European Stocks کی مضبوطی، AI خدشات، Oil کی تیزی اور Central Banks کے فیصلے
Stocks stabilize, Oil rallies, and Inflation data reshapes Interest Rate expectations
Global Stocks میں جمعرات کو ایک نازک مگر معنی خیز سکون دیکھنے میں آیا. جہاں Stocks نے ٹیکنالوجی سیکٹر میں AI سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد سنبھلنے کی کوشش کی. جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں بیک وقت Central Banks کے فیصلوں، Inflation ڈیٹا اور جیوپولیٹیکل تناؤ سے متاثر ہونے والی کموڈیٹیز پر جمی رہیں. یوں یہ دن محض اعداد و شمار کا نہیں بلکہ عالمی مالی کہانی کے ایک اہم موڑ کا اشارہ بن گیا۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے. کہ Global Stocks اس وقت ایک نازک توازن میں ہیں. جہاں Stocks، AI، Oil اور Central Banks کے فیصلے مل کر مستقبل کی سمت کا تعین کر رہے ہیں. اور سرمایہ کار ہر خبر کو ایک بڑے مالیاتی بیانیے کے طور پر پڑھنے پر مجبور ہیں۔
کلیدی نکات
-
ٹیک سیکٹر کی واپسی: اوریکل (Oracle) کے گرد گھومتی تشویش کے بعد ٹیک اسٹاکس میں کچھ استحکام نظر آ رہا ہے۔
-
مرکزی بینکوں کے فیصلے: بینک آف انگلینڈ کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے قوی امکانات ہیں. جبکہ ECB سے جمود کی توقع ہے۔
-
تیل اور اشیاء کی قیمتیں: وینزویلا پر امریکی پابندیوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے. جبکہ چاندی (Silver) نے نئی ریکارڈ سطح کو چھو لیا ہے۔
-
امریکی افراط زر (CPI): سرمایہ کار آج نومبر کے افراطِ زر کے اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں. تاکہ Federal Reserve کے اگلے قدم کا اندازہ لگایا جا سکے۔
European Stocks کی محتاط مگر وسیع بحالی
یورپی مارکیٹس میں European Stocks نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی، جہاں STOXX 600 میں معمولی مگر معنی خیز اضافہ ہوا، اس بہتری کی بنیاد یہ امید بنی. کہ ٹیک سیکٹر کی حالیہ گراوٹ کے بعد دباؤ کچھ کم ہو سکتا ہے. جبکہ سرمایہ کار ECB کے پالیسی فیصلے سے قبل اپنے رسک کو متوازن رکھنے میں کامیاب رہے. اسی تناظر میں امریکی فیوچرز میں بہتری نے یورپی جذبات کو مزید سہارا دیا۔
کیا مرکزی بینکوں کی پالیسی اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے؟
اس وقت Global Stocks کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ مختلف ممالک کے مرکزی بینک کس طرح کی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) اختیار کرتے ہیں۔ امریکہ میں فیڈرل ریزرو نے جہاں لیبر مارکیٹ کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے نرمی کا اشارہ دیا ہے.
وہیں برطانیہ میں مہنگائی میں غیر متوقع کمی نے بینک آف انگلینڈ کے لیے شرح سود میں کمی کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ جب مرکزی بینک پالیسی میں فرق (Divergence) دکھاتے ہیں، تو اس سے کرنسی مارکیٹ اور اسٹاکس میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔
برطانیہ میں افراطِ زر (Inflation) کی شرح نومبر میں کم ہو کر 3.2% پر آ گئی ہے. جو کہ ماہرین کی توقعات سے کم ہے۔ اس ڈیٹا نے سرمایہ کاروں کو یقین دلا دیا ہے کہ بینک آف انگلینڈ آج شرح سود میں کمی کا اعلان کرے گا۔ میں نے اپنے دس سالہ تجربے میں دیکھا ہے کہ جب مہنگائی کے اعداد و شمار مرکزی بینک کے ہدف کے قریب آتے ہیں. تو مارکیٹ پہلے سے ہی اسے ‘پرائس ان’ (price-in) کر لیتی ہے. یہی وجہ ہے کہ پاؤنڈ میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے
مالیاتی پالیسی کے محاذ پر کہانی مزید گہری ہو گئی. جہاں BOE میں شرح سود میں کٹوتی تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے. ECB سے جمود کی توقع ہے جبکہ جاپان میں ممکنہ اضافہ عالمی پالیسی کے تضاد کو نمایاں کرتا ہے. اسی تناظر میں Fed کے بیانات نے یہ تاثر دیا کہ کمزور لیبر مارکیٹ Interest Rates میں نرمی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے گرد بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات
اوریکل کے حصص میں حالیہ گراوٹ کی بڑی وجہ ایک ڈیٹا سینٹر پروجیکٹ میں اہم پارٹنر ‘بلیو اول کیپٹل’ (Blue Owl Capital) کی عدم شمولیت ہے۔ اس خبر نے سرمایہ کاروں میں یہ خوف پیدا کر دیا ہے. کہ کیا AI پر ہونے والے بھاری اخراجات (capex) کے نتائج ویسے ہی ہوں گے. جیسی توقع کی جا رہی ہے۔ اوریکل کے حصص ستمبر سے اب تک اپنی قدر کا 50% کھو چکے ہیں. جو کہ AI ہائپ (AI hype) کے کمزور پڑنے کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
ٹیکنالوجی سیکٹر میں حالیہ گراوٹ کے بعد Stocks نے اگرچہ ہلکی سی بحالی دکھائی. مگر AI پر ریکارڈ اخراجات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل رکھا. خاص طور پر Oracle کے اس اعلان کے بعد کہ اس کے ڈیٹا سینٹر منصوبے میں ایک اہم پارٹنر شامل نہیں ہوگا. جس کے نتیجے میں اس کے شیئرز میں نمایاں کمی آئی اور Nasdaq100 کے بارے میں مارکیٹ کا مجموعی رویہ مزید محتاط ہو گیا۔
امریکی افراطِ زر (US CPI) اور فیڈرل ریزرو کا مستقبل
آج شام نومبر کے امریکی انفلیشن کے اعداد و شمار جاری ہوں گے جس میں کور انفلیشن (Core Inflation) 3% رہنے کی توقع ہے۔ اگرچہ یہ ایک اہم ڈیٹا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو اب مہنگائی کے بجائے روزگار کے بازار (labour market) پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کہ اگلا فیڈ چیئرمین وہ ہوگا جو شرح سود میں "بڑی کمی” پر یقین رکھتا ہو، مارکیٹ کے جذبات کو بدل رہا ہے۔
مارکیٹ میں اکثر ‘Buy the rumor, sell the news’ کا فارمولا چلتا ہے۔ بعض اوقات سی پی آئی ڈیٹا اگر توقع کے عین مطابق آئے. تو مارکیٹ میں بڑا ردعمل نہیں ہوتا. کیونکہ توجہ پہلے ہی اگلے ہفتے کی پالیسی میٹنگ پر منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔
جیو پولیٹیکل تناؤ کا اثر
امریکی صدر کی جانب سے وینزویلا کے خلاف تیل کے ٹینکرز کی ناکہ بندی (Blockade) کے حکم نے Energy Stocks میں ہلچل مچا دی ہے۔ تیل کی قیمتیں جو پانچ سال کی کم ترین سطح پر تھیں. اب دوبارہ اوپر جا رہی ہیں۔ اس قسم کے جیو پولیٹیکل واقعات سپلائی چین (Supply chain) کو متاثر کرتے ہیں. جس کا براہ راست اثر عالمی اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
Global Stocks میں اصل ڈراما Oil کے گرد گھومتا رہا. جہاں صدر Trump کی جانب سے وینزویلا کے تیل بردار جہازوں پر سخت اقدام نے قیمتوں کو پانچ سالہ کم ترین سطح سے واپس اوپر کی جانب دھکیل دیا، اسی دوران Silver نئی بلند ترین سطح پر پہنچی اور Gold کو بھی سہارا ملا، جس سے واضح ہوا کہ غیر یقینی حالات میں محفوظ اثاثوں کی کشش بدستور قائم ہے۔
قیمتی دھاتوں میں تیزی
چاندی (Silver) کی قیمتوں میں حالیہ ریکارڈ اضافے نے سونے (Gold) کی قیمتوں کو بھی سہارا دیا ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال میں محفوظ سرمایہ کاری (Safe-Haven Assets) کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

مستقبل کی حکمتِ عملی
موجودہ مارکیٹ کی صورتحال میں سرمایہ کاروں کو "انتظار کرو اور دیکھو” (Wait and Watch) کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔ ایک طرف ٹیک سیکٹر میں اصلاح (correction) کا عمل جاری ہے. تو دوسری طرف مرکزی بینکوں کے فیصلے کرنسی اور بانڈ مارکیٹس میں نئی سمت کا تعین کریں گے۔
طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے AI سیکٹر میں یہ گراوٹ بہترین انٹری پوائنٹ (Entry point) ثابت ہو سکتی ہے. بشرطیکہ کمپنیوں کے بنیادی ڈھانچے (Fundamentals) مضبوط ہوں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ AI کا غبارہ پھٹ رہا ہے یا یہ صرف ایک عارضی اصلاح ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



