Stablecoins کا عروج، US Banks کے لیے خطرے کی گھنٹی، 500 ارب ڈالرز کا ممکنہ انخلا

Standard Chartered Warns Regional Banks Face Deposit Drain as Stablecoins Rise

امریکی مالیاتی نظام اس وقت ایک ایسی تبدیلی کی دہانے پر کھڑا ہے. جو روایتی بینکنگ کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔ Standard Chartered کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، 2028 تک تقریباً 500 ارب ڈالر امریکی بینکوں سے نکل کر Stablecoins میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

یہ محض ایک عدد نہیں ہے، بلکہ مالیاتی دنیا میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اس تحریر میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ Impact of Stablecoins on US Banking System کیا ہو سکتا ہے. اور خاص طور پر چھوٹے یا علاقائی بینک (Regional Banks) اس سے کیسے متاثر ہوں گے۔

اہم نکات (Key Points)

  • 500 ارب ڈالر کی منتقلی: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے مطابق، 2028 تک بڑی رقم روایتی بینک ڈیپازٹس سے نکل کر ڈیجیٹل کرنسیوں میں جا سکتی ہے۔

  • علاقائی بینکوں کو خطرہ: وہ بینک جو اپنی آمدنی کے لیے ‘نیٹ انٹرسٹ مارجن’ (NIM) پر انحصار کرتے ہیں. سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

  • قانون سازی کا اثر: کلیرٹی ایکٹ (CLARITY Act) یہ طے کرے گا. کہ آیا Stablecoins فراہم کرنے والے صارفین کو منافع (Yield) دے سکتے ہیں یا نہیں۔

  • ریزرو کا مسئلہ: ٹیتھر (Tether) اور سرکل (Circle) جیسے بڑے ادارے اپنے اثاثے بینکوں کے بجائے امریکی ٹریژریز (US Treasuries) میں رکھتے ہیں. جس سے بینکوں سے پیسہ مستقل باہر نکل سکتا ہے۔

کیا Stablecoins واقعی امریکی بینکنگ کے لیے خطرہ ہیں؟

Stablecoins اب صرف کرپٹو ٹریڈنگ کا ذریعہ نہیں رہے. بلکہ یہ بچت (Savings) اور ادائیگیوں (Payments) کے ایک متبادل نظام کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ جب عام سرمایہ کار کو بینک کے مقابلے میں ڈیجیٹل والٹ میں زیادہ سہولت اور ممکنہ منافع نظر آئے گا. تو وہ قدرتی طور پر اپنا سرمایہ وہاں منتقل کرے گا۔

Standard Chartered کے ڈیجیٹل اثاثوں کے سربراہ جیفری کینڈرک (Geoffrey Kendrick) کا کہنا ہے کہ "دم اب کتے کو ہلا رہی ہے” (The tail is starting to wag the dog)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ Stablecoins، جو کبھی مارکیٹ کا ایک چھوٹا حصہ تھے. اب پورے بینکنگ ڈھانچے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

علاقائی بینک (Regional Banks) سب سے زیادہ خطرے میں کیوں ہیں؟

بینکنگ کی دنیا میں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ‘نیٹ انٹرسٹ مارجن’ (Net Interest Margin – NIM) ہوتا ہے۔ یہ وہ فرق ہے. جو بینک قرض دے کر کماتا ہے اور جو وہ اپنے کھاتہ داروں (Account holders) کو سود کی صورت میں دیتا ہے۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی مارکیٹ میں ‘لیکویڈیٹی’ (Liquidity) کا بحران آتا ہے. تو سب سے پہلے چھوٹے بینک ہی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ 2023 کے بینکنگ بحران کے دوران بھی ہم نے دیکھا. کہ کس طرح تیزی سے ٹیکنالوجی کے ذریعے پیسہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا۔ Stablecoins اسی رفتار کو مزید تیز کر دیں گے، جس سے بینکوں کو سنبھلنے کا وقت نہیں ملے گا۔

کلیرٹی ایکٹ (CLARITY Act) اور ریگولیٹری ماحول

(The CLARITY Act and Regulatory Environment)

اس وقت واشنگٹن میں "کلیرٹی ایکٹ” پر بحث جاری ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ Stablecoins کو کس طرح ریگولیٹ کیا جائے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے. کہ کیا تھرڈ پارٹی اسٹیبل کوائن فراہم کرنے والے اپنے صارفین کو "یلڈ” (Yield) یعنی منافع دے سکتے ہیں؟

اگر قانون سازوں نے اس کی اجازت دے دی، تو Stablecoins براہ راست بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹس کے مدمقابل آ جائیں گے۔ تصور کریں کہ ایک عام صارف اپنے ڈالر بینک میں رکھنے کے بجائے ایک ڈیجیٹل ٹوکن میں رکھے. جہاں اسے زیادہ منافع اور 24 گھنٹے فوری منتقلی کی سہولت میسر ہو۔

اسٹیبل کوائن ریزرو: بینکوں کے لیے ایک اور چیلنج

(Stablecoin Reserves: Another challenge for banks)

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ Stablecoins جاری کرنے والے ادارے (Issuers) اپنا پیسہ کہاں رکھتے ہیں۔ جیفری کینڈرک کے مطابق:

  1. اگر سرکل (Circle) یا ٹیتھر (Tether) اپنا پیسہ امریکی بینکوں میں ڈیپازٹ کے طور پر رکھیں. تو بینکنگ سسٹم سے پیسہ باہر نہیں جائے گا۔

  2. لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کمپنیاں اپنا زیادہ تر سرمایہ US Treasuries (سرکاری بانڈز) میں رکھتی ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیسہ بینکنگ سسٹم سے نکل کر براہ راست حکومتی قرضوں میں چلا جاتا ہے. جس سے بینکوں کی اپنی ‘بیلنس شیٹ’ کمزور ہو جاتی ہے۔ یہ Impact of Stablecoins on US Banking System کا وہ پہلو ہے. جس پر عام طور پر بحث نہیں کی جاتی۔

کیا Stablecoins اور بینک مل کر کام کر سکتے ہیں؟

سرکل (Circle) کے سی ای او جیریمی الیئر (Jeremy Allaire) کا موقف اسٹینڈرڈ چارٹرڈ سے تھوڑا مختلف ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسٹیبل کوائنز بینکوں کے حریف نہیں بلکہ مددگار (Complementary) ہیں۔ ان کے بقول، یہ ٹیکنالوجی ادائیگیوں کے نظام کو جدید بنائے گی اور مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion) میں اضافہ کرے گی۔

تاہم، ایک اسٹریٹجسٹ کے طور پر، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ‘تکمیلی کردار’ کے باوجود، سرمائے کی منتقلی تو بہرحال ہوگی۔ جب ٹیکنالوجی بدلتی ہے. تو پرانے اداروں کو اپنے ماڈل تبدیل کرنے پڑتے ہیں. یا وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔

Regional Banks کیوں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں؟

کینڈرک کی تحقیق کا مرکز Net Interest Margin ہے، جو قرضوں پر کمائی اور ڈپازٹس پر دی جانے والی رقم کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ Regional Banks کی آمدن کا 60 فیصد سے زائد حصہ اسی Net Interest Margin پر منحصر ہے. اس لیے

اگر ڈپازٹس Stablecoins کی طرف منتقل ہوتے ہیں تو ان بینکوں کی Financial Stability براہ راست متاثر ہو سکتی ہے. جبکہ Investment Banks اور متنوع آمدن رکھنے والے ادارے نسبتاً محفوظ رہیں گے۔

مستقبل کی حکمت عملی: سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ

(Future Strategy: Advice for Investors)

اگر آپ فاریکس یا کرپٹو مارکیٹ میں سرگرم ہیں. تو آپ کو درج ذیل عوامل پر نظر رکھنی چاہیے:

  1. NIM ڈیٹا: امریکی بینکوں کے سہ ماہی نتائج میں نیٹ انٹرسٹ مارجن پر نظر رکھیں۔ اگر یہ کم ہو رہا ہے. تو سمجھ لیں کہ ڈیپازٹس منتقل ہو رہے ہیں۔

  2. قانون سازی کی پیش رفت: کلیرٹی ایکٹ کی ہر خبر پر نظر رکھیں۔ یہ اسٹیبل کوائنز کے لیے ‘گیم چینجر’ ثابت ہوگا۔

  3. ڈیجیٹل ڈالر (CBDC): کیا امریکہ اپنا ڈیجیٹل ڈالر لائے گا؟ یہ اسٹیبل کوائنز کے غلبے کو کم کر سکتا ہے۔

اختتامیہ.

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی یہ پیش گوئی کہ 500 ارب ڈالر بینکوں سے نکل جائیں گے. ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مالیاتی دنیا اب روایتی کاغذوں سے نکل کر مکمل طور پر ڈیجیٹل لیجر کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اگرچہ بڑے بینک اس لہر کا مقابلہ کر لیں گے، لیکن امریکی علاقائی بینکوں کے لیے آنے والے چند سال انتہائی مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ Stablecoins مستقبل میں روایتی بینکوں کی جگہ لے لیں گے. یا بینک خود کو اس نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھال لیں گے؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں ضرور کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button