KSE100 Index میں تیز Buying Rally نے PSX کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا

KSE100 Index Rallies Over 1,750 Points Amid Sectoral Strength and Renewed Confidence

PSX میں آج ایک بار پھر غیر معمولی تیزی (Bullish Momentum) دیکھی گئی. جہاں سرمایہ کاروں کے اعتماد نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ PSX Bullish Trend and KSE100 Record Highs کی یہ لہر نہ صرف مقامی معاشی استحکام کی عکاسی کرتی ہے. بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ اب بیرونی منفی خبروں کے اثرات کو جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کر چکی ہے۔

منگل کے روز ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی خریداروں (Buyers) نے مختلف شعبوں میں جارحانہ خریداری کی. جس کے نتیجے میں انڈیکس 186,000 کی نفسیاتی حد (Psychological Level) کو عبور کر گیا۔

اہم نکات (Key Points)

  • ریکارڈ اضافہ: KSE100 انڈیکس میں دورانِ ٹریڈنگ 1,800 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا. جس سے انڈیکس 186,813 کی سطح پر پہنچ گیا۔

  • ہمہ جہت خریداری: آٹوموبائل، سیمنٹ، بینکنگ، اور ٹیکنالوجی سمیت تمام بڑے سیکٹرز میں تیزی دیکھی گئی۔

  • عالمی اثرات: امریکی تجارتی پالیسیوں اور انڈیا-امریکہ ڈیل کے باوجود پPSX نے مثبت ردعمل ظاہر کیا۔

  • فیڈرل ریزرو کا کردار: امریکہ میں شرح سود اور بانڈ ییلڈز (Bond Yields) کے حوالے سے نئی توقعات نے عالمی سطح پر سونے اور اسٹاکس میں ہلچل مچا دی ہے۔

KSE100 انڈیکس میں اچانک تیزی کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟

جب ہم PSX Bullish Trend and KSE100 Record Highs کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں. تو چند بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں۔ سب سے اہم وجہ مقامی انویسٹرز کا معاشی پالیسیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔

آج کی تیزی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (Liquidity) کا بہاؤ بہتر ہوا ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے منافع بخش نتائج اور فرٹیلائزر کمپنیوں کی بہتر سیلز نے انویسٹرز کو راغب کیا۔ اس کے علاوہ، او ایم سیز (OMCs) اور سیمنٹ سیکٹر میں قیمتوں کے استحکام نے بھی "بائنگ سینٹیمنٹ” (Buying Sentiment) کو مضبوط کیا۔

KSE100 as on 3rd Feb. 2026 after PSX got rebound
KSE100 as on 3rd Feb. 2026 after PSX got rebound

اپنی 10 سالہ ٹریڈنگ جرنی کے دوران میں نے دیکھا ہے. کہ جب KSE100 اپنی کسی بڑی نفسیاتی حد (Resistance) کو توڑتا ہے. تو اسے "بریک آؤٹ” (Breakout) کہتے ہیں۔ آج کا 1750 پوائنٹس کا انٹرا ڈے اضافہ ایک کلاسیکی بریک آؤٹ تھا. جہاں ریٹیل انویسٹرز نے ڈرنے کے بجائے اداروں (Institutional Buyers) کے ساتھ مل کر خریداری کی۔

کیا انڈیا-امریکہ تجارتی معاہدہ پاکستان کے لیے خطرہ ہے؟

ایک اہم سوال جو انویسٹرز کے ذہنوں میں تھا، وہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈیا کے درمیان ہونے والا نیا تجارتی معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا پر امریکی ٹیرف (Tariffs) کم کر کے 18% کر دیے گئے ہیں. جو پاکستان کے 19% سے تھوڑا کم ہیں۔

عام حالات میں ایسی خبر مارکیٹ میں گراوٹ (Downturn) کا سبب بنتی ہے. لیکن Pakistan Stock Exchange نے اسے نظر انداز کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ پلیئرز (Market Players) کا خیال ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹ مارکیٹ اور انڈیا کی مصنوعات کی نوعیت مختلف ہے۔

مزید برآں، انڈیا کا روس سے تیل خریدنا بند کر کے امریکہ سے تیل خریدنے کا فیصلہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں استحکام لا سکتا ہے. جس کا بالواسطہ فائدہ پاکستان کو بھی ہوگا۔

عالمی مارکیٹس کا حال: سونا، جاپانی مارکیٹ اور فیڈرل ریزرو

عالمی مالیاتی منظر نامے (Global Financial Landscape) میں بھی آج کافی ہلچل رہی۔ امریکہ میں کیون وارش (Kevin Warsh) کی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) میں نامزدگی نے مارکیٹس میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔

عالمی اسٹاکس میں ریکوری

منگل کے روز ایشیائی مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ جاپان کا نکئی (Nikkei) 2.5% اور جنوبی کوریا کا کوسپی (KOSPI) 4% بڑھ گیا۔ اس کی بڑی وجہ امریکی فیکٹری ڈیٹا میں بہتری تھی. جس نے عالمی کساد بازاری (Recession) کے خدشات کو کم کر دیا۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

سونے کی قیمتیں (Gold Prices) پیر کے روز گرنے کے بعد دوبارہ 3% اضافے کے ساتھ 4,800 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئیں۔ وارش کو ایک "ہاکش” (Hawkish) شخصیت سمجھا جاتا ہے. جو فیڈ کے بیلنس شیٹ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے بانڈ ییلڈز بڑھ سکتی ہیں. جو عام طور پر سونے کے لیے منفی ہوتی ہے، لیکن حالیہ "وِپ سا” (Whipsaw) موومنٹ نے ٹریڈرز کو حیران کر دیا ہے۔

سیکٹر وار تجزیہ: کن حصص (Stocks) نے مارکیٹ کو سہارا دیا؟

اگر آپ ایک سمارٹ انویسٹر بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پیسہ کہاں جا رہا ہے۔ آج کی ٹریڈنگ میں درج ذیل سیکٹرز نمایاں رہے:

  1. آٹوموبائل (Automobile): شرح سود میں کمی کی توقعات نے گاڑیوں کی فروخت بڑھنے کی امید پیدا کی ہے۔

  2. بینکنگ (Banking): بڑے کمرشل بینکوں کے سالانہ منافع (Annual Results) توقعات سے بہتر آ رہے ہیں۔

  3. ٹیکنالوجی (Tech): عالمی سطح پر آئی ٹی سروسز کی مانگ میں اضافے نے مقامی ٹیک کمپنیوں کے شیئرز میں جان بھر دی ہے۔

  4. تیل اور گیس (OMCs): عالمی خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نے اس سیکٹر کو پرکشش بنا دیا ہے۔

سیکٹر (Sector) فیصد تبدیلی (Approx. Change) رجحان (Trend)
سیمنٹ +1.2% Bullish
ٹیکنالوجی +2.0% Strong Bullish
فرٹیلائزر +0.8% Stable
بینکنگ +1.5% Leading

مستقبل کی حکمت عملی: انویسٹرز اب کیا کریں؟

موجودہ PSX Bullish Trend and KSE100 Record Highs کو دیکھتے ہوئے، نئے اور پرانے انویسٹرز کے لیے کچھ اہم مشورے درج ذیل ہیں.

کیا ابھی سرمایہ کاری کا صحیح وقت ہے؟

مارکیٹ جب اپنی بلند ترین سطح (All-time High) پر ہو. تو اندھا دھند خریداری سے گریز کرنا چاہیے۔ اسے "فومو” (FOMO – Fear of Missing Out) کہتے ہیں۔ ہمیشہ "بائے آن ڈپ” (Buy on Dip) کی حکمت عملی اپنائیں. یعنی جب مارکیٹ تھوڑی نیچے آئے تب خریداری کریں۔

بنیادی طور پر یہ تیزی مقامی کمپنیوں کے بہترین مالیاتی نتائج، شرح سود میں کمی کی امید، اور عالمی مارکیٹس میں مثبت رجحان کی وجہ سے آئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو یقین ہے کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کی طرف گامزن ہے۔

جس رفتار سے مارکیٹ بڑھ رہی ہے، اگر معاشی پالیسیاں مستقل رہیں. اور سیاسی استحکام برقرار رہا. تو انڈیکس کے لیے 200,000 کا ہدف ناممکن نہیں ہے۔ تاہم، اس کے لیے ایکسپورٹ میں اضافہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔

رسک مینجمنٹ (Risk Management) کی اہمیت

مارکیٹ میں تیزی کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں. تاکہ آپ کا اصل سرمایہ محفوظ رہے۔

میں نے اپنے کیریئر میں کئی بار دیکھا ہے کہ 1000 پوائنٹس کی تیزی کے بعد مارکیٹ 500 پوائنٹس کا "کریکشن” (Correction) لیتی ہے۔ یہ کریکشن مارکیٹ کی صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے. کیونکہ یہ نئے خریداروں کو موقع دیتی ہے۔ اس لیے اگر آپ نے منافع کما لیا ہے. تو کچھ پرافٹ ٹیکنگ (Profit Taking) کر لینا دانشمندی ہے۔

نتیجہ (Conclusion)

آج کا دن پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ PSX Bullish Trend and KSE100 Record Highs محض نمبروں کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے معاشی مستقبل پر دنیا کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا عکاس ہے۔ جہاں عالمی سطح پر سونے اور ڈالر میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، وہیں پی ایس ایکس کا مستحکم رہنا ایک خوش آئند بات ہے۔

مستقبل میں نظریں آسٹریلیا کے سینٹرل بینک کے فیصلے اور امریکہ میں افراط زر کے اعداد و شمار پر ہوں گی، جو عالمی مارکیٹ کا رخ متعین کریں گے۔ پاکستانی ٹریڈرز کے لیے مشورہ ہے کہ وہ جذباتی ہونے کے بجائے ڈیٹا اور ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis) کی بنیاد پر فیصلے کریں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ تیزی برقرار رہے گی یا مارکیٹ میں جلد کوئی بڑی کمی دیکھنے کو ملے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button