PSX میں Profit-Taking کا دباؤ، KSE100 تاریخی 175,000 کا لیول برقرار نہ رکھ سکا

Volatility Returns to PSX Despite Strong GDP Growth and Global Equity Optimism

پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX نے بدھ کے روز ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا. جب بینچ مارک KSE100 انڈیکس پہلی بار 175,000 کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ تاہم، مارکیٹ کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی. اور جلد ہی انڈیکس میں گراوٹ دیکھی گئی۔ یہ بلاگ پوسٹ آپ کو بتائے گی کہ مارکیٹ میں اس اتار چڑھاؤ کی اصل وجوہات کیا ہیں. اور موجودہ معاشی صورتحال میں سرمایہ کاروں کو کیا قدم اٹھانے چاہئیں۔

اہم نکات (Key Highlights)

  • تاریخی سنگ میل: KSE-100 انڈیکس نے انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 175,232 کی سطح کو چھو کر نیا ریکارڈ بنایا۔

  • منافع کی وصولی (Profit Taking): بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سرمایہ کاروں نے شیئرز بیچ کر منافع کمانے کو ترجیح دی. جس سے مارکیٹ نیچے آگئی۔

  • معاشی اشارے: پاکستان کی جی ڈی پی (GDP) شرح نمو پہلی سہ ماہی میں 3.71% ریکارڈ کی گئی. جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہے۔

  • عالمی اثرات: ایشیائی مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان اور امریکی فیڈرل ریزرو کے منٹس نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا کی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کیا ہوا؟ 

بدھ کے روز مارکیٹ کا آغاز انتہائی مثبت ہوا. اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بدولت KSE100 انڈیکس 175,000 کی حد عبور کر گیا۔ لیکن جیسے ہی انڈیکس 175,232 پر پہنچا، مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ (Selling pressure) بڑھ گیا۔ دوپہر ایک بجے تک انڈیکس 406 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 174,066 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

اس گراوٹ کی بڑی وجہ پرافٹ ٹیکنگ (profit-taking) تھی. جہاں سرمایہ کاروں نے سوچا کہ مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح پر ہے. اور اب قیمتیں نیچے آسکتی ہیں. لہذا انہوں نے اپنے پاس موجود اسٹاکس بیچنا شروع کر دیے۔

مارکیٹ میں جب بھی کوئی بڑی نفسیاتی حد (Psychological level) جیسے کہ 175,000 ٹوٹتی ہے. تو عموماً ریٹیل سرمایہ کار جوش میں آکر خریداری کرتے ہیں. جبکہ تجربہ کار انسٹیٹیوشنل پلیئرز اسی وقت اپنا منافع سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے 10 سالہ تجربے میں دیکھا ہے. کہ ‘Historic Highs’ پر ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے. کیونکہ یہاں سے ریورسل (Reversal) کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

منافع کی وصولی (Profit Taking) کیوں ضروری ہے اور یہ مارکیٹ کو کیسے متاثر کرتی ہے؟

پرافٹ ٹیکنگ وہ عمل ہے جس میں سرمایہ کار اپنے حصص (shares) اس وقت بیچ دیتے ہیں. جب ان کی قیمت بڑھ چکی ہوتی ہے تاکہ وہ نقد منافع حاصل کر سکیں۔ جب مارکیٹ میں خریداروں سے زیادہ بیچنے والے (Sellers) آ جائیں. تو سپلائی بڑھنے کی وجہ سے قیمتیں گرنا شروع ہو جاتی ہیں. جس سے انڈیکس نیچے آ جاتا ہے۔

آج کے سیشن میں آٹوموبائل، کمرشل بینکوں اور ریفائنری سیکٹرز میں شدید فروخت دیکھی گئی۔ بڑے نام جیسے کہ HBL، MCB، HUBCO اور ARL کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

اہم اسٹاکس (Top Stocks) صورتحال (Status) وجہ (Reason)
HBL / MCB سرخ (Red) بینکنگ سیکٹر میں منافع کی وصولی
HUBCO سرخ (Red) پاور سیکٹر میں فروخت کا دباؤ
ARL / NRL سرخ (Red) ریفائنری سیکٹر میں مندی کا رجحان

ملکی معیشت کی مثبت رپورٹ: جی ڈی پی (GDP) میں بہتری

وفاقی وزیر احسن اقبال کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی معیشت نے 3.71% کی شرح سے ترقی کی ہے۔ یہ گزشتہ سال کی اسی مدت (2.15%) کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے. کہ اگر جی ڈی پی کی گروتھ اسی طرح جاری رہی. تو طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے۔

عالمی مارکیٹ کے رجحانات (Global Market Trends)

سال کا آخری دن ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹوں میں لین دین کا حجم (Trading Volume) کم ہے۔

  • ایشیائی مارکیٹس: جاپان کی مارکیٹیں بند ہیں. جبکہ چین اور ہانگ کانگ میں ملا جلا رجحان رہا۔

  • امریکی فیڈرل ریزرو: فیڈرل ریزرو کے منٹس سے ظاہر ہوتا ہے. کہ شرح سود (Interest Rates) کے حوالے سے پالیسی سازوں میں اختلاف ہے. جس کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں کمی اور دیگر کرنسیوں میں استحکام دیکھا گیا۔

  • جنوبی کوریا (Kospi): یہ اس سال کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹ رہی. جس میں 76% اضافہ ہوا. خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور AI کمپنیوں کی وجہ سے۔

سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی: اب کیا کرنا چاہیے؟ (Investment Strategy)

مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، سرمایہ کاروں کو "انتظار کرو اور دیکھو” (wait and watch) کی پالیسی اپنانی چاہیے۔

  • سٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال کریں: مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ (Volatility) سے بچنے کے لیے ہمیشہ سٹاپ لاس لگائیں. تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

  • سیکٹر کی تبدیلی (Sector Rotation): ان سیکٹرز پر نظر رکھیں جہاں ابھی تیزی آنا باقی ہے. بجائے اس کے کہ ان اسٹاکس میں پھنس جائیں. جو پہلے ہی بہت مہنگے ہو چکے ہیں۔

  • بنیادی تجزیہ (Fundamental Analysis): صرف افواہوں پر نہیں بلکہ کمپنی کی کارکردگی اور معاشی ڈیٹا کو دیکھ کر فیصلہ کریں۔

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ نو آموز ٹریڈرز گرتی ہوئی مارکیٹ میں ‘باٹم فشنگ’ (Bottom Fishing) کی کوشش کرتے ہیں. یعنی وہ سوچتے ہیں کہ KSE100 کی قیمت اب مزید نہیں گرے گی۔ لیکن یاد رکھیں، ایک ٹرینڈ کے خلاف ٹریڈ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ جب تک مارکیٹ کسی سپورٹ لیول (support level) پر ٹھہراؤ نہ دکھائے. بڑی انٹری لینے سے گریز کریں۔

KSE100 Index failed to maintain 175000 level after Profit taking in PSX
KSE100 Index failed to maintain 175000 level after Profit taking in PSX

حرف آخر. 

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 175,000 کی حد کو چھونا معیشت کے لیے ایک مثبت پیغام ہے. لیکن موجودہ منافع کی وصولی (Profit-Taking) یہ ظاہر کرتی ہے. کہ مارکیٹ کو مزید اوپر جانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد (Consolidation) کی ضرورت ہے۔ جی ڈی پی کے بہتر اعداد و شمار اور عالمی مارکیٹ میں استحکام آنے والے دنوں میں PSX کو دوبارہ نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ KSE100 انڈیکس جنوری 2026 میں 180,000 کی سطح عبور کر پائے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button