WTI Crude Oil میں تیزی، US China Trade Deal کی امیدوں نے مارکیٹ میں نئی جان ڈال دی
Traders anticipate fresh momentum in Oil Market amid positive US-China signals and falling crude inventories
Global Oil Market میں آج ایک نیا موڑ دیکھا جا رہا ہے، جہاں WTI Crude Oil کی قیمت $57.55 تک جا پہنچی ہے۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب US China Trade Deal کی خبروں نے مارکیٹ میں مثبت جذبات پیدا کیے ہیں۔ ٹریڈرز اب اپنی نظریں EIA Report پر مرکوز کیے ہوئے ہیں، جو آئندہ سمت کا تعین کرے گی۔
ایک مالیاتی مارکیٹ کنٹینٹ سٹریٹیجسٹ (Financial Market Content Strategist) کے طور پر، ہم اس بات کا گہرائی سے تجزیہ کریں گے. کہ اس حرکت کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں. اور آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں (Crude Oil Prices) پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی معیشت اور تیل کی طلب کے لیے امریکہ اور چین، دونوں دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں (Economies) اور خام تیل کے بڑے صارف (Major Consumers) ہیں، ان کے درمیان تعلقات میں بہتری کا کوئی بھی اشارہ مارکیٹ کے جذبات (Market Sentiment) کو تیزی سے تبدیل کر سکتا ہے۔
کلیدی نکات
-
WTI Crude Oil کی قیمت میں اضافہ: WTI Crude Oil کی قیمت $57.50 سے اوپر چڑھ گئی اور $57.55 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔
-
بنیادی وجہ: امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ (Trade Tensions) میں نرمی کے امکانات نے عالمی تیل کی طلب (Global Oil Demand) کے بارے میں مثبت توقعات کو جنم دیا۔
-
API ذخائر میں کمی: امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کی رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر (US Crude Inventories) میں 2.98 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی. جس نے قیمتوں کو مزید سہارا دیا۔
-
توقع: تاجر آج بعد میں آنے والی یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کی سرکاری سٹاک پائلز رپورٹ اور امریکہ-چین ملاقاتوں پر گہری نظر رکھیں گے۔
-
خطرہ: اوپیک پلس (OPEC+) کی جانب سے زائد رسد کے منصوبے اور آئی ای اے (IEA) کی طرف سے 2026 تک سپلائی میں اضافی ہونے کی پیش گوئی، قیمتوں کی ممکنہ حد (Upside Cap) کو محدود کر سکتی ہے۔
امریکہ اور چین کی قربت سے پیدا ہونے والی خوش فہمی:
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر نئے 100% Tariff عائد کرنے کی دھمکی دی تھی. مگر ہفتے کے اختتام پر ان کا لہجہ نرم پڑ گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ چین پر زیادہ ٹیرف پالیسی "غیر پائیدار” ہے۔ اب جب کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کی نئی راہیں کھل رہی ہیں. سرمایہ کاروں نے WTI Crude Oil میں نئی سرمایہ کاری شروع کر دی ہے۔
مارکیٹ کی توجہ کا مرکز: EIA Report
تمام تجزیہ کاروں کی نظریں اب بدھ کو آنے والی EIA Report پر ہیں. جو امریکی تیل کے ذخائر میں کمی یا اضافے کا درست حال بتائے گی۔ اگر EIA کی رپورٹ بھی کمی ظاہر کرتی ہے. تو WTI Crude Oil مزید اوپر جا سکتا ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں یہ رجحان ہے. کہ تیل کی کمی قیمتوں کو سہارا دے گی۔
میں نے اپنے 10 سالہ مالیاتی مارکیٹ کیریئر میں بارہا دیکھا ہے. کہ کس طرح جیو پولیٹیکل (Geo-political) اور عالمی سطح پر آنیوالی خبریں تکنیکی سطحوں (Technical Levels) کو بھی توڑ سکتی ہیں۔ 2018-2019 کی امریکہ-چین تجارتی جنگ کے دوران. ہر نئے ٹیرف کے اعلان پر تیل کی قیمتیں فوری اور تیز گراوٹ دکھاتی تھیں. اور تعلقات میں نرمی کے معمولی اشارے پر بھی $2 سے $3 کا اضافہ غیر معمولی نہیں تھا۔
یہ مارکیٹ میں خوف (Fear) اور لالچ (Greed) کے سیدھے اثرات کو ظاہر کرتا ہے. اور یہ بتاتا ہے. کہ فنڈامنٹل انالیسس (Fundamental Analysis) تکنیکی چارٹس پر کیسے حاوی ہو سکتا ہے۔ ایک سیزنڈ ٹریڈر (Seasoned Trader) کے طور پر. آپ کو ہمیشہ بڑی خبروں کے لیے اپنے اسٹاپ لاس (Stop-Loss) کو ایڈجسٹ کرنے یا اپنی پوزیشن سائز (Position Size) کو کم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی کیوں اہمیت رکھتی ہے؟
امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) نے رپورٹ دی ہے کہ 17 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں 2.98 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی ایک ہفتہ قبل کے 3.524 ملین بیرل کے اضافے کے برعکس ہے. اور مارکیٹ کی توقعات سے بھی زیادہ ہے۔ ذخائر میں یہ غیر متوقع کمی مارکیٹ کو یہ اشارہ دیتی ہے. کہ موجودہ طلب (Current Demand) زیادہ مضبوط ہے. اور یہ رسد (Supply) پر حاوی ہو رہی ہے. جو قیمتوں کے لیے ایک تیزی کا رجحان (Bullish Signal) ہے۔
خام تیل کے ذخائر مارکیٹ میں طلب اور رسد (Supply and Demand) کے توازن کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی ڈیٹا پوائنٹ ہیں۔ جب انوینٹریز (Inventories) توقع سے زیادہ گرتی ہیں. تو یہ عام طور پر دو چیزوں کا اشارہ ہوتا ہے. یا تو ریفائنریوں (Refineries) میں پروسیسنگ (Processing) زیادہ ہو رہی ہے. (زیادہ طلب کی وجہ سے)، یا درآمدات (Imports) کم ہو گئی ہیں۔
موجودہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے. کہ رواں سال اب تک مجموعی طور پر انوینٹریز میں 2.423 ملین بیرل کا خالص نقصان (Net Loss) ہوا ہے. جو طلب کی مضبوطی کی طرف اشارہ ہے۔
ایک متوازن نقطہ نظر
WTI Crude Oil کا $57.50 سے اوپر جانا تجارتی تعلقات میں بہتری اور امریکی طلب کی مضبوطی پر مارکیٹ کے فوری ردعمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک تجربہ کار مارکیٹ سٹریٹیجسٹ کے طور پر، میرا نقطہ نظر ہمیشہ متوازن رہا ہے۔ یہ اضافہ ایک خوش آئند تیزی کا اشارہ (Bullish Signal) ہے. لیکن یہ فیصلہ کن نہیں ہے۔
اہم نکات جن پر غور کرنا چاہیے:
-
تصدیق کا انتظار: EIA کی رپورٹ API کے اعداد و شمار کی تصدیق کر سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید اعتماد پیدا ہو گا۔
-
سیاسی غیر یقینی: امریکہ-چین مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ کا غیر متوقع طرز عمل مارکیٹ میں ایک بار پھر تیزی سے اتار چڑھاؤ (Volatility) لا سکتا ہے۔
-
رسد کی حقیقت: رسد کی زیادتی کا دیرینہ خطرہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی بڑا، پائیدار اضافہ ایک بڑی عالمی اقتصادی سرپرائز کے بغیر مشکل ہو گا۔
WTI Crude Oil کے ٹریڈرز کو قلیل مدتی (Short-term) پوزیشنز کو ٹریڈ کرتے وقت قریبی سپورٹ اور مزاحمتی سطحوں (Support and Resistance Levels) پر نظر رکھنی چاہیے اور طویل مدتی (Long-term) سرمایہ کاری کے لیے رسد اور طلب کی مجموعی تصویر کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
آپ کس طرح ان رسد اور سیاسی خطرات کے درمیان اپنے ٹریڈنگ منصوبے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں؟ آپ کا کیا خیال ہے؟
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



