USD/JPY Price میں تیزی برقرار، 160 اہم سطح کے قریب

مارکیٹ کا خلاصہ:  USD/JPY Price مسلسل ساتویں دن اضافہ

منگل کے روز USD/JPY Price کرنسی جوڑی میں مسلسل ساتویں دن بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مضبوطی ابھی برقرار ہے۔ اس وقت یہ جوڑی تقریباً 159.18 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے اور اپریل کے آخر میں ہونے والی تیز گراوٹ کے بعد اپنی زیادہ تر کھوئی ہوئی قدر دوبارہ حاصل کر چکی ہے۔ اس گراوٹ کو اس وقت جاپان کی ممکنہ حکومتی مداخلت سے جوڑا گیا تھا، لیکن موجودہ حالات میں مارکیٹ دوبارہ اوپر کی سمت گامزن ہے۔

امریکی ڈالر کی طاقت: بنیادی محرکات کی تفصیل

امریکی ڈالر کی مضبوطی اس وقت USD/JPY کی تیزی کا سب سے اہم عنصر ہے۔ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے دوران عموماً محفوظ اثاثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور ڈالر اس فہرست میں سرفہرست رہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے چینی پیدا کی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار خطرناک اثاثوں سے نکل کر ڈالر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

مزید برآں، امریکی معیشت کی مجموعی کارکردگی بھی ڈالر کو سہارا دے رہی ہے۔ مضبوط لیبر مارکیٹ، مستحکم کھپت، اور نسبتاً بہتر اقتصادی اشاریے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی معیشت اب بھی دیگر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی اور عالمی منڈیوں پر اثرات

United States اور Iran کے درمیان جاری کشیدگی اس وقت عالمی مارکیٹ کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اختلافات کی وجہ سے۔

Donald Trump نے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکہ نے فوری فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روک دیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو مکمل فوجی کارروائی ممکن ہے۔ اس قسم کے بیانات مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھاتے ہیں، جس سے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور جاپانی ین پر دباؤ

تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ USD/JPY کی حرکت میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جاپان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو جاپان کی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے اس کی کرنسی یعنی ین پر دباؤ آتا ہے۔

دوسری طرف، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکہ میں مہنگائی کے خدشات کو بڑھاتی ہیں، جس کے نتیجے میں Federal Reserve کے لیے شرح سود بڑھانے کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں یہ توقع بڑھ رہی ہے کہ فیڈ سال کے آخر تک مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔

فیڈ کی پالیسی توقعات اور USD کی سپورٹ

امریکی مرکزی بینک کی پالیسی اس وقت USD/JPY کی سمت کے تعین میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر مہنگائی میں اضافہ برقرار رہا تو فیڈ شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکی بانڈ ییلڈز بڑھ سکتی ہیں، جو ڈالر کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ مارکیٹ میں ہر نئی معاشی رپورٹ اور فیڈ کے بیانات کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ USD/JPY کی اگلی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

جاپانی معیشت اور ین کی کمزوری

اگرچہ حالیہ جاپانی GDP ڈیٹا توقع سے بہتر آیا، لیکن اس کا جاپانی ین پر کوئی خاص مثبت اثر نہیں پڑا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ اس وقت زیادہ تر عالمی عوامل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، نہ کہ صرف مقامی ڈیٹا پر۔

Bank of Japan کی پالیسی بھی ین کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ بینک آف جاپان آہستہ آہستہ اپنی پالیسی سخت کرنے کی طرف جا رہا ہے، لیکن اس کی رفتار بہت سست ہے، جو ڈالر کے مقابلے میں ین کو کمزور رکھتی ہے۔

160.00 لیول: تکنیکی اور نفسیاتی اہمیت

USD/JPY کے لیے 160.00 کی سطح انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ یہ نہ صرف ایک نفسیاتی حد ہے بلکہ ماضی میں جاپانی حکام کی مداخلت بھی اسی سطح کے قریب دیکھی گئی تھی۔ اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو مارکیٹ میں مزید تیزی آ سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

حالیہ دنوں میں جب امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے فاریکس مارکیٹ میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ پر تشویش کا اظہار کیا اور Kazuo Ueda پر اعتماد ظاہر کیا، تو USD/JPY میں عارضی کمی دیکھی گئی، لیکن یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

تکنیکی تجزیہ اور ممکنہ سمت

موجودہ تکنیکی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ USD/JPY ایک مضبوط اپ ٹرینڈ میں ہے۔ مارکیٹ میں ہر چھوٹی گراوٹ کو خریداری کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر قیمت 160.00 کی سطح کو مضبوطی سے عبور کر لیتی ہے تو اگلا ہدف 160.50 یا اس سے اوپر ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، اگر قیمت نیچے آتی ہے تو 158.60 ایک اہم سپورٹ لیول کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ اس کے نیچے مزید گراوٹ کی صورت میں 157.80 اگلا مضبوط سپورٹ زون ہوگا۔

نتیجہ: آگے کیا متوقع ہے؟

مجموعی طور پر USD/JPY اس وقت ایک مضبوط bullish رجحان میں ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں امریکی ڈالر کی طاقت، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، تیل کی بلند قیمتیں، اور فیڈ کی سخت پالیسی توقعات شامل ہیں۔ جاپانی ین کو ان تمام عوامل کی وجہ سے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ جاپان کی سست مانیٹری پالیسی بھی اس کمزوری کو مزید بڑھا رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں سب سے اہم چیز 160.00 لیول ہوگی۔ اگر یہ سطح عبور ہو جاتی ہے تو مارکیٹ میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے، لیکن اگر جاپانی حکام مداخلت کرتے ہیں تو اچانک بڑی گراوٹ بھی ممکن ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور جیوپولیٹیکل خبروں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button