سونے کی قیمت $4,657 کے قریب مستحکم، ٹرمپ کی ایران ڈیڈ لائن نے مارکیٹ کو بے یقینی میں مبتلا کر دیا
Gold سونا (XAU/USD) منگل کے روز تقریباً $4,657 کے قریب ایک محدود رینج میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ جہاں مارکیٹ میں واضح سمت کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت بڑی مارکیٹ موومنٹ کو جنم دے سکتی ہے۔
ٹریڈرز فی الحال بڑے فیصلے لینے سے گریز کر رہے ہیں اور خبروں کے منتظر ہیں۔ تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا کوئی جنگ بندی معاہدہ ممکن ہے یا صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
Donald Trump کی ایران کو سخت وارننگ، مارکیٹ میں بے چینی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک سخت ڈیڈ لائن دی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ یا تو معاہدہ کیا جائے یا پھر اہم سمندری گزرگاہ Strait of Hormuz کو کھول دیا جائے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے جنگ بندی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے۔ ایک 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں شامل ہیں:
جنگ کا مستقل خاتمہ
اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ
آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کی ضمانت
اگرچہ ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو "اہم پیش رفت” قرار دیا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ یہ امریکی مطالبات کے مطابق نہیں ہیں۔
یہ صورتحال مارکیٹ میں بے یقینی کو بڑھا رہی ہے، جس کی وجہ سے سونے کی قیمت میں تیزی نہیں آ پا رہی۔
امریکی ڈالر کی مضبوطی سونے پر دباؤ ڈال رہی ہے
اگرچہ جغرافیائی سیاسی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، پھر بھی سونا اپنی روایتی محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) والی حیثیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔
اس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے، جو عالمی سطح پر لیکویڈیٹی کی مانگ کے باعث مستحکم ہے۔ مضبوط ڈالر سونے کو دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے مہنگا بنا دیتا ہے۔ جس سے طلب کم ہو جاتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کے خدشات میں شدت
تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی سونے پر دباؤ ڈالنے والا ایک اہم عنصر ہے۔ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ صورتحال مرکزی بینکوں، خاص طور پر Federal Reserve کو شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
فیڈ کی شرح سود میں کمی کی توقعات کمزور
مارکیٹ میں پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ 2026 میں شرح سود میں کم از کم دو بار کمی ہوگی۔ لیکن اب یہ توقعات کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔
آنے والے امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار میں اضافہ متوقع ہے:
ماہانہ CPI: 0.9% (پہلے 0.3%)
سالانہ مہنگائی: 3.3% (پہلے 2.4%)
اگر یہ اعداد و شمار توقعات کے مطابق یا اس سے زیادہ آتے ہیں تو فیڈ شرح سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھ سکتا ہے، جو سونے کے لیے منفی ہوگا۔
مرکزی بینکوں کی خریداری سونے کو سہارا دے رہی ہے
قلیل مدتی دباؤ کے باوجود، Gold سونے کا طویل مدتی رجحان مثبت نظر آتا ہے۔
دنیا بھر کے مرکزی بینک سونا خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں:
چین نے مارچ میں تقریباً 5 ٹن سونا خریدا
یہ مسلسل 17واں مہینہ ہے جب خریداری جاری ہے
عالمی سطح پر ابتدائی 2026 میں 25 ٹن سونا خریدا گیا
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ممالک اپنی کرنسیوں کو مستحکم کرنے اور عالمی خطرات سے بچاؤ کے لیے سونے پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔
Gold سونے کا مستقبل: قلیل مدتی دباؤ، طویل مدتی مضبوطی
مختصر مدت میں Gold سونے کی قیمت درج ذیل عوامل پر منحصر رہے گی:
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات
امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار
فیڈرل ریزرو کی پالیسی
تاہم طویل مدت میں سونے کو سہارا دینے والے عوامل موجود ہیں:
مرکزی بینکوں کی مسلسل خریداری
جغرافیائی سیاسی خطرات
مہنگائی کے خدشات
لہٰذا، اگرچہ اس وقت سونا محدود رینج میں ہے، لیکن مستقبل میں اس میں بڑی حرکت متوقع ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



