پاکستان میں Foreign Exchange Remittances کی ریکارڈ آمد، 38.3 ارب ڈالر کا سنگ میل عبور

Surge In Foreign Exchange Remittances Strengthens Pakistan’s Economy Amid External Challenges

پاکستان میں Foreign Exchange Remittances نے اسوقت نئی تاریخ رقم کر دی، جب Fiscal Year 2025 کے دوران 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح حاصل کی گئی۔ State Bank of Pakistan کے مطابق، یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سخت ریگولیٹری اقدامات، Money Laundering کے خلاف کارروائیاں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مسلسل کوششوں  نے اس تاریخی اضافے کو ممکن بنایا۔

ان Foreign Exchange Remittances نے پاکستان کے External Account کو سہارا دیا. گھریلو صارفین کی Disposable Incomes کو بڑھایا، اور معیشت میں تیزی پیدا کی۔

خلاصہ:

  • Saudi Arabia سے سب سے زیادہ Foreign Exchange Remittances، جون 2025 میں 823 ملین ڈالر موصول.

  • UAE سے آنے والی رقم میں سالانہ 10 فیصد اضافہ.

  • United Kingdom سے 538 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول. سالانہ بنیاد پر 10 فیصد اضافہ.

  • United States سے جون 2025 میں 281 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں.

  • جون 2025 میں کل ترسیلات 3.4 ارب ڈالر رہیں. سالانہ 7.9 فیصد اضافہ.

  • Bangladesh میں بھی ترسیلات کا ریکارڈ. 30 ارب ڈالر کے ساتھ 26 فیصد اضافہ.

ریکارڈ Foreign Exchange Remittances کا پس منظر.

اپریل میں SBP Governor جمیل احمد نے مالی سال کے دوران 38 ارب ڈالر کی Foreign Exchange Remittances کا تخمینہ دیا تھا. جو مکمل ہوا. خیال رہے کہ یہ گزشتہ تخمینے 36 ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ ان Foreign Exchange Remittances نے ملک کی Economic Activity میں اضافہ کیا. External Gaps کو کم کیا اور معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔

ان ترسیلات زر کی بدولت پاکستان نے IMF Program کی شرائط پوری کرنے میں آسانی حاصل کی، زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی. روپے پر دباؤ کم ہوا، مالی خسارہ کنٹرول میں آیا. اور حکومت نے درآمدات کی ادائیگی کے لیے بہتر پوزیشن حاصل کی۔

اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات نے گھریلو صارفین کی خریداری کی طاقت بڑھائی، جس سے مارکیٹ کی طلب میں اضافہ ہوا اور مختلف صنعتی شعبوں میں پیداوار کی سطح بہتر ہوئی۔

Press Release from SBP about Foreign Exchange Remittances in June 2025
Press Release from SBP about Foreign Exchange Remittances in June 2025

ترسیلات زر کی معیشت میں اہمیت

Topline Securities کے CEO Mohammed Sohail نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے ملک کی معیشت کو سہارا دیا۔ یہ ترسیلات نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرتی ہیں. بلکہ معاشرتی اور معاشی استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ریکارڈ ترسیلات زر  نے Pakistan Economy کو مضبوطی فراہم کی ہے۔ Fiscal Year 2025 کے دوران Saudi Arabia, UAE, United Kingdom اور United States سے مسلسل آنے والی Foreign Exchange Remittances نے ملکی معیشت کو مشکلات سے نکالنے اور معاشی ترقی کے سفر میں دوبارہ شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

معاشی ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ مستقبل میں بھی یہ ترسیلات پاکستان کی معیشت میں جان ڈالنے اور استحکام لانے کا ذریعہ بنی رہیں گی۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button