PSX میں شدید مندی، KSE100 چار ہزار پوائنٹس سے زائد گر گیا، عالمی کشیدگی سے سرمایہ کاروں میں خوف.
Rising Oil Prices, US-Iran Tensions and Investor Panic Trigger Massive Sell-Off at Pakistan Stock Exchange
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں جمعرات کا دن سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی بھاری ثابت ہوا. جہاں Pakistan Stock Exchange KSE100 Crash Geopolitical Tensions کی وجہ سے مارکیٹ میں زبردست فروخت کا دباؤ (Selling Pressure) دیکھا گیا۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 4,100 پوائنٹس سے زائد گر گیا، جس نے حالیہ دنوں میں ہونے والی ریکوری کو مکمل طور پر زائل کر دیا۔
اس غیر معمولی گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی سطح پر خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں اضافہ اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ شامل ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی کشیدگی کم نہ ہوئی اور تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو KSE100 مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ تاہم ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی واپسی اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل مارکیٹ کو دوبارہ سہارا دے سکتا ہے۔ آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے. کہ آیا PSX حالیہ بحران سے نکل کر نئی بلندیوں کی طرف جائے گی. یا مزید اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کا امتحان لیتا رہے گا۔
مختصر خلاصہ.
-
بڑی گراوٹ: KSE100 انڈیکس میں 4,100 پوائنٹس (تقریباً 2.3 فیصد) کی کمی واقع ہوئی. جس سے انڈیکس 174,741 کی سطح پر آگیا۔
-
عالمی عوامل: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد (Investor Sentiment) کو ٹھیس پہنچائی۔
-
سیکٹرز پر اثر: سیمنٹ، بینکنگ، فرٹیلائزر، اور آئل اینڈ گیس جیسے بڑے شعبوں کے شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
-
نجکاری کی پیشرفت: مارکیٹ میں مندی کے باوجود، حکومت نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
مارکیٹ میں اس قدر بڑی مندی کیوں آئی؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اچانک آنے والی اس مندی کی سب سے بڑی وجہ عالمی سیاسی عدم استحکام (Geopolitical Uncertainty) ہے۔ جب بھی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں جنگ یا کشیدگی کے بادل منڈلاتے ہیں. تو سرمایہ کار "محفوظ پناہ گاہوں” (Safe Havens) جیسے کہ سونا (Gold) یا امریکی ڈالر کی طرف رجوع کرتے ہیں. اور اسٹاک مارکیٹ جیسے پرخطر اثاثوں سے پیسہ نکال لیتے ہیں۔
ایسماعیل اقبال سیکورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ، سعد حنیف کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مارکیٹ کے جذبات کو منفی کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر منحصر ہے. معاشی خدشات بڑھا دیے ہیں۔

عالمی حالات اور تیل کی قیمتوں کا تعلق
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست پاکستان کے تجارتی خسارے (Trade Deficit) اور افراط زر (Inflation) پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے، تو کمپنیوں کے پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں. جس سے ان کے منافع میں کمی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیکس کے بڑے اسٹاکس جیسے کہ HUBCO, OGDC, PPL, اور PSO میں شدید فروخت دیکھی گئی۔
مزید برآں، فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے حالیہ منٹس (Minutes) سے یہ اشارہ ملا ہے کہ امریکی مرکزی بینک فی الحال شرح سود (interest rates) میں کمی کی جلدی میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ڈالر کی قدر مستحکم ہوئی ہے. جس نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں (Emerging Markets) بشمول پاکستان سے سرمائے کے انخلاء کا ڈر پیدا کر دیا ہے۔
متاثرہ سیکٹرز اور کمپنیوں کا جائزہ
مندی کا یہ ریلا اتنا شدید تھا کہ کوئی بھی بڑا سیکٹر اس کی زد سے نہ بچ سکا۔ ذیل کے ٹیبل میں ان اہم شعبوں اور کمپنیوں کی تفصیل دی گئی ہے جنہوں نے انڈیکس کو نیچے گرانے میں اہم کردار ادا کیا:
| سیکٹر (Sector) | متاثرہ کمپنیاں (Key Stocks) | اثرات کی وجہ (Reason) |
| توانائی (Power & Energy) | HUBCO, KEL | ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور گردشی قرضے |
| تیل و گیس (Oil & Gas) | OGDC, PPL, MARI | عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مارجن کا دباؤ |
| بینکنگ (Commercial Banks) | MCB, MEBL, NBP | معاشی غیر یقینی اور شرح سود کا منظرنامہ |
| سیمنٹ (Cement) | LUCK, DGKC | کوئلے کی قیمتیں اور تعمیراتی لاگت میں اضافہ |
یہ کمپنیاں "انڈیکس ہیوی ویٹ” کہلاتی ہیں، یعنی ان کی قیمت میں معمولی سی تبدیلی بھی مجموعی انڈیکس پر بڑا اثر ڈالتی ہے۔ جب ان تمام کمپنیوں میں ایک ساتھ فروخت شروع ہوئی، تو مارکیٹ سنبھل نہ سکی۔
کیا یہ صرف مقامی مسئلہ ہے؟ (دیگر مارکیٹس کا حال)
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں پاکستان کی مارکیٹ کریش کر رہی تھی. وہاں ایشیا کی دیگر مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ جاپان کا Nikkei اور جنوبی کوریا کا Kospi مثبت زون میں رہے. جس کی بڑی وجہ وال اسٹریٹ (Wall Street) پر ٹیکنالوجی کمپنیوں، خاص طور پر میٹا (Meta) اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی نئی ڈیلز تھیں۔
تاہم، چین اور تائیوان میں قمری نئے سال (Lunar New Year) کی تعطیلات کی وجہ سے ٹریڈنگ کا حجم کم رہا۔ پاکستان کی مارکیٹ کا عالمی رجحان سے ہٹ کر اس قدر گرنا ظاہر کرتا ہے. کہ ہمارے ہاں مقامی سیاسی اور معاشی ڈھانچے کی کمزوریاں بیرونی جھٹکوں کو زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہیں۔
نجکاری کی کوششیں اور مستقبل کا منظرنامہ
ایک طرف جہاں مارکیٹ میں مندی کا راج تھا. دوسری طرف حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کی کوششیں جاری رہیں۔ نجکاری کمیشن بورڈ (PC Board) نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کے حوالے سے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ محمد علی (ایڈوائزر برائے نجکاری) کی زیرِ صدارت، ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے. جو ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ساتھ فنانشل ایڈوائزری سروسز ایگریمنٹ (FASA) کے شرائط و ضوابط طے کرے گی۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ: اب کیا کریں؟
اسٹاک مارکیٹ میں 10 سالہ تجربے کی بنیاد پر، ایسی صورتحال میں گھبرا کر شیئرز بیچنا (Panic Selling) اکثر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ مارکیٹ ہمیشہ سیدھی لکیر میں اوپر نہیں جاتی۔ بدھ کے روز مارکیٹ نے ایک شاندار ریکوری دکھائی تھی. لیکن عالمی حالات نے اس تیزی کو عارضی ثابت کر دیا۔
-
صبر اور مشاہدہ: جب مارکیٹ 4,000 پوائنٹس گرے، تو یہ وقت جارحانہ خریداری کا نہیں. بلکہ انتظار کرنے کا ہوتا ہے کہ مارکیٹ کہاں جا کر رکتی ہے (Bottom Fishing)۔
-
بنیادی طور پر مضبوط اسٹاکس: صرف ان کمپنیوں پر توجہ دیں جن کے منافع (Earnings) اچھے ہیں اور جو باقاعدگی سے ڈیویڈنڈ (Dividend) دیتی ہیں۔
-
پورٹ فولیو ڈائیورسٹی: اپنا تمام سرمایہ ایک ہی سیکٹر میں نہ لگائیں۔
اختتامیہ.
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ کریش Pakistan Stock Exchange KSE100 Crash Geopolitical Tensions کی وہ کڑی ہے جو عالمی سیاسی منظرنامے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ 4,100 پوائنٹس کی گراوٹ بظاہر خوفناک ہے. لیکن یہ مارکیٹ کے ایک بڑے "کریکشن” (Correction) کا حصہ بھی ہو سکتی ہے جو ضرورت سے زیادہ تیزی کے بعد آتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے بجائے طویل مدتی معاشی اشاریوں پر نظر رکھیں. اور کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے ٹیکنیکل سپورٹ لیولز کا جائزہ لیں۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ KSE100 انڈیکس جلد ہی 180,000 کی سطح کو دوبارہ عبور کر لے گا. یا مشرقِ وسطیٰ کے حالات مارکیٹ کو مزید نیچے لے جائیں گے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



