WTI Crude Oil کی قیمتوں میں چار ماہ کی بلند ترین سطح: امریکہ اور ایران کشیدگی کے اثرات

US-Iran Tensions, Inventory Drawdowns, and Supply Fears Push WTI Crude Oil Above $64

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں (Crude Oil Prices) ایک بار پھر ہیڈ لائنز میں ہیں۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ WTI Crude Oil  نے $64 فی بیرل کی سطح کو عبور کرتے ہوئے گزشتہ چار ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ اس اچانک اضافے کے پیچھے جہاں مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال (Geopolitical Tensions) ہے. وہاں امریکی معاشی اعداد و شمار نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار کے طور پر، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ WTI Crude Oil price volatility and US-Iran tensions محض ایک عارضی رجحان نہیں. بلکہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے گہرے توازن کی عکاسی کر رہا ہے۔

WTI Crude Oil کو مزید سہارا اس وقت ملا جب امریکی توانائی ادارے کی رپورٹ میں خام تیل کے ذخائر میں 2.296 ملین بیرل کی کمی ظاہر کی گئی، جبکہ اس سے پہلے بڑے اضافے کی توقع تھی۔ یہ غیر متوقع کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی معیشت میں تیل کی طلب اب بھی مضبوط ہے، اور یہی عنصر WTI Crude Oil کو سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنا رہا ہے۔

مختصر خلاصہ

  • تیزی کی وجہ: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی کارروائی کے خدشات نے WTI Crude Oil کو $64 سے اوپر دھکیل دیا ہے۔

  • سپلائی کے خطرات: آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کا خوف عالمی سپلائی کے ایک تہائی حصے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

  • انوینٹری ڈیٹا: امریکی ای آئی اے (EIA) کی رپورٹ کے مطابق تیل کے ذخائر میں 2.296 ملین بیرل کی کمی طلب میں اضافے کا اشارہ ہے۔

  • ڈالر کا اثر: امریکی وزیر خزانہ کے "مضبوط ڈالر” کے بیان نے قیمتوں میں مزید بے لگام اضافے کو کسی حد تک لگام دی ہے۔

کیا امریکہ اور ایران کشیدگی تیل کی سپلائی روک سکتی ہے؟

ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی ٹکراؤ کے خدشات براہ راست عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا 30 فیصد سے زائد تیل گزرتا ہے. ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر بند کیا جا سکتا ہے. جو قیمتوں میں بڑا اچھال (Price Spike) لا سکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے (Nuclear Deal) پر ممکنہ فوجی کارروائی کی وارننگ نے عالمی سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکی بحریہ "تیزی اور تشدد” کے ساتھ کارروائی کے لیے تیار ہے. مارکیٹ میں رسک پریمیم (Risk Premium) کو بڑھا چکا ہے۔

میں نے 2019 میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی. جب ٹینکرز پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں نے چند گھنٹوں میں 5 فیصد کا جمپ لگایا تھا۔ تجربہ کار ٹریڈرز جانتے ہیں. کہ جب "جنگ کے بادل” چھاتے ہیں تو تکنیکی انالیسس (Technical Analysis) سے زیادہ بنیادی خبریں (Fundamental News) حاوی ہو جاتی ہیں۔

WTI Crude Oil کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات کیا ہیں؟

WTI Crude Oil کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو ہم درج ذیل تین بڑے عوامل میں تقسیم کر سکتے ہیں.

1. جیو پولیٹیکل رسک (Geopolitical Risk)

جب بھی مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، تیل کی قیمتیں سب سے پہلے ردعمل دیتی ہیں۔ ایران نہ صرف خود ایک بڑا پیدا کار ہے. بلکہ وہ عالمی سپلائی لائنز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر ایران انتقامی کارروائی کے طور پر سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے. تو عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

2. امریکی انوینٹری میں غیر متوقع کمی (EIA Inventory Drawdown)

WTI Crude Oil کی قیمتوں میں اضافے کی دوسری بڑی وجہ امریکی محکمہ توانائی (EIA) کی رپورٹ ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 2.296 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی. جبکہ مارکیٹ ایک بڑے اضافے (Build) کی توقع کر رہی تھی۔

  • سابقہ ڈیٹا: 3.602 ملین بیرل اضافہ (Build)

  • موجودہ ڈیٹا: 2.296 ملین بیرل کمی (Drawdown)

یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ریفائنریز کی طلب توقع سے زیادہ ہے. جو قیمتوں کے لیے ایک مثبت (Bullish) اشارہ ہے۔

3. مارکیٹ کا نفسیاتی رجحان (Market Sentiment)

ٹریڈرز اس وقت "Wait and Watch” کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں لیکن خریداری کا رجحان زیادہ ہے۔ $64 کی سطح ایک اہم نفسیاتی مزاحمت (Resistance) تھی. جسے توڑنے کے بعد اب مارکیٹ کی نظریں $67 اور اس سے اوپر کی سطحوں پر ہیں۔

مضبوط ڈالر (Strong Dollar Policy) اور تیل کی قیمتیں

ایک اہم نکتہ جو اکثر نوآموز ٹریڈرز نظر انداز کر دیتے ہیں. وہ ڈالر اور تیل کا الٹا تعلق ہے۔ چونکہ تیل کی قیمت ڈالر میں مقرر ہوتی ہے. اس لیے جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے. تو تیل دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے مہنگا ہو جاتا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ (Scott Bessent) نے حال ہی میں "مضبوط ڈالر پالیسی” کی توثیق کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ کی مضبوط معیشت سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کرتی رہے گی۔ اس بیان نے ڈالر انڈیکس (DXY) کو سہارا دیا ہے. جس کی وجہ سے WTI Crude Oil price volatility and US-Iran tensions کے باوجود قیمتوں میں ایک حد سے زیادہ اضافہ رک گیا ہے۔

WTI Crude Oil as on 29th January 2026 after US Iran Tensions Escalated
WTI Crude Oil as on 29th January 2026 after US Iran Tensions Escalated

عالمی تیل کی تجارت میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی اہمیت

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا تقریباً ایک تہائی سمندری تیل اسی چھوٹے سے راستے سے گزرتا ہے؟ ایران نے دھمکی دی ہے. کہ اگر اسے اکسایا گیا تو وہ "بے مثال ردعمل” دے گا۔

خصوصیت اہمیت
عالمی سپلائی کل عالمی سپلائی کا تقریباً 30% یہاں سے گزرتا ہے۔
اہم پیدا کار سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کا تیل اسی راستے سے جاتا ہے۔
متبادل اس راستے کا کوئی فوری اور مکمل متبادل دستیاب نہیں ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ: ٹریڈرز کو کیا کرنا چاہیے؟

آنے والے دنوں میں WTI Crude Oil کی سمت کا تعین دو بڑی خبریں کریں گی.

  1. امریکہ-ایران سفارت کاری: کیا ایران مذاکرات کی میز پر آئے گا. یا کشیدگی تصادم کی طرف بڑھے گی؟

  2. اوپیک (OPEC) کا ردعمل: کیا تیل پیدا کرنے والے ممالک قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے سپلائی بڑھائیں گے؟

ایک پرانے ٹریڈر کے طور پر میری نصیحت ہے. کہ ایسی مارکیٹ میں "Stop Loss” کا استعمال لازمی کریں۔ جیو پولیٹیکل خبروں پر چلنے والی مارکیٹ کسی بھی وقت 180 ڈگری پر گھوم سکتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ جوش میں آ کر حد سے زیادہ لیوریج (Leverage) لے لیتے ہیں. اور ایک ہی خبر ان کا اکاؤنٹ صاف کر دیتی ہے۔

اختتامیہ.

WTI Crude Oil کی $64 سے اوپر کی پرواز امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ ڈالر کی مضبوطی قیمتوں پر تھوڑا دباؤ ڈال رہی ہے، لیکن سپلائی کے خدشات اس وقت مارکیٹ پر حاوی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ جیو پولیٹیکل خبروں کے ساتھ ساتھ امریکی انوینٹری ڈیٹا پر بھی گہری نظر رکھیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا WTI Crude Oil کی قیمتیں $70 کی سطح کو چھو پائیں گی. یا ڈالر کی مضبوطی انہیں واپس نیچے لے آئے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button