USD/JPY کی رفتار برقرار، 157.70 کے قریب ٹریڈنگ

USD/JPY میں مسلسل تیسری روز تیزی، جاپانی ین دباؤ میں جبکہ امریکی ڈالر مضبوط

USD/JPY کرنسی جوڑی بدھ کے ایشیائی سیشن میں مسلسل تیسرے روز بھی تیزی کے ساتھ 157.70 کے قریب ٹریڈ کرتی دکھائی دی۔ جاپانی ین (JPY) پر دباؤ برقرار ہے۔ جبکہ امریکی ڈالر (USD) کو مضبوط امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سے سپورٹ مل رہی ہے۔ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں اور بلند شرح سود والی کرنسیوں کی جانب مائل کر رہی ہے۔ جس سے USD/JPY میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا۔

جاپان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ سطح پر

جاپان کے تازہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بڑھ کر 4,681.5 ارب ین تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 3,625.3 ارب ین سے نمایاں زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار مارکیٹ کی توقعات 3,879 ارب ین سے بھی کہیں بہتر رہے۔ اور یہ جاپان کی تاریخ میں سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ اتنے مضبوط معاشی اعداد و شمار عام طور پر جاپانی ین کو سپورٹ دیتے ہیں۔ لیکن موجودہ مارکیٹ ماحول میں سرمایہ کاروں کی توجہ زیادہ تر امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی اور عالمی جغرافیائی کشیدگی پر مرکوز رہی، جس کے باعث ین اپنی مضبوطی برقرار نہ رکھ سکا۔

بینک آف جاپان مزید شرح سود بڑھانے پر غور میں

بینک آف جاپان (BOJ) کی اپریل سمری آف اوپینینز نے انکشاف کیا کہ پالیسی ساز آئندہ اجلاس میں مزید شرح سود بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔ مرکزی بینک کے حکام کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتیں جاپان میں مہنگائی کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ جس کے باعث سخت مانیٹری پالیسی کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر BOJ مزید سخت مؤقف اپناتا ہے۔ تو جاپانی ین کو مستقبل میں سپورٹ مل سکتی ہے۔ تاہم موجودہ وقت میں امریکی ڈالر کی طاقت اس امکان کو محدود کر رہی ہے۔

OECD کی جاپان کو مالیاتی نظم و ضبط کی تجویز

آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (OECD) نے جاپان کو مشورہ دیا ہے۔ کہ قومی آمدنی بڑھانے کے لیے کنزمپشن ٹیکس میں اضافہ کیا جائے۔ ادارے کے مطابق جاپان کو اپنے مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے زیادہ سخت مالیاتی نظم و ضبط اپنانا ہوگا۔

OECD نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ بینک آف جاپان 2027 کے اختتام تک مختصر مدتی شرح سود کو 2 فیصد تک لے جا سکتا ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ BOJ کو بانڈ مارکیٹ میں کسی بھی ممکنہ خلل کے پیش نظر اپنی بانڈ خریداری پالیسی میں لچک برقرار رکھنی ہوگی۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی نے امریکی ڈالر کو سہارا دیا

امریکی ڈالر کو حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سے نمایاں سپورٹ ملی ہے۔ امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے حوالے سے سخت بیانات دیتے ہوئے کہا کہ ایران یا تو نیا معاہدہ کرے گا یا پھر “تباہی” کا سامنا کرے گا۔

اس کے جواب میں ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے امریکہ کو پابندیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کا اعتراف، اور نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔

ان بیانات کے بعد عالمی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی۔ جس سے امریکی ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر فائدہ حاصل ہوا۔

امریکی CPI نے فیڈ کی سخت پالیسی توقعات بڑھا دیں

امریکی افراط زر کے تازہ اعداد و شمار نے بھی ڈالر کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق اپریل میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد بڑھا۔ جبکہ سالانہ مہنگائی کی شرح 3.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ جو مئی 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

اسی طرح کور CPI، جس میں خوراک اور توانائی جیسی غیر مستحکم اشیا شامل نہیں ہوتیں۔ 2.8 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ اوپر رہا۔ ان اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے توقع ظاہر کی کہ Federal Reserve مزید عرصے تک بلند شرح سود برقرار رکھ سکتا ہے تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے۔

USD/JPY کا تکنیکی منظرنامہ

تکنیکی اعتبار سے USD/JPY اس وقت مضبوط بُلش مومینٹم دکھا رہا ہے۔ اگر جوڑی 158.00 کی نفسیاتی سطح کے اوپر استحکام حاصل کر لیتی ہے۔ تو اگلا ہدف 159.20 اور پھر 160.00 ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر منافع وصولی شروع ہوتی ہے۔ تو 156.80 اور 155.90 اہم سپورٹ لیولز ہوں گے۔

سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI)، فیڈ حکام کے بیانات، اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہی عوامل آئندہ دنوں میں USD/JPY کی سمت متعین کریں گے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button