حقیقی دنیا کے ٹیسٹ” میں ناکام ہو گئی ہیں؟
Neel Kashkari نے ایک اہم نکتہ اٹھایا: "اگر آپ نے بٹ کوائن سے سودا سلف خریدنا ہے. تو پہلے اسے ڈالر میں بدلنا پڑتا ہے. جس پر ٹیکس اور فیس لگتی ہے۔” یہ "فریکشن” (Friction) یا رکاوٹ ہی وہ وجہ ہے. جس کی بنا پر وہ کرپٹو کو ناکام قرار دیتے ہیں۔
تاہم، مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ کاشکاری شاید کرپٹو کے "سٹور آف ویلیو” (Store of Value) والے پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ بٹ کوائن کو اب "Digital Gold” کہا جاتا ہے. اور سونے سے بھی ہم روزمرہ کی خریداری نہیں کرتے. لیکن وہ ایک بہترین سرمایہ کاری ہے۔
میری 10 سالہ ٹریڈنگ جرنی میں، میں نے دیکھا ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ ‘یوٹیلٹی’ (Utility) سے پہلے ‘سائیکالوجی’ (psychology) پر چلتی ہے۔ Neel Kashkari کا یہ کہنا کہ Cryptocurrencies بے کار ہے. تکنیکی لحاظ سے درست ہو سکتا ہے اگر ہم صرف ادائیگیوں کی بات کریں. لیکن بطور ایک ڈی فلیشنری اثاثہ (Deflationary Asset) ، بٹ کوائن نے جو منافع دیا ہے. وہ کسی بھی روایتی بینکنگ سسٹم نے نہیں دیا۔
مستقبل کی سمت: اے آئی (AI) یا کرپٹو؟
Neel Kashkari نے واضح کیا کہ امریکہ کے لیے اصل مستقبل اے آئی (Artificial Intelligence) میں چھپا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ اے آئی پیداواری صلاحیت (productivity) کو بڑھاتی ہے. جبکہ Cryptocurrencies صرف توانائی ضائع کرتی ہیں. اور مالیاتی جرائم میں مدد دیتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
-
ریگولیٹری وضاحت: 2026 میں آنے والا "کلیریٹی ایکٹ” (CLARITY Act) شاید ان اختلافات کو ختم کرنے میں مدد دے۔
-
ادارہ جاتی اپنائیت: اگر بڑے بینک سٹیبل کوائنز کو اپناتے ہیں، تو کاشکاری جیسے ناقدین کو اپنا موقف بدلنا پڑ سکتا ہے۔
-
مارکیٹ کا ردعمل: فیڈ کے بیانات سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) پیدا ہو سکتا ہے. لہذا ٹریڈرز کو محتاط رہنا چاہیے۔
حرف آخر.
Neel Kashkari کے بیانات اس گہری خلیج کو ظاہر کرتے ہیں جو روایتی بینکرز اور جدید Cryptocurrencies کے حامیوں کے درمیان موجود ہے۔ جہاں فیڈرل ریزرو استحکام اور پرانے نظام کی وکالت کر رہا ہے، وہیں سیاسی قیادت کرپٹو کو مستقبل کی ضرورت سمجھتی ہے۔ ایک انویسٹر کے طور پر آپ کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کی افادیت (utility) اپنی جگہ، لیکن ریگولیٹری ماحول اور حکومتی پالیسیاں ہی قیمتوں کا رخ متعین کرتی ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کرپٹو واقعی "بے کار” ہے یا نیل کاشکاری بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھنے میں دیر کر رہے ہیں؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



