KSE100 کی تاریخ ساز گراوٹ، PSX پر Geopolitical Uncertainty اور Oil Prices کا دباؤ

A sharp KSE100 plunge rattles PSX as Geopolitical Uncertainty and Oil Prices reshape investor sentiment

PSX کے لیے جمعرات کا دن ایک ڈراونا خواب ثابت ہوا. جہاں KSE100 Index Crash and Geopolitical Uncertainty کے سائے میں مارکیٹ بری طرح لڑکھڑا گئی۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی (Geopolitical Tensions) اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کے حوصلے پست کر دیے. جس کے نتیجے میں انڈیکس میں 6,000 سے زائد پوائنٹس کی تاریخی کمی دیکھی گئی۔ اس تحریر میں ہم ان اسباب کا تفصیلی جائزہ لیں گے. جنہوں نے PSX کو اس نہج پر پہنچایا۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • تاریخی گراوٹ: KSE100 انڈیکس 6,042 پوائنٹس (3.21%) کی کمی کے ساتھ 182,338 پر بند ہوا۔

  • بنیادی وجوہات: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ مندی کی اہم ترین وجوہات رہیں۔

  • شرح سود کا خدشہ: ماہرین کے مطابق غیر یقینی حالات کی وجہ سے شرح سود (interest Rates) میں کمی کا عمل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔

  • کمزور کارپوریٹ نتائج: فوجی فرٹیلائزر (FFL) کے توقع سے کم مالیاتی نتائج نے بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا۔

PSX کی صورتحال: کیا ہوا اور کیسے ہوا؟

جمعرات کے PSX کا آغاز ہی کمزوری کے ساتھ ہوا تھا۔ ابتدائی گھنٹوں میں سرمایہ کار محتاط نظر آئے. لیکن جیسے جیسے دن گزرتا گیا، فروخت کا دباؤ (Selling Pressure) بڑھتا چلا گیا۔ دوپہر کے وقت مارکیٹ میں پینک سیلنگ (Panic Selling) دیکھی گئی جس نے KSE100 کو 181,961 کی نچلی سطح تک گرا دیا۔ اگرچہ آخری گھنٹے میں معمولی ریکوری ہوئی. لیکن مارکیٹ سنبھل نہ سکی۔

PSX میں اتنی بڑی مندی کی اصل وجہ کیا تھی؟

مارکیٹ میں اس بڑی گراوٹ کی بنیادی وجہ KSE100 Index Crash and Geopolitical Uncertainty ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں نے سرمایہ کاروں کو "رسک آف” (Risk-Off) موڈ میں دھکیل دیا ہے. جہاں وہ خطرناک اثاثوں (Stocks) سے نکل کر محفوظ اثاثوں (Gold/Physical assets) کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

عالمی اثرات اور خام تیل کی قیمتیں

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے. تیل کا مہنگا ہونا مہنگائی (Inflation) میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

میرے دس سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں گرج چمک ہوتی ہے. پاکستانی مارکیٹ سب سے پہلے ردعمل دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں صرف $5 کا اضافہ بھی ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (Current Account Deficit) کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے. اور PSX کے بڑے پلیئرز اس خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں۔

شرح سود اور افراط زر کا تعلق

اسماعیل اقبال سیکورٹیز کے ریسرچ ہیڈ سعد حنیف کے مطابق، جیو پولیٹیکل صورتحال اور تیل کی قیمتوں نے ان توقعات کو ختم کر دیا ہے. کہ اسٹیٹ بینک جلد شرح سود میں کمی کرے گا۔ جب تیل مہنگا ہوگا، تو Inflation بڑھے گی، اور جب مہنگائی بڑھے گی. تو مرکزی بینک ڈسکاؤنٹ ریٹ (Discount Rate) کو برقرار رکھنے یا بڑھانے پر مجبور ہوگا۔

اندرونی عوامل: کارپوریٹ نتائج اور تجارتی خدشات

صرف عالمی حالات ہی ذمہ دار نہیں تھے. بلکہ مقامی سطح پر بھی کچھ منفی خبروں نے مارکیٹ کا رخ متعین کیا۔

  1. کمزور مالیاتی نتائج (Weak Financial Results): مارکیٹ کے ہیوی ویٹ اسٹاک "فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ” (FFL) کے نتائج سرمایہ کاروں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ جب مارکیٹ کے لیڈرز پرفارم نہیں کرتے. تو پورے سیکٹر میں مایوسی پھیلتی ہے۔

  2. بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدہ (India-EU FTA): پاکستانی برآمد کنندگان (Exporters) کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے. کہ اگر بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ ہو جاتا ہے. تو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک طویل مدتی اسٹرکچرل رسک (Structural Risk) ہے. جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

عالمی مارکیٹس کا موازنہ

پاکستان اکیلا اس بحران کا شکار نہیں رہا۔ جمعرات کو ایشیائی مارکیٹس (Asian markets) میں بھی تھکاوٹ دیکھی گئی۔ ٹیک سیکٹر کے ملے جلے نتائج اور ایپل (Apple) کے نتائج سے قبل سرمایہ کاروں نے منافع خوری (Profit Taking) کو ترجیح دی۔ دوسری طرف، سونے اور چاندی کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں. جو اس بات کی علامت ہے. کہ عالمی سرمایہ کار اس وقت شدید خوف کا شکار ہیں۔

تکنیکی تجزیہ اور مستقبل کی حکمت عملی (Technical Analysis & Outlook)

ٹیکنیکل پوائنٹ آف ویو سے دیکھا جائے تو 182,000 کی سطح ایک اہم سپورٹ (Support) کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر انڈیکس اس سے نیچے بند ہوتا ہے تو اگلا ہدف مزید 3,000 سے 4,000 پوائنٹس کی گراوٹ ہو سکتا ہے۔

KSE100 as on 29th January 2026 after PSX Witnessed Panic Selling amid Geopolitical Tensions
KSE100 as on 29th January 2026 after PSX Witnessed Panic Selling amid Geopolitical Tensions

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ (Expert Advice)

موجودہ حالات میں "ویٹ اینڈ واچ” (Wait and Watch) کی پالیسی بہترین ہے۔ جب تک جیو پولیٹیکل دھول نہیں بیٹھ جاتی. نئی پوزیشنز بنانے سے گریز کریں۔

PSX میں ‘باٹم فشنگ’ (Bottom Fishing) یا گرتی ہوئی چھری کو پکڑنے کی کوشش اکثر نقصان دہ ہوتی ہے۔ 2020 کے کریش کے دوران بھی بہت سے ریٹیل ٹریڈرز نے جلد بازی میں خریداری کی اور مزید گراوٹ کا شکار ہوئے۔ پیشہ ورانہ طریقہ یہ ہے کہ مارکیٹ کو ایک مستحکم بنیاد (Consolidation Phase) بنانے دیں، پھر انٹری لیں۔

خلاصہ کلام

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ گراوٹ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ عالمی اور مقامی عوامل کا ایک مجموعہ ہے۔ KSE100 Index Crash and Geopolitical Uncertainty نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہماری مارکیٹ عالمی تیل کی قیمتوں اور خطے کی سیاست سے کس قدر جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ شارٹ ٹرم میں صورتحال ابتر نظر آتی ہے. لیکن لانگ ٹرم سرمایہ کاروں کے لیے ایسی ہی مندی بہترین کمپنیوں کے شیئرز سستے داموں خریدنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ PSX یہاں سے مزید نیچے جائے گی. یا یہ خریداری کا بہترین وقت ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

کیا آپ مارکیٹ کے اگلے موو کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟ ہمارے ہفتہ وار مارکیٹ آؤٹ لک کو سبسکرائب کریں تاکہ آپ بروقت باخبر رہ سکیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button