PayPal کا PYUSD Stablecoin کے ذریعے AI Infrastructure میں تاریخی قدم، ڈیجیٹل فنانس کا نیا باب

Stablecoin-Based Funding Model Signals a New Era for AI Capital Markets

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی دنیا میں بڑھتی ہوئی طلب نے مالیاتی نظام کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ حال ہی میں PayPal نے اپنے اسٹیبل کوائن (Stablecoin) یعنی PYUSD کو USD.AI کے ساتھ منسلک کر کے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔

اس شراکت داری کا مقصد ڈیٹا سینٹرز (Data Centers) اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) جیسے مہنگے انفراسٹرکچر کے لیے فوری اور شفاف فنڈنگ فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف کرپٹو بلکہ روایتی فنانس کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

یہ اقدام واضح پیغام دیتا ہے کہ مستقبل کی فنانسنگ نہ صرف ڈیجیٹل ہو گی. بلکہ آن چین، شفاف اور استعمال سے منسلک ہو گی جہاں GPUs جیسے اثاثے بھی ٹوکنائزڈ کولیٹرل بن کر عالمی سرمائے کو اپنی طرف کھینچیں گے. اور PayPal کا PYUSD اس نئے مالی نظام کا ایک مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔

اہم نکات (Key Points)

  • PayPal کا نیا قدم: PYUSD اسٹیبل کوائن اب AI کمپنیوں کو ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے قرض فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

  • انویسٹرز کے لیے موقع: جنوری سے شروع ہونے والے پروگرام میں 1 بلین ڈالر تک کے ڈپازٹس پر 4.5% منافع (Yield) دیا جائے گا۔

  • آن چین فنڈنگ: USD.AI کے ذریعے GPUs کو بطور ضمانت (Collateral) استعمال کر کے فنڈز حاصل کیے جا سکیں گے۔

  • مارکیٹ اثرات: یہ شراکت داری ظاہر کرتی ہے. کہ اسٹیبل کوائنز اب صرف ٹریڈنگ تک محدود نہیں. بلکہ حقیقی دنیا کے اثاثوں کی فنانسنگ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

PayPal PYUSD اور USD.AI کا اشتراک کیا ہے؟

PayPal کا اسٹیبل کوائن (PYUSD) ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے. جس کی قیمت امریکی ڈالر کے برابر رہتی ہے۔ اب اسے USD.AI پروٹوکول کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ یہ پروٹوکول AI کمپنیوں کو ان کے کام کے لیے ضروری مہنگے ہارڈ ویئر (جیسے GPUs) خریدنے یا کرایے پر لینے کے لیے "آن چین” (Onchain) قرض فراہم کرتا ہے۔

اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ قرض لینے والی کمپنیاں اپنی رقوم براہ راست اپنے پے پال اکاؤنٹ میں حاصل کر سکیں گی. جس سے کرپٹو اور روایتی بینکنگ کا فرق ختم ہو جائے گا۔

مالیاتی مارکیٹ میں دس سالہ تجربے کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی بڑا ادارہ جیسے پے پال کسی نئی ٹیکنالوجی میں قدم رکھتا ہے، تو وہ مارکیٹ میں ‘لیکویڈیٹی’ (Liquidity) کا ایک نیا سیلاب لے کر آتا ہے۔ 2020 میں جب پے پال نے پہلی بار کرپٹو سپورٹ کا اعلان کیا تھا. تب بھی مارکیٹ میں اسی طرح کا ہیجان دیکھا گیا تھا. جو طویل مدت میں قیمتوں کے استحکام کا باعث بنا۔

AI انفراسٹرکچر کے لیے اسٹیبل کوائنز کیوں ضروری ہیں؟

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ترقی کے لیے کھربوں ڈالر کے سرمائے کی ضرورت ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2029 تک AI کمپیوٹ پر اخراجات 6.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ روایتی بینکنگ سسٹم اتنی تیزی اور شفافیت سے فنڈز منتقل نہیں کر سکتے. جتنی ضرورت اس صنعت کو ہے۔

اسٹیبل کوائنز کے فوائد:

  1. پروگرام ایبل ادائیگی (Programmable Payments): فنڈز کی ادائیگی خودکار طریقے سے سمارٹ کنٹریکٹس (Smart Contracts) کے ذریعے ہوتی ہے۔

  2. فوری تصفیہ (Instant Settlement): بین الاقوامی ترسیلات میں دنوں کے بجائے سیکنڈز لگتے ہیں۔

  3. شفافیت (Transparency): ہر لین دین بلاک چین پر ریکارڈ ہوتا ہے. جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔

انویسٹرز کے لیے 4.5% ییلڈ (Yield) پروگرام کیا ہے؟

PayPal اور USD.AI فاؤنڈیشن نے صارفین کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ایک پرکشش آفر دی ہے۔ جنوری کے اوائل سے ایک سالہ پروگرام شروع ہو رہا ہے جس میں 1 بلین ڈالر تک کے ڈپازٹس پر 4.5% منافع (Yield) دیا جائے گا۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے. جو اپنے ڈالر پر بینک سے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہیں. اور ساتھ ہی ٹیکنالوجی کے مستقبل میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

جب مورگن اسٹینلے کے مطابق 2029 تک عالمی AI کمپیوٹ اخراجات 6.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں. اور UBS کے اندازے کے مطابق صرف رواں سال یہ اخراجات 360 ارب ڈالر ہوں گے تو ایسے میں PYUSD جیسے پروگرام ایبل ڈالر اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ناگزیر بنتے جا رہے ہیں. خاص طور پر جب USD.AI پہلے ہی 650 ملین ڈالر سے زائد آن چین کمپیوٹ بیکڈ اثاثوں کو محفوظ بنا چکا ہے۔

GPUs کا بطور ضمانت (Collateral) استعمال.

USD.AI نے اب تک 650 ملین ڈالر سے زائد کے اثاثے آن چین محفوظ کیے ہیں۔ یہ نظام GPUs کو ٹوکنائز (Tokenize) کر کے انہیں بطور ضمانت استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر کوئی کمپنی قرض لیتی ہے. تو اس کے ہارڈ ویئر اثاثے اس قرض کی ضمانت کے طور پر ڈیجیٹل شکل میں موجود ہوتے ہیں۔

مارکیٹ کے تجربہ کار کھلاڑی جانتے ہیں. کہ ‘ایسیٹ بیکڈ فنانسنگ’ (Asset-backed financing) ہمیشہ سے ایک محفوظ راستہ رہی ہے۔ لیکن ہائی ٹیک ہارڈ ویئر کو بطور ضمانت استعمال کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے. کہ جب ٹیکنالوجی تیزی سے بدلتی ہے تو پرانے ہارڈ ویئر کی قیمت گر جاتی ہے. لہذا سرمایہ کاروں کو یہاں ‘ڈیپریشن’ (Depreciation) کے خطرے کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔

مستقبل کی حکمت عملی.

پے پال کا PYUSD کو AI کے ساتھ جوڑنا محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں. بلکہ ایک نئے مالیاتی دور کا آغاز ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اب صرف قیاس آرائیوں (Speculation) کے لیے نہیں. بلکہ عالمی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ پے پال کے اس 4.5% منافع والے پروگرام میں سرمایہ کاری کرنا پسند کریں گے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button