Bank of England (BoE)

بینک آف انگلینڈ کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (Monetary Policy Committee – MPC) کی رکن کیترین مان (Catherine Mann) نے حالیہ خطاب میں برطانوی معیشت، مہنگائی، اور شرحِ سود کے مستقبل سے متعلق اہم نکات پیش کیے۔ ان کا مؤقف مالیاتی پالیسی کے حوالے سے بینک کے رویے اور مستقبل کے اقدامات پر روشنی ڈالتا ہے۔

مہنگائی پر تشویش برقرار

مان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ برطانیہ میں مہنگائی کی شرح اب بھی ہدف سے زیادہ ہے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں افراطِ زر میں کمی آئی ہے۔ لیکن سروس سیکٹر میں قیمتوں کا دباؤ اب بھی نمایاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجرتوں میں تیز رفتار اضافہ مہنگائی کے مستقل خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے شرحِ سود میں کمی ابھی قبل از وقت ہوگی۔

 MPC میں شرحِ سود کا مستقبل

کیترین مان نے عندیہ دیا کہ بینک آف انگلینڈ کو شرحِ سود کو مزید کچھ عرصے تک بلند سطح پر رکھنا چاہیے تاکہ مہنگائی کے دباؤ کو

مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
ان کے مطابق، اگر پالیسی ساز جلد بازی میں شرحِ سود کم کرتے ہیں، تو مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ان کے یہ تبصرے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ”ہاکش“ (Hawkish) موقف رکھتی ہیں۔ یعنی وہ سخت مالیاتی پا

لیسی کے حق میں ہیں تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے۔

 عالمی اقتصادی پس منظر

مان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عالمی سطح پر مالیاتی حالات میں سختی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ (خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں) برطانیہ کی معیشت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ کو اپنی داخلی پالیسیوں کو عالمی رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ہوگا۔ تاکہ پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP) کی قدر اور مالی استحکام برقرار رہے۔

بینک آف انگلینڈ کی پالیسی سمت

مان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے۔ جب مارکیٹ توقع کر رہی تھی۔ کہ بینک آف انگلینڈ اگلے چند اجلاسوں میں شرحِ سود میں نرمی کا آغاز کرے گا۔
تاہم ان کی تقریر نے ان توقعات کو کمزور کیا۔ اور پاؤنڈ (GBP) کو وقتی طور پر سپورٹ ملی کیونکہ سرمایہ کاروں نے سمجھا کہ شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔

Monetary Policy پر مارکیٹ کا ردعمل

خطاب کے بعد برطانوی بانڈز (Gilts) کی یِیلڈ میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ پاؤنڈ اسٹرلنگ نے ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری حاصل کی۔
تاجر اور تجزیہ کار اب BoE کے دسمبر یا جنوری کے اجلاسوں میں کسی ممکنہ پالیسی اشارے کے منتظر ہیں۔

 نتیجہ

کیترین مان کا خطاب واضح کرتا ہے کہ بینک آف انگلینڈ اب بھی افراطِ زر کے مکمل کنٹرول کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔
شرحِ سود میں کسی بھی ممکنہ کمی سے قبل، پالیسی ساز اجرتوں کے دباؤ۔ مہنگائی کے تسلسل، اور توانائی کی قیمتوں کو بغور دیکھیں گے۔

ان کی گفتگو نے مالیاتی منڈیوں میں یہ تاثر مضبوط کیا ہے۔ کہ برطانیہ کی پالیسی فی الحال سخت رہے گی۔ کم از کم اگلے چند مہینوں تک۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button