مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور PSX میں گراوٹ کا تسلسل جاری.

KSE100 Index Slides 2.3% as Global Conflict and Oil Price Surge Shake Market Confidence

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں گزشتہ ہفتے ایک ڈرامائی صورتحال دیکھی گئی۔ جہاں جمعرات کو مارکیٹ نے تاریخی تیزی دکھائی،  جمعہ کو مشرقِ وسطیٰ (Middle East) میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے سائے میں KSE100 Index Middle East Conflict Impact واضح طور پر نظر آیا۔ بینچ مارک انڈیکس 2.3 فیصد یا تقریباً 3,714 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔

سرمایہ کاروں میں اس خوف نے جنم لیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک طویل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے. جس کے اثرات عالمی معیشت سمیت پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔

مختصر خلاصہ

  • مارکیٹ کی گراوٹ: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے میں KSE100 انڈیکس 2.3% گر کر 157,496 کی سطح پر بند ہوا۔

  • عالمی اثرات: عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں (Oil Prices) میں 15% اضافہ اور ایشیائی مارکیٹوں میں 6 سال کی سب سے بڑی ہفتہ وار مندی دیکھی گئی۔

  • سرمایہ کاروں کا ردِعمل: غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے شیئرز بیچ کر نقد رقم (Cash) اور محفوظ اثاثوں (Safe Havens) کو ترجیح دی۔

  • مستقبل کا منظرنامہ: خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان میں افراط زر (Inflation) اور شرح سود (Interest Rates) پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز کیوں ہوتے ہیں؟

جب بھی خلیجی ممالک یا مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے. تو عالمی سپلائی چین (Supply Chain) متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پاکستان جیسا ملک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہے. ان حالات سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی. جو بالآخر اسٹاک مارکیٹ میں مندی (Bearish Trend) کا سبب بنتی ہے۔

میں نے اپنے دس سالہ تجربے میں دیکھا ہے کہ جب بھی جیو پولیٹیکل ٹینشن بڑھتی ہے، مارکیٹ "Fear Index” پر کام کرتی ہے۔ سرمایہ کار بنیادی حقائق (Fundamentals) کو بھول کر صرف خبروں (News Flow) پر ردِعمل دیتے ہیں۔ 2020 کے کریش کے دوران بھی ہم نے یہی دیکھا تھا. کہ پینک سیلنگ ہمیشہ غیر منطقی ہوتی ہے. لیکن مختصر مدت کے لیے بہت تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

جمعہ کی ٹریڈنگ کا تفصیلی جائزہ: اتار چڑھاؤ کی وجوہات

جمعہ کے روز مارکیٹ کا آغاز مثبت ہوا اور KSE100 انڈیکس 161,435 کی بلند ترین سطح تک گیا. لیکن یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی۔ فروخت کے دباؤ (Selling Pressure) نے KSE100 انڈیکس کو نیچے دھکیل دیا. اور دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ 157,000 کی سطح تک گر گئی۔

بڑے سیکٹرز جن میں گراوٹ دیکھی گئی

ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق، KSE100 انڈیکس کو گرانے میں درج ذیل کمپنیوں نے سب سے زیادہ "کردار” ادا کیا:

  1. بینکنگ سیکٹر: UBL, MEBL, اور BAFL میں بڑے پیمانے پر پرافٹ ٹیکنگ دیکھی گئی۔

  2. فرٹیلائزر اور سیمنٹ: ENGRO, FFC اور LUCK سیمنٹ بھی دباؤ کا شکار رہے۔

  3. ٹیکنالوجی اور انرجی: SYS اور OGDC میں عالمی مندی کے اثرات نمایاں رہے۔

ان کمپنیوں نے مل کر انڈیکس میں 2,124 پوائنٹس کی کمی کی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بڑے انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (Institutional Investors) ویک اینڈ سے پہلے اپنی پوزیشنز کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔

KSE100 Index as on 6th March 2026
KSE100 Index as on 6th March 2026

عالمی مارکیٹ کی صورتحال اور خام تیل کی قیمتیں

عالمی سطح پر صورتحال مزید سنگین نظر آ رہی ہے۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس گزشتہ 6 سالوں کی بدترین ہفتہ وار مندی کا شکار ہوئیں۔ جاپان کا Nikkei اور جنوبی کوریا کا Kospi بالترتیب 6.5% اور 10.5% تک گر گئے۔

تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمتیں ایک ہفتے میں 69 ڈالر سے بڑھ کر 83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ یہ 15 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے جو فروری 2022 کے بعد سب سے بڑی چھلانگ ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو عالمی بینکوں کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں کمی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، کیونکہ افراط زر بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پاکستانی روپے کی صورتحال اور تجارتی حجم

ایک طرف جہاں اسٹاک مارکیٹ میں مندی تھی، وہیں پاکستانی روپیہ (PKR) ڈالر کے مقابلے میں مستحکم رہا. اور 279.40 پر بند ہوا۔ تاہم، مارکیٹ میں ٹریڈنگ والیم (Volume) میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

  • پچھلا سیشن: 723 ملین شیئرز.

  • حالیہ سیشن: 363 ملین شیئرز.

والیم میں یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ خریدار (Buyers) ابھی سائیڈ لائن پر ہیں. اور حالات واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے حکمتِ عملی: اس بحران میں کیا کریں؟

ایک ماہر کے طور پر میرا مشورہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں "انتظار کرو اور دیکھو” (Wait and Watch) کی پالیسی بہترین ہے۔ جب مارکیٹ جیو پولیٹیکل وجوہات کی بنا پر گرتی ہے. تو ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis) بعض اوقات فیل ہو جاتے ہیں۔

اہم مشورے:

  1. پورٹ فولیو ڈائیورسیفکیشن (Portfolio Diversification): اپنا تمام سرمایہ ایک ہی سیکٹر میں نہ لگائیں۔

  2. کیش پوزیشن (Cash Position): ہمیشہ کچھ نقد رقم ہاتھ میں رکھیں. تاکہ جب مارکیٹ نچلی سطح پر مستحکم ہو، تو اچھے شیئرز سستے داموں خریدے جا سکیں۔

  3. پینک سیلنگ سے گریز: اگر آپ نے طویل مدت (Long Term) کے لیے سرمایہ کاری کی ہے. تو روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اتار چڑھاؤ سے پریشان ہو کر گھاٹے میں شیئرز نہ بیچیں۔

حرف آخر.

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ مندی مکمل طور پر عالمی سیاسی حالات اور غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ 2.3 فیصد کی گراوٹ بظاہر بڑی لگتی ہے، لیکن یہ مارکیٹ کے قدرتی عمل کا حصہ ہے جسے "کریکشن” (Correction) کہا جاتا ہے۔ ایک سمجھدار سرمایہ کار وہ ہے جو جذبات کے بجائے اعداد و شمار پر بھروسہ کرے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ مزید گرے گی یا یہ خریداری کا بہترین وقت ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور شیئر کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button