Eurozone Harmonized Index of Consumer Prices (HICP) ex Energy & Food

ہم آہنگ صارف قیمت انڈیکس (HICP) ایک ایسا پیمانہ ہے۔ جو یوروزون ممالک میں مہنگائی کی شرح کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اعدادوشمار یورپی مرکزی بینک (ECB) کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ ادارہ انہیں اپنی مالیاتی پالیسی کے فیصلوں میں بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ جب ہم HICP سے توانائی اور خوراک کو نکال دیتے ہیں۔ تو ہمیں "کور انفلیشن” یا بنیادی مہنگائی کی شرح حاصل ہوتی ہے۔ جو معیشت کے اندرونی رجحانات کو بہتر انداز میں ظاہر کرتی ہے۔
توانائی اور خوراک کو کیوں نکالا جاتا ہے؟
توانائی اور خوراک کی قیمتیں اکثر بیرونی عوامل جیسے موسمی حالات، عالمی تیل کی قیمتوں یا جیوپولیٹیکل تناؤ کی وجہ سے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے مہنگائی میں وقتی اضافہ یا کمی دیکھی جاتی ہے۔ جو پالیسی سازوں کے لیے اصل معاشی رجحانات کو سمجھنا مشکل بنا سکتی ہے۔ لہٰذا، جب ان دو عناصر کو نکال دیا جاتا ہے۔ تو حاصل ہونے والا انڈیکس پالیسی کے لحاظ سے زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتبار سمجھا جاتا ہے۔
ستمبر کی رپورٹ کا پس منظر
ستمبر کے HICP ex Energy & Food کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ یوروزون میں بنیادی مہنگائی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ شرح ECB کے 2% کے ہدف سے اوپر ہے، تو یہ ممکن ہے۔کہ بینک مستقبل میں سخت مالیاتی اقدامات برقرار رکھے۔ لیکن اگر شرح میں کمی دیکھی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ قیمتوں کا دباؤ کم ہو رہا ہے، جو مستقبل میں شرحِ سود میں نرمی کی توقعات کو جنم دے سکتا ہے۔
ECB کی پالیسی پر اثرات
یورپی مرکزی بینک کی جانب سے شرحِ سود میں حالیہ اضافے کے بعد، اب مارکیٹ کی نظریں مہنگائی کے تازہ ترین ڈیٹا پر مرکوز ہیں۔ اگر کور انفلیشن مسلسل کمی دکھاتی ہے۔ تو یہ ECB کے لیے اطمینان کا باعث ہو سکتی ہے۔ کہ پالیسی سختی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ تاہم، اگر اعداد و شمار بدستور بلند رہیں، تو ممکن ہے۔ کہ ECB مزید طویل عرصے تک سخت مؤقف برقرار رکھے۔
مارکیٹ کا ردعمل
یورو (EUR) عموماً ایسے اعداد و شمار پر فوری ردعمل دیتا ہے۔ اگر بنیادی مہنگائی توقع سے زیادہ ہو، تو یورو کی قدر میں اضافہ ممکن ہے کیونکہ سرمایہ کار ECB کی جانب سے مزید شرحِ سود میں اضافے کی توقع کرتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر ڈیٹا کمزور آئے تو یورو دباؤ میں آ سکتا ہے۔
نتیجہ
HICP ex Energy & Food (YoY) یوروزون کی معیشت کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ رپورٹ صرف مرکزی بینک کے لیے ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کے لیے بھی ایک اہم رہنما ہے، کیونکہ یہ مستقبل کی مالیاتی پالیسی اور کرنسی مارکیٹ کے رجحانات پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



