Donald Trump کا Clarity Act کے لیے مطالبہ: بینکوں اور کرپٹو انڈسٹری کے درمیان ‘Stable Coin Yield’ کی جنگ

Market Structure Battle Heats Up Over Stablecoin Yield and U.S. Crypto Leadership

امریکی صدر Donald Trump نے ایک بار پھر فنانشل مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے بینکنگ سیکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ کا الزام ہے کہ بڑے بینک ان کے "Crypto Agenda” کو سبوتاژ کر رہے ہیں. خاص طور پر Clarity Act اور گزشتہ سال منظور ہونے والے جینیئس ایکٹ (GENIUS Act) کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

یہ تنازعہ صرف قانون سازی تک محدود نہیں ہے. بلکہ اس کا براہ راست اثر عام سرمایہ کاروں کے منافع اور امریکی معیشت کی عالمی حیثیت پر پڑ سکتا ہے۔

اہم نکات

  • بینکوں پر تنقید: صدر ٹرمپ نے بینکوں پر الزام لگایا ہے. کہ وہ اپنے ریکارڈ منافع کو بچانے کے لیے کرپٹو قوانین کو روک رہے ہیں۔

  • اسٹیبل کوائن ییلڈ (Stablecoin Yield): اصل جھگڑا اس بات پر ہے کہ کیا کرپٹو ایکسچینجز صارفین کو اسٹیبل کوائنز پر منافع (Interest/Yield) دے سکتے ہیں یا نہیں۔

  • کلیرٹی ایکٹ (Clarity Act): یہ بل امریکہ میں کرپٹو مارکیٹ کا ڈھانچہ (Market Structure) واضح کرنے کے لیے ضروری ہے. جو فی الحال سینیٹ میں رکا ہوا ہے۔

  • عالمی مقابلہ: Donald Trump کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون پاس نہ ہوا. تو کرپٹو انڈسٹری چین اور دیگر ممالک میں منتقل ہو جائے گی۔

Donald Trump کا ‘Crypto Agenda’ اور بینکوں کی مخالفت کیوں؟

صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ امریکہ کو "کرپٹو کی عالمی دارالحکومت” بننا چاہیے۔ ان کے مطابق، بینک اس لیے رکاوٹ بن رہے ہیں. کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر لوگوں کو اسٹیبل کوائنز (Stablecoins) پر بہتر منافع ملنے لگا. تو وہ روایتی بینک اکاؤنٹس سے اپنا پیسہ نکال لیں گے۔

بینکوں اور کرپٹو کمپنیوں کے درمیان بنیادی تنازعہ ڈیپازٹ فلائٹ (Deposit Flight) کا ہے۔ بینکوں کو خدشہ ہے کہ اگر کوائن بیس (Coinbase) جیسے پلیٹ فارمز کو Stablecoins پر ییلڈ (Yield) دینے کی اجازت مل گئی. تو بینکوں کے پاس موجود سستی رقم (Low-cost deposits) ختم ہو جائے گی، جس سے ان کے منافع میں کمی آئے گی۔

جینیئس ایکٹ (GENIUS Act) کیا ہے؟

جینیئس ایکٹ وہ پہلا بڑا قانون تھا جس پر ٹرمپ نے گزشتہ سال دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں کے لیے ایک وفاقی فریم ورک بنانا تھا۔ تاہم، اب بینک اس قانون کی تشریح میں تبدیلیاں چاہتے ہیں. تاکہ تیسرے فریق (Third-party exchanges) کو منافع دینے سے روکا جا سکے۔

بطور ایک مارکیٹ ایکسپرٹ، میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی پرانے نظام (Legacy System) کو چیلنج کرتی ہے. تو بڑے ادارے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ 2008 کے بحران کے بعد جب ریگولیشنز سخت ہوئے تھے. تب بھی بینکوں نے اسی طرح کا ردعمل دیا تھا۔ آج اسٹیبل کوائنز بینکوں کے لیے وہی خطرہ بن چکے ہیں جو کبھی ‘منی مارکیٹ فنڈز’ ہوا کرتے تھے۔

کلیرٹی ایکٹ (Clarity Act) میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں؟

Clarity Act کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کون سا کرپٹو اثاثہ سیکیورٹی (Security) ہے. اور کون سا Commodity۔ یہ بل سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی میں جنوری سے رکا ہوا ہے۔

تاخیر کی 3 بڑی وجوہات:

  1. منافع کی ادائیگی (Yield Payouts): کیا کرپٹو ایپس کو بینکوں کی طرح سود دینے کی اجازت ہونی چاہیے؟

  2. ریگولیٹری نگرانی: SEC اور CFTC کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر اختلافات۔

  3. انتخابی سال کا دباؤ: 2026 کے انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے قانون ساز حساس معاملات پر ووٹ دینے سے کتراتے ہیں۔

خصوصیت بینکوں کا موقف کرپٹو کمپنیوں کا موقف
موازنہ اسٹیبل کوائنز کو بینکوں جیسے سخت قوانین کے تابع ہونا چاہیے۔ کرپٹو ایک نئی ٹیکنالوجی ہے، اسے پرانے بینکنگ قوانین سے نہ دبایا جائے۔
منافع (Yield) صرف لائسنس یافتہ بینکوں کو سود دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔ عام لوگوں کو اپنے پیسے پر زیادہ منافع کمانے کا حق ہے۔
خطرہ بینکنگ سسٹم سے پیسہ نکلنے کا خطرہ (Systemic Risk)۔ جدت (Innovation) کا امریکہ سے باہر چلے جانے کا خطرہ۔

ورلڈ لبرٹی فنانشل اور Donald Trump کا مفاد

Donald Trump کے اس سخت موقف کی ایک وجہ ان کا اپنا بزنس بھی ہو سکتا ہے۔ ورلڈ لبرٹی فنانشل (World Liberty Financial) ، جو ٹرمپ خاندان سے وابستہ کمپنی ہے. اپنا اسٹیبل کوائن USD1 متعارف کروا چکی ہے۔ حال ہی میں اس کمپنی نے OCC (Office of the Comptroller of the Currency) سے ایک ٹرسٹ چارٹر کے لیے درخواست دی ہے. تاکہ وہ باقاعدہ طور پر اس میدان میں کام کر سکیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور مارکیٹ پر اثرات

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف "خصوصی جنگی کارروائی” (Special Combat Operation) میں مصروف ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

تاریخی طور پر، جب جغرافیائی سیاسی تنازعات (Geopolitical Tensions) بڑھتے ہیں. تو سرمایہ کار ‘سیف ہیون’ (Safe Haven) اثاثوں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر کلیرٹی ایکٹ پاس ہو جاتا ہے. تو اسٹیبل کوائنز امریکی ڈالر کے ڈیجیٹل متبادل کے طور پر ایک محفوظ پناہ گاہ بن سکتے ہیں۔

مستقبل کی سمت. 

Donald Trump کا بینکوں پر حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں وائٹ ہاؤس اور وال اسٹریٹ کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔ سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ Clarity Act کی پیش رفت پر نظر رکھیں. کیونکہ یہ قانون کرپٹو مارکیٹ میں اربوں ڈالر کے ادارہ جاتی سرمائے (Institutional Capital) کے داخلے کا راستہ کھول سکتا ہے۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا بینکوں کا یہ ڈر درست ہے کہ اسٹیبل کوائنز ان کے ڈیپازٹس کھا جائیں گے، یا یہ صرف جدت کو روکنے کا ایک بہانہ ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button