EUR/GBP میں گراوٹ، برطانیہ کے مضبوط GDP ڈیٹا نے پاؤنڈ کو سہارا دے دیا

برطانیہ کے مضبوط معاشی اعداد و شمار کے بعد EUR/GBP دباؤ کا شکار

جمعرات کو EUR/GBP کرنسی جوڑی میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جبکہ برطانوی پاؤنڈ نے یورو کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ برطانیہ کے توقعات سے بہتر معاشی اعداد و شمار تھے، جنہوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا۔ تاہم برطانیہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی نے پاؤنڈ کی مزید تیزی کو محدود رکھا۔

تحریر کے وقت EUR/GBP تقریباً 0.8659 پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ دن کے آغاز میں یہ 0.8668 کی سطح تک پہنچا تھا۔

برطانیہ کی معیشت نے توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا

برطانیہ سے جاری ہونے والے ابتدائی معاشی اعداد و شمار نے پاؤنڈ کو سہارا دیا۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں برطانوی معیشت نے سالانہ بنیاد پر 1.1 فیصد ترقی کی، جو گزشتہ سہ ماہی کے 1 فیصد سے زیادہ اور مارکیٹ کی 0.8 فیصد پیشگوئی سے بہتر رہی۔

مارچ کے ماہانہ GDP ڈیٹا نے بھی مارکیٹ کو حیران کر دیا۔ برطانوی معیشت میں 0.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ تجزیہ کار 0.2 فیصد کمی کی توقع کر رہے تھے۔ اگرچہ یہ اضافہ فروری کے 0.4 فیصد کے مقابلے میں تھوڑا کم تھا، لیکن اس نے یہ ظاہر کیا کہ برطانوی معیشت اب بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔

ان اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے اندازہ لگانا شروع کر دیا کہ بینک آف انگلینڈ شرح سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

سیاسی بے یقینی نے پاؤنڈ کی رفتار محدود کر دی

اگرچہ معاشی اعداد و شمار پاؤنڈ کے حق میں تھے، لیکن سیاسی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی کمزور کارکردگی کے بعد وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ صورتحال مزید اس وقت پیچیدہ ہو گئی جب برطانیہ کے وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے اچانک استعفیٰ دے دیا۔

ویس اسٹریٹنگ کو مستقبل میں اسٹارمر کے ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اس لیے ان کے استعفے نے حکومتی استحکام کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ مضبوط GDP ڈیٹا کے باوجود پاؤنڈ اپنی مکمل طاقت کا مظاہرہ نہیں کر سکا۔

ECB اور BoE کی شرح سود پالیسی پر نظریں

سرمایہ کار اس وقت یورپی سینٹرل بینک اور بینک آف انگلینڈ کی آئندہ پالیسیوں پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں نے عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ توانائی کی بلند قیمتیں مرکزی بینکوں کو شرح سود میں نرمی سے روک سکتی ہیں۔

مارکیٹ اس وقت توقع کر رہی ہے کہ سال کے اختتام تک ECB اور BoE دونوں کم از کم دو مرتبہ شرح سود میں اضافہ کر سکتے ہیں تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے۔

تاہم یورو کو اس صورتحال سے زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا کیونکہ یوروزون معیشت توانائی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ بڑھتی ہوئی توانائی قیمتیں یورپی صنعتوں اور صارفین دونوں کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔

یورو پر توانائی بحران کے اثرات

یورو کی کمزوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار یوروزون کی معاشی صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔

اگرچہ بلند مہنگائی عام طور پر شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھاتی ہے، لیکن یوروزون کے لیے صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے کیونکہ توانائی بحران معاشی ترقی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ ECB کے لیے شرح سود میں جارحانہ اضافہ کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے اقتصادی سرگرمیاں مزید سست پڑ سکتی ہیں۔

EUR/GBP تکنیکی تجزیہ

تکنیکی اعتبار سے EUR/GBP اب بھی قلیل مدتی طور پر مندی کے رجحان میں نظر آ رہا ہے۔

کرنسی جوڑی اس وقت 50 روزہ Simple Moving Average یعنی 0.8671 اور 200 روزہ Simple Moving Average یعنی 0.8702 سے نیچے ٹریڈ کر رہی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ میں فروخت کنندگان اب بھی مضبوط ہیں۔

Relative Strength Index تقریباً 48 کے قریب ہے، جو کمزور لیکن غیر جانبدار مومینٹم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی طرح MACD انڈیکیٹر محدود مثبت رفتار ظاہر کر رہا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خریدار ابھی زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔

EUR/GBP

اہم ریزسٹنس لیولز

0.8671 — 50 روزہ SMA

0.8702 — 200 روزہ SMA

0.8725 — اہم ریزسٹنس زون

اہم سپورٹ لیولز

0.8650 — فوری سپورٹ

0.8620 — قریبی سپورٹ

0.8600 — مضبوط سپورٹ زون

اگر EUR/GBP دوبارہ 0.8670 کے اوپر جانے میں ناکام رہتا ہے تو مزید کمی کے امکانات برقرار رہ سکتے ہیں۔

EUR/GBP کا آئندہ منظرنامہ

موجودہ صورتحال میں EUR/GBP کا رجحان قدرے منفی دکھائی دیتا ہے کیونکہ مضبوط برطانوی معاشی اعداد و شمار پاؤنڈ کو سہارا دے رہے ہیں جبکہ یوروزون کی کمزور معاشی صورتحال یورو پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

اس کے باوجود برطانیہ کی سیاسی بے یقینی، مرکزی بینکوں کی پالیسی اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔

اگر یورو کو آنے والے دنوں میں ECB کی جانب سے مضبوط اشارے یا بہتر معاشی ڈیٹا کا سہارا نہ ملا تو EUR/GBP مزید کمزور ہو سکتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button