Dow Jones Futures میں گراوٹ: کیا US CPI کے اعداد و شمار مارکیٹ کا رخ بدل دیں گے؟
Inflation Data, Fed Independence Fears, and Bank Earnings Shape Market Mood
امریکی اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ منگل کے روز یورپی سیشن کے دوران Dow Jones futures میں معمولی کمی دیکھی گئی. کیونکہ پوری دنیا کی نظریں دسمبر کے US CPI Index Price Index – یعنی افراط زر کے اعداد و شمار پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ ڈیٹا نہ صرف امریکی معیشت کی صحت بتائے گا بلکہ فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی مستقبل کی پالیسی کا رخ بھی متعین کرے گا۔
اہم نکات (Key Points)
-
مارکیٹ کی صورتحال: Dow Jones futures میں 0.09% کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے. کیونکہ ٹریڈرز سی پی آئی (CPI) ڈیٹا سے پہلے محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔
-
مہنگائی کی توقعات: ماہرین کا خیال ہے کہ سالانہ مہنگائی 2.7% پر برقرار رہے گی، جبکہ بنیادی افراط زر (Core Inflation) میں معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔
-
فیڈرل ریزرو پر دباؤ: فیڈ چیئرمین جیروم پاول کے خلاف حالیہ تحقیقات اور سیاسی دباؤ نے مرکزی بینک کی آزادی (Independence) پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
-
بینکنگ سیکٹر پر نظر: جے پی مورگن (JPMorgan) اور دیگر بڑے بینکوں کے چوتھی سہ ماہی (Q4) کے نتائج مارکیٹ کے جذبات پر اثر انداز ہوں گے۔
US CPI ڈیٹا مارکیٹ کے لیے کیوں اہم ہے؟
US CPI Index افراط زر کی پیمائش کا سب سے اہم پیمانہ ہے۔ اگر مہنگائی توقع سے زیادہ آتی ہے. تو فیڈرل ریزرو کو شرح سود (Interest Rates) میں کٹوتی کرنے میں دشواری ہوگی. جس سے اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، انفلیشن میں کمی مارکیٹ کے لیے "گرین سگنل” ثابت ہوتی ہے۔
جب ہم فنانشل مارکیٹس کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں. تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ افراطِ زر (Inflation) براہِ راست پیسے کی قدر اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
دسمبر 2025 کے اعداد و شمار میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ 2.7% پر رہے گی۔ لیکن یہاں اصل توجہ ‘کور انفلیشن’ (Core Inflation) پر ہے. جس میں خوراک اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں۔ اگر یہ 2.6% سے بڑھ کر 2.7% ہو جاتی ہے. تو ٹریڈرز کے لیے یہ خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔
ایک طویل تجربے کے دوران میں نے دیکھا ہے. کہ مارکیٹ اکثر اصل ڈیٹا سے زیادہ ‘سرپرائز فیکٹر’ پر ردعمل دیتی ہے۔ اگر US CPI Index توقعات کے عین مطابق بھی آئے، تب بھی بعض اوقات ‘Buy the rumor, sell the news’ کی بنیاد پر بڑی موومنٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔
فیڈرل ریزرو کی آزادی اور سیاسی مداخلت کے اثرات
فیڈرل ریزرو کی آزادی عالمی مالیاتی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ حالیہ دنوں میں جیروم پاول کے خلاف تحقیقات اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شرح سود کم کرنے کے دباؤ نے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مارکیٹ کو ڈر ہے کہ اگر مرکزی بینک سیاسی دباؤ میں آ گیا. تو طویل مدتی معاشی فیصلے متاثر ہو سکتے ہیں۔
مرکزی بینک کی غیر جانبداری کسی بھی ملک کی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر سرمایہ کاروں کو یہ محسوس ہو کہ فیصلے معاشی ڈیٹا کی بجائے سیاسی بنیادوں پر ہو رہے ہیں. تو وہ اپنے اثاثوں کو محفوظ مقامات (Safe Havens) پر منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Dow Jones Futures میں ہمیں اس وقت احتیاط (Caution) نظر آ رہی ہے۔
بینکنگ سیکٹر کے نتائج: ارننگز سیزن کا آغاز
اس ہفتے وال سٹریٹ کی توجہ جے پی مورگن (JPMorgan Chase) کے چوتھی سہ ماہی کے نتائج پر مرکوز ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے نتائج کو معیشت کا آئینہ سمجھا جاتا ہے۔
| بینک کا نام | متوقع اثر (Potential Impact) |
| JPMorgan | مارکیٹ کے مجموعی رجحان کا تعین کرے گا۔ |
| Bank of America | صارفین کے اخراجات اور قرضوں کی صورتحال واضح کرے گا۔ |
| Goldman Sachs | انویسٹمنٹ بینکنگ اور ٹریڈنگ ریونیو کی عکاسی کرے گا۔ |
بینکوں کی آمدنی کے اعداد و شمار یہ بتائیں گے کہ کیا بلند شرح سود نے بینکوں کے منافع میں اضافہ کیا ہے. یا معاشی سست روی کی وجہ سے قرضوں کی واپسی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ایک ماہر حکمتِ عملی کے طور پر، میں سمجھتا ہوں. کہ بینکوں کی ‘گائیڈنس’ (آنے والے وقت کے بارے میں پیشن گوئی) اصل ڈیٹا سے زیادہ اہم ہو گی۔
تکنیکی تجزیہ: Dow Jones futures کے اہم لیولز
ڈاؤ جونز فیوچرز (Dow Jones futures) اس وقت 49,750 کے قریب ٹریڈ کر رہے ہیں۔ ٹیکنیکل لحاظ سے، مارکیٹ ایک مستحکم رینج میں ہے لیکن سی پی آئی ڈیٹا کے بعد اس میں بڑی لہر آ سکتی ہے۔
-
سپورٹ لیول (Support Level): اگر فیوچرز 49,500 سے نیچے گرتے ہیں. تو اگلی بڑی سپورٹ 49,200 پر ہو سکتی ہے۔
-
ریزسٹنس لیول (Resistance Level): 50,000 کی نفسیاتی حد (Psychological Barrier) کو عبور کرنا مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہوگا۔
میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ بڑے معاشی ڈیٹا سے پہلے مارکیٹ اکثر چھوٹے والیوم کے ساتھ ٹریڈ کرتی ہے. جسے ‘Calm before the storm’ کہا جاتا ہے۔ ایسے میں نئے ٹریڈرز کو بریک آؤٹ کا انتظار کرنا چاہیے. بجائے اس کے کہ وہ پہلے سے پوزیشن لیں جس میں رسک زیادہ ہو۔

فیڈ واچ ٹول اور شرح سود کی پیشن گوئی
سی ایم ای گروپ (CME Group) کا فیڈ واچ ٹول (FedWatch Tool) اس وقت جنوری کی میٹنگ میں شرح سود برقرار رہنے کے 95% امکانات دکھا رہا ہے۔ تاہم، اصل بحث جون میں ہونے والی ممکنہ کٹوتی پر ہے۔
اگر US CPI کے اعداد و شمار توقع سے زیادہ گرم (Hot) آتے ہیں. تو جون میں کٹوتی کی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں. جس سے ڈالر (USD) مضبوط ہوگا اور اسٹاکس پر دباؤ بڑھے گا۔ اس کے برعکس، اگر افراط زر قابو میں نظر آتی ہے. تو مارکیٹ میں ‘ریلی’ (Recovery) کا امکان روشن ہو جائے گا۔
سرمایہ کاروں کے لیے عملی مشورے (Actionable Insights)
-
ڈیٹا کا انتظار کریں: سی پی آئی ڈیٹا جاری ہونے کے پہلے 15-30 منٹ انتہائی اتار چڑھاؤ (Volatility) والے ہوتے ہیں۔ جذباتی فیصلے کرنے سے گریز کریں۔
-
ڈائیورسیفیکیشن (Diversification): صرف ایک سیکٹر پر انحصار نہ کریں۔ بینکنگ ارننگز کے دوران پورٹ فولیو کو بیلنس رکھیں۔
-
اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال: موجودہ غیر یقینی سیاسی اور معاشی ماحول میں Stop Loss کے بغیر ٹریڈنگ خودکشی کے مترادف ہے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
آج کا دن عالمی مارکیٹوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ Dow Jones futures کی معمولی گراوٹ اس بات کی علامت ہے کہ بڑے پلیئرز (Institutional Investors) فی الحال سائیڈ لائن پر ہیں اور کسی واضح سمت کا انتظار کر رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح، فیڈ کی خود مختاری اور بینکوں کے نتائج—یہ تینوں عوامل مل کر جنوری کے بقیہ حصے کا رخ طے کریں گے۔
بطور ایک ماہر، میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی نظریں صرف ہیڈ لائن نمبرز پر نہیں. بلکہ ‘کور سی پی آئی’ اور فیڈ کے بیانات پر رکھیں۔ مارکیٹ ہمیشہ غیر یقینی صورتحال کو ناپسند کرتی ہے. اور جیسے ہی حالات واضح ہوں گے. ہمیں ایک سمت میں مضبوط موو دیکھنے کو ملے گی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا فیڈ جون میں شرح سود کم کرے گا یا Inflation اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



